ہوا، پانی اور زمین  انسانی زندگی کے وجود کی ضامن

ہوا، پانی اور زمین  انسانی زندگی کے وجود کی ضامن

  

پاکستانی قوم خدا تعالیٰ رحیم و غفور کا شکر ادا نہیں کر سکتی کہ تمام خلاف ورزیوں، کوتاہیوں اور ناتمام سرکاری حکمت عملی کے باوجود ہم پر قدرت کا بے پناہ فضل و کرم ہوا اور ایک بڑی تباہی سے ہم بچ گئے۔ Covid 19 یہ جان لیوا وباء ہمارے بہت گوہرِ نایاب ہم سے چھین کر لے گئی اور ہم اپنے دوستوں اور بہت نامور پاکستانیوں سے محروم ہو گئے۔ جو سبق اور اقدامات ہمیں سیکھنا چاہیے تھے وہ ہم اپنی روایات کے مطابق اور کچھ بڑا نہ کرنے کی عادت کو اپناتے ہوئے خاموشی سے زندگی کے ساتھ چلنا شروع کر دیا۔ میں یہاں پر مختصراً چند ضروری اقدامات کی نشاندہی کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو یقینا ہماری قومی،اجتماعی اور انفرادی زندگی کو آئندہ کے لئے صحت مندا ور توانا اور بیماری سے پاک کر دیں گے۔

قدرت نے انسان کو اچھی اور صحت مند زندگی گزارنے کے لئے بنا کسی قیمت کے تین بنیادی عوامل سے نوازا ہے جن کی کوئی قیمت اور بدل موجود نہیں ہے۔ ہوا، پانی اور زمین کے بغیر انسانی زندگی کا وجود قائم نہیں رہ سکتا۔ ان کا صحیح استعمال اور مناسب حالت میں قابل استعمال رکھنا بنیادی حکومتی و انسانی فریضہ ہے۔ آج اگر ہم اپنے ملک میں اب تین قدرتی نعمتوں کا جائزہ لیں تو ہم نے انہیں انسانی استعمال کے قابل نہیں رہنے دیا۔ یہ مایوسی ہماری حکومتی اور شہری فرائض کی انجام دہی کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ 

ہوا، صاف اور تازہ ہوا انسان کی بقاء کے لئے لازمی ہے۔ آج کل بڑے شہروں میں گاڑیوں کا دھواں، فیکٹریوں کا اخراج،گندگی اور صفائی کا مناسب انتظام نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں بڑے شہروں میں یہ نعمت انسانی استعمال کے قابل نہیں رہتی۔Covid 19 سے پہلے لاہور دنیا کا سب سے پراگندہ (Poluten) شہر ہونے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ جتنی بیماریاں اس ایک وجہ سے پھیلتی ہیں شائد Covid 19نے بھی اتنی مقدار میں جانی نقصان نہیں کیا۔آج لاہور اپنے ناقص Air Quailty Index کی وجہ سے دنیا کا سب سے زہر آلودہ اور ناقص ہوا والا شہر ہونے کا اعزاز پا چکا ہے جو کہ ہم سب کے لئے افسوس کا مقام ہے۔

کینسر، ہیپاٹائٹس اور سانس کی بیماریاں، مضر صحت دھواں اور گندگی کی آمیزش والی ہوا (جو ہمارے نظام تنفس کو بُری طرح خراب کرتی ہے) سے پھیلتی ہیں اس کے لئے ہم نے ابھی تک کچھ نہیں کیا۔ شاہد گاڑیاں بنانے والے کارخانے، صنعتی اداروں کے مالکان اور دوسرے بھٹہ مالکان وغیرہ کی طاقتور اکٹھ کا سامنا ہماری کمزور نیم جمہوری حکومتیں نہیں کر سکتیں۔ مندرجہ ذیل اقدامات فوری کرنے کی ضرورت ہے۔

1۔ برقی اور ہائبرڈ Hybird گاڑیوں کو فوری طور پر ڈیوٹی فری درآمد کی اجازت دی جائے تاکہ دھواں دینے والی گاڑیاں کم ہوں اور ہوا صاف ہو۔

2۔پبلک ٹرانسپورٹ کے نیٹ ورک کو بہتر کیا جائے تاکہ ہر محلہ اور رہائشی جگہوں کے نزدیک 10منٹ کی مسافت میں اچھی سواری مہیا کی جائے۔ اس قدم کے اٹھانے سے کاروں کی مقدار کم ہو جائے گی اور ہوا صاف میسر ہو گی۔

3۔ شہری علاقے سے لوہے کی فیکٹریاں جو کہ لاہور میں بااثر افراد کی ملکیت ہیں ان کو فوری طور پر دور دراز علاقوں میