ملک کی شوگر انڈسٹری پر کنٹرول  ہمیشہ سیاسی رہنماؤں کا ہی رہا!

ملک کی شوگر انڈسٹری پر کنٹرول  ہمیشہ سیاسی رہنماؤں کا ہی رہا!

  

پاکستان کی آزادی کے بعد ہونے والی 1951 کی مردم شماری کے مطابق 75 ملین لوگ خوش حال زندگی گزار رہے تھے شوگر کی کل 2 ملز تھیں پنجاب اور دوسری خیبر پختونخوا میں تھیں۔کاروبار کی بحالی کا روشن امکان تھا عوام میں جذبہ تھا ایک لگن تھی وطن کی مٹی کے ساتھ وفا تھی پاکستان دن رات ترقی کر رہا تھا دنیا پاکستان کی ترقی سے خوفزدہ تھی ہمسایہ دوست ممالک بہت خوش تھے ہر طرح کا ساتھ دے رہے تھے چند سیاسی خاندانوں نے اپنے دیس سے پیار کرنے سے منہ موڑ لیا اپنوں کی نا اہلیوں اور غلط فیصلوں نے غیروں کے فیصلوں کو مسلط ہونے کی اجازت دی اس کے بعد عوامی استحصال تھم نہ سکا سرمایہ دار سیاسی بنتے گئے۔ اقتدار کے حصول کے لیے انسانی قدروں کو پامال کیا جانے لگا جس کی عوام متحمل نہیں تھی۔ اس خصوصی رپورٹ میں شوگر انڈسٹری پر کیے گئے اقدامات پر بات کریں گے جس کی وجہ سے عوام مشکل میں ہیں۔ اداروں کی نا اہلی سے حکومت بلیک میل ہوتی ہے اور اس کا اثر عوام برداشت کرتی ہے۔ پاکستان کی ہر سیاسی جماعت کو اپنے ادوار میں بحرانوں کا سامنا رہا لیکن شوگر انڈسٹری پر کنٹرول سیاسی رہنماؤں کا ہی رہا۔ شوگر انڈسٹری میں پیدا ہونے والے بحران پر روشنی ڈالیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا یہ بحران حقیقی تھے یا ان کو مصنوعی پیدا کیا گیا تھا کیا اس کے ذمہ دار سرمایہ دار ہیں۔ سرمایہ دار کس طرح پاکستان کے قانون کو پامال کرتے ہیں اور کس طرح اپنا منافع ڈبل کرتے ہیں۔ پاکستان میں چینی کے استعمال کے رجحان پر روشنی ڈالیں گے اور دیکھیں گے کہ چینی کے استعمال میں اضافہ کیوں ہے۔ پاکستان میں اس وقت روزانہ ایک مرد 9 چمچہ اور عورت 6 چمچہ شوگر روزانہ استعمال کر رہے ہیں اور سالانہ ایک فرد 25 کلو گرام شوگر استعمال کرتا ہے جس میں 7سے 8 کلو گرام چینی ڈائریکٹ استعمال کرتا ہے اور باقی ان ڈائریکٹ استعمال ہوتی ہے پاکستان کے ساتھ دوسرے ملکوں کا موازنہ کیا جائے تو انڈیا میں 14 کلو، چین میں 12 کلو اور بنگلا دیش میں 10 کلو چینی سالانہ استعمال ہوتی ہے پاکستان میں دن بدن شوگر کی ڈیمانڈ میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے دوسری طرف مارکیٹ میں شوگر کی قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے آج شوگر کی قیمت بلند ترین سطح پر ہے اور حکومت اس کو کنٹرول کرنے میں ناکام نظر آ رہی ہے غریب عوام کی چیخیں نکل رہی ہیں حکومت کی انکوائری رپوٹ پر عمل سست روی کا شکار ہے۔ شوگر انڈسٹری میں اس وقت ٹوٹل 89 ملز ہیں ان میں کافی ملز سیزن میں اپنا آپریشن نہیں کرتی ہیں اس پر بھی بات کریں گے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے اور اس کا منہگائی پر کیا اثر پڑتا ہے۔ عوام میں ایک تصور یہ پایا جاتا ہے کہ سارا کا سارا بحران شوگر انڈسٹری کے مالکان کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے اس تصور کو سمجھنے کے لیے مالکان کے منافع کا تجزیہ کرنا ہو گا منافع تھیوری کو سمجھنے کے لیے شوگر پراسیس کو حصوں میں تقسیم کر کے دیکھنا ہو گا۔

 شوگر انڈسڑی میں پہلا استحصال کاشتکار کا ہوتا ہے کاشتکار گنا کاشت کرتا ہے گنا تیار ہونے کے بعد اس کو سیل ریٹ (production price) مناسب نہیں ملتا اس کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ سستے داموں گنا فروحت کرے کئی کئی دن اس کا مال مل کے باہر سڑ رہا ہوتا ہے حکومت،ملز مالکان اور کاشتکار میں ہمیشہ گنے کے ریٹ پر ڈیڈ لاک ہوتا ہے یہ ڈیڈ لاک ہمیشہ گنے کی کرشنگ کے وقت ہوتا ہے جس کی وجہ سے کرشنگ روک دی جاتی ہے جو کہ شوگر بحران کو جنم دیتی ہے۔اگر حکومت وقت سے پہلے یہ تمام ایشوز حل کر لے تو پیدا ہونے والے بحران سے بچا جا سکتا ہے گنے کا ریٹ بہتر ہو تاکہ کاشتکار زیادہ گنا پیدا کرے۔ پاکستان کے ابتدائی ایام میں کاشتکار خود اپنا گنا مل کو سیلز کرتے تھے اور ملز مالک کاشتکار کی ہر طرح سے مدد کرتے تھے۔ گنے کی پیدوار میں بھی اضافہ ہو رہا تھا سسٹم میں بہتری آ رہی تھی پیداوار میں اضافہ کے ساتھ ہی سیاسی اثرو وسوخ پر شوگر ملز والوں نے اپنی پروڈکشن کی گنجائش کے مطابق خریداری کرنا شروع کر دی جس کی وجہ سے گنے کی فروحت کرنے میں کئی کئی دن مل کے باہر انتظار کرنا پڑتا تھا اس انتظار میں ایک تو وہ ذہنی طور پر بدظن ہو جاتا تھا اور دوسرا اس کے مال کے وزن میں ڈنڈی مارنے کی شکایات تھیں جس کی وجہ سے سارا نقصان کاشکار کو ہوتا تھا۔پہلے ملز کاشتکار کو ایڈوانس میں قرضہ دیتے تھے بیچ، کھاد کی خرید داری میں مدد دیتے تھے۔ پیداوار کے وقت حساب سے قرضہ کاٹ لیا جاتا تھا اب بروکر کی انٹری نے کاشت کار کو لوہے کے چنے چبوا دیئے ہیں بروکر اور مل مالکان کا ایجنڈا صرف کاشتکار سے فائدہ حاصل کرنا ہے۔ اپنے منافع کو تحفظ دینا ہے۔اس وقت پاکستان میں قابل کاشت رقبے کا 5 فیصد گنا کاشت ہوتا ہے جس کی مالیت 300 ارب سے زیادہ بنتی ہے لیکن چقندر کی پیداوار پاکستان میں نہ ہونے کے برابر ہے۔ حکومتی انکوائری رپورٹ کے مطابق 2016-2017 میں 1922.439 ایکڑ ایریا پر گنے کی کاشت کی گئی تھی جس سے 080۔7 میٹرک ٹن شوگر حاصل ہوئی ایف بی آر، صوبائی حکومتوں کے ڈیٹا اور حکومتی انکوائری رپورٹ کے مطابق 2019 سے 2020 کے تیسرے مہینے تک ٹوٹل ایریا 403۔ 1709 ایکڑ کاشت ہوا جس میں 78۔4 ملین میٹرک ٹن شوگر حاصل ہوئی اور اس وقت مارکیٹ کی ڈیمانڈ 3۔5 ملین میٹرک ٹن ہے۔ پیچھے سالوں سے اس سال 2019-2020  میں گنا کی پیداوار 44۔19 فیصد کم ہوئی اس وقت ٹوٹل 18 ملز آپریشن کر رہی تھیں شوگر پیداوار میں کمی ہوئی عمران حکومت بھی اس بحران سے نہ بچ سکی حکومت وقت نے انکوائری کا حکم دیا انکوائری کمیٹی کی رپوٹ کے 12 نکات پر اپنا کام شروع کیا وفاق اور صوبوں سے شوگر کی ایکس مل قیمت کو کیلکولیٹ کرنے کا طریقہ معلوم کیا تو پتہ چلا کہ پچھلی حکومتوں نے کبھی اس پر کام ہی نہیں کیا تھا انکوائری کمیٹی نے ایک فارمولا پاکستان شوگر مل ایسوسی ایشن اور سی سی پی کو بنا کر دیا جس میں قیمت کے تعین کا طریقہ کار تھا لیکن شوگر کین کی قیمت پر اختلافات ہمیشہ رہے جو ابھی تک قائم ہیں۔ کسانوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی وجہ سے آہستہ آہستہ کسانوں نے روزمرہ کی سبزیوں اور کپاس کو کاشت کرنا شروع کر دیا جس کو فوری کیش کر کے وہ اپنا بزنس چلا رہے ہیں۔ کاشتکار کے ساتھ ناانصافی ہونے کی بری وجہ حکومتیں خود تھیں حکومت کی رٹ نہ ہونے کی وجہ سے استحصال معمول بن گیا کین کمشنر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا جس کی وجہ سے حکومت کو اربوں روپے ٹیکس کے نقصان کا سامنا ہے اس کی بنیادی وجہ شوگر انڈسٹری میں زیادہ ملز کے مالک سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہیں اداروں کو اپنے سیاسی دباؤ میں رکھا ہوا ہے جس کی وجہ سے پچھلی حکومتوں نے اس مسئلہ کو مسئلہ نہیں سمجھا سرمایہ داری نظام میں تاجر کو ہمیشہ اپنا منافع اچھا لگتا ہے اور وہ اس کو ڈبل کرنے کی ڈور میں رہتا ہے۔ تاجر کے اس عمل پر نظر رکھنا حکومت کا کام ہوتا ہے جس میں پچھلی اور موجودہ حکومت ناکام نظر آئی۔ حکومتی انکوائری کمیٹی کے مطابق اس وقت بھی 6 گروپس 51 فیصد رسد پر اپنا قبضہ کیا ہوئے ہیں۔ سی سی پی کی رپوٹ کے مطابق اگر ملز والے چینی کی ایک 1 روپیہ قیمت فی کلو گرام بڑھاتے ہیں تو وہ ایک ماہ میں 450 ملین روپے کماتے ہیں چینی کا استعمال ایوریج 450۔ ملین میٹرک ٹن بنتا ہے اس طرح کی مناپلی کو روکنا حکومت وقت اور اداروں کا کام ہے دوسری طرف کچھ ملز نے زیادہ پروڈکشن حاصل کرنے کے لیے اپنی ملز کو دوسرے علاقوں میں شفٹ کیا کیوں کہ رحیم یار خان کے علاقے میں شوگر کی ریکووی بہتر ہے۔ذرائع کے مطابق 100 کلو گنا کریش کیا جائے تو اس میں 8 سے 9 کلو شوگر کی ریکوری ہوتی ہے لیکن رحیم یار خان کے علاقے میں وہی ریکوری 10 کلو گرام ہو جاتی ہے۔ ایک شوگر مل 24 گھنٹے چلنے کے بعد 30000 ہزار ٹن گنا کریش کرتی ہے روزانہ کی بنیاد پر 40 سے 50 ہزار بوری تیار ہوتی ہے حکومتی انکوائری رپورٹ کے مطابق خام مال " گڑ "جو کہ حکومتی کھاتے میں رجسٹر نہیں ہوتی اس کو بھی انڈر انوائس کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے تیار شوگر کو انڈر انوائس آرام سے کیا جا سکتا ہے جس سے حکومت کو ٹیکسز کی وصولی کم حاصل ہوتی ہے حکومتی کھاتے میں اندراج کی کمی کی وجہ سے شوگر مالکان چینی کی قیمت بڑھا کر اپنا منافع ڈبل کر رہے ہیں حکومت کے نامزد کین کمشنر اپنا کام نہیں کرتے اداروں کے سیاسی ہونے اور غلط پلاننگ سے سبسڈی دینی پڑتی ہے پچھلے 5 سالوں میں 29 ارب روپے سبسڈی دی گئی جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ تھا۔گنے سے لے کر شوگر کی پروڈکشن تک کے سسٹم کو انڈر انوائس کیا جاتا ہے جس سے حکومت کو ٹیکسز کی مد میں اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ شوگر انڈسٹری کے مالکان سرمایہ دار تاجر ہیں جو اپنے کاروبار کی ہر اونچ نیچ،درآمد اور برآمد پر اپنی گرفت کو مضبوط کئے ہوئے ہیں شوگر انڈسٹری کی تو چٹ بھی اپنی اور پٹ بھی اپنی والا حساب ہے کون ان سے سوال کرے گا؟؟ اس سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بھی تو حساب نہیں۔ مالک کے لیے تو یہ سونا ہے۔شوگر انڈسٹری کا تو کچرا بھی بکتا ہے حضور پھر عوام پر ظلم کیسا؟ شوگر پراسس سے بچ جانے والے میٹریل کی سیل سے ایک اچھی رقم حاصل کی جا رہی ہے لیکن حاصل رقم انکم اسٹیٹمنٹ میں نہیں دیکھی جاتی اگر چینی کی قیمت کا سہی تعین کیا جائے تو یقیناً قیمت میں کمی ہو گی بڑھتی ہوئی قیمت پر حکومت نے انکوائری کمیشن بنایا جب عوام بے بس ہو گئے۔حکومت کے اپنے رہنما اس چور بازاری میں ملبوس پائے گئے۔ عمران خان کے اقدام سے عوام کو کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوا اور آج بھی چینی کی قیمت عوامی کنٹرول سے باہر ہے۔ عوامی آگاہی کا بہت کردار ہے۔

عوامی آگاہی کے حوالے سے پاکستان کنزیومر ایسوسی ایشن کے صدر کوکب اقبال سے رابطہ کیاتو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے چینی کے کم استعمال کے حوالے سے سوشل میڈیا پر مہم چلائی ہے، جس کا اچھا فیڈ بیک ملا ہے ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر اداروں میں کنزیومر آگاہی پر لیکچر دیتا ہوں۔ سندھ حکومت کے کمشنر اور ایڈمنسٹریٹر کے ساتھ رابطہ رکھتا ہوں اور ہر وقت صارف کے مسائل سے متعلق بات چیت ہوتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت وقت سے صارف کی رہنمائی کے حوالے سے ایک منسٹری کی بھی بات کی ہے اگر صارف کو اشیاء کے استعمال کے فوائد اور نقصانات کی آگاہی فراہم کی جائے تو کاروباری مافیا کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔

 انکوائری رپورٹ کے مطابق 2018 میں شوگر ایکسپورٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ اس وقت کے سیکرٹری فوڈ اینڈ سکیورٹی کے خدشات کو مد نظر رکھ لیتے تو حکومت ایک بڑے بحران سے بچ جاتی اور چینی کا شارٹ فال نہ ہوتا۔ 

شوگر انڈسٹری کا موقف جانے کے لیے پاکستان شوگر ملز ایسوسی کے بریگیڈیئر (ر)ندیم انور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کمیونیکیشن سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ 80 فیصد چینی کا ریٹ حکومت وقت خود فائنل کرتی ہے اس میں شوگر ملز کا کردار اتنا زیادہ نہیں ہے ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت چینی کو امپورٹ کر رہی ہے لیکن اس کی قیمت باہر ممالک میں ابھی بھی پاکستان سے زیادہ ہے حکومت ٹیکسز میں چھوٹ دے کر امپورٹر کو امپورٹ کی اجازت دے رہی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر مقامی انڈسٹری کو یہی چھوٹ دی جاتی تو اندازے کے مطابق 5 سے 7 روپے فی کلو گرام چینی سستی ہو سکتی تھی۔چقندر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ صرف ایک المعیز شوگر مل چقندر سے چینی بنا رہی ہے جس کی پیداوار 30 ہزار ٹن ہے بریگیڈیئر (ر)ندیم انور نے کہا کہ حکومت کو امپورٹر سے سرٹیفکیٹ آف اوریجن بھی لینا چایے اور اس کے ساتھ ٹریکنگ آئی ڈی،حلال سرٹیفکیٹ بھی حاصل کرنا چاہیے تاکہ پتہ چل سکے کہ امپورٹر کس ملک سے چینی امپورٹ کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ شوگر انڈسٹری میں 1 ملین سے زیادہ لوگ وابستہ ہیں اور 1 لاکھ سے زیادہ لوگ اپنا روزگار کما رہے ہیں۔شوگر انڈسٹری پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے سب سے زیادہ ٹیکس شوگر انڈسٹری ادا کر رہی ہے۔سندھ کے شوگر کین کمشنر سے رابطہ کیا گیا لیکن انہوں نے وقت کی کمی ظاہر کی اور اگلے دن میں ان کا تبادلہ ہوگیا۔حکومت پنجاب نے شوگر ایکٹ 1950 میں ترمیم کر کے شوگر ملز اور بروکرز کو پابند کر دیا ہے۔ بروکرز اب گنے کی خریداری کے بجٹ کا 1 کروڑ روپے یا بینک گارنٹی ادا کرنے کا پابند ہو گا پنجاب حکومت نے ترمیم کرتے ہوئے بروکر اپنے مال یعنی گنا اسی علاقہ سے خریدے گا جہاں کا وہ پابند ہو گا اور جس مل کا وہ بروکر ہو گا اسی مل کی سی پی آر بھی جاری کرے گا اس کے ساتھ پنجاب حکومت نے بیلنا پر سے بھی پابندی ہٹا دی ہے پنجاب کے کین کمشنر زمان وٹو سے کاشتکار کی پیمنٹ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر معلوم ہوا کہ 1950 شوگر ملز ایکٹ کے مطابق 15 دن میں ملز کاشتکار کو واجب الادا رقم دینے کی پابند ہے اور غیر قانونی کنڈا قائم کرنے اور چلانے کی سزا 3 سال اور 50 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں بھی چند ملز پر 15-9-2020 تک واجب ادا قرضہ کی رقم 76۔ 580 ملین ہے اور نزاع عدالت یا لاء سوٹ 5۔ 1108 ملین روپے ہے کمشنر زمان ووٹو کا کہنا ہے کہ ملز مالکان کو نوٹس جاری کر رہے ہیں تاکہ کاشتکار کو پیمنٹ یقینی بنائی جائے۔سندھ گروور الائنس کے صدر نواب زبیر تالپور نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ کاشت کار کو 1998 کے کوالٹی پریمیم کمیشن کی رقم ابھی تک نہیں ملی جس پر کورٹ سے کیس نمبر سی پی نمبر: 3458 سی پی نمبر 1364 ٹو1369 کو 1998 میں سندھ ہائی کورٹ سے مدد مانگی۔ کاشتکار کو 40 کلو گنا پر 36 پیسہ کمیشن ملتا تھا سن 1999 کو سندھ حکومت نے اس کی قیمت 50 پیسہ بڑھا دی تھی شوگر ملز والوں نے ہائی کورٹ سے اسٹے آرڈر لے لیا اور سپریم کورٹ سے اپیل نمبر 334 سن 2004 میں رجوع کیا جو بعد کیس ہار گئے سب کچھ ہونے کے بعد بھی ابھی تک شوگر ملز مالکان کی طرف سے تمام واجبات ادا نہیں کیے گئے۔ نواب زبیر تالپور کا کہنا تھا کہ 2018- 2019 میں گنے کا ریٹ حکومت سندھ کی طرف سے فائنل نہیں تھا اور کرشنگ شروع کر دی گئی۔ کاشتکار نے گنا 162 روپے کے حساب سے ملز والوں کو دیا اور یہ طے پایا کہ حکومت کی طرف سے جو ریٹ آئے گا اس کے حساب سے کاشتکاروں کو رقم دے دی جائے گی حکومت سندھ نے 40 کلو گنے کا ریٹ 182 روپے رکھ دیا اب 22 روپے فی من کے حساب سے بقیہ رقم آج تک شوگر ملز نہیں دے رہی ہیں۔ ایک ماہ میں لاکھوں ٹن گنا شوگر ملز کو سپلائی کیا گیا تھا اس کی پیمنٹ آج بھی باقی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے ایف آئی آر تک کے اندراج کا آرڈر دیا ہے لیکن شوگر کین کمشنر کی تقرری ایک مسئلہ بنا ہوا ہے کمشنر کو ہر چار دن بعد ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے اس پر بھی سندھ ہائی کورٹ نے حکومت سندھ کو آرڈر جاری کیا تھا کہ کمشنر کی پوسٹنگ کو یقینی بنایا جائے لیکن سندھ حکومت بھی کورٹ کے آرڈر کو ہوا میں اڑا رہی ہے سندھ ہائی کورٹ میں کاشتکار وں نے اپنی شکایات درج کروائی ہوئی ہیں سندھ ہائی کورٹ نے کاشتکاروں اور ملز کو پابند کیا ہے کہ رسید کے بغیر کوئی خرید وفروحت نہیں کی جائیگی۔ کاشتکاروں کو کوالٹی پریمیم کمیشن کے حوالے سے کھاتہ ملز سے ٹیلی کرنے کا حکم دیا تھا لیکن اتنے سال گزارنے کے بعد اب زیادہ تر کاشتکاروں کے پاس ریکارڈ موجود نہیں ہے اور ملز مالکان کا تعاون بھی باقی نہیں رہا 2018 میں سندھ ہائی کورٹ کو شوگر کین کمشنر نے 1012 شکایات جمع کروائی تھی اور بتایا کہ شوگر ملز والوں کو نوٹس جاری کیے ہیں تاکہ کاشتکار کی پیمنٹ کلیئر کی جائے۔ نواب زبیر تالپور کے مطابق ابھی تک کاشت کار اپنی وصولی نہیں کر پا رہے ہیں دوسری طرف حکومت کے شوگر کین کمشنر کی جانب سے بروکرز کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کوئی خاص کام نہیں کیا گیا کیوں کہ سندھ میں کوئی بھی کمشنر زیادہ دیر اپنی ڈیوٹی پر مامور نہیں رہا اس کی پوسٹنگ کر دی جاتی ہے کاشتکاروں کے استحصال کو روکنے پر ملز کے خلاف کیا ایکشن لیتے ہیں اس کا جواب نہیں مل سکا۔ نواب زبیر نے بتایا کہ ملز کی طرف سے بر وقت ادائیگیوں کی رقم نہ ملنے پر کاشت کار اب گنے کی پیداوار پر توجہ نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے شوگر انڈسٹری میں موجود کارٹل اپنا رنگ دکھا جاتے ہیں اور اپنی مرضی کی قیمتیں وصول کرتے ہیں اور کاشتکار سارا نقصان برداشت کر رہا ہے وفاقی حکومت نے بنیادی تبدیلیاں نہیں کیں تو پھر عوام اس طرح پریشان حال رہیں گے۔ اگر حکومت انکوائری رپورٹ پر ہی عمل کروا لے تو بہت اچھا ہو گا لیکن اگر چار بنیادی چیزوں چینی، گندم، گھی، تیل کو ایف بی آر اور این ڈی ایم اے کے سسٹم کے ساتھ منسلک کر دیا جائے تو اس استحصال سے نجات ممکن ہے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -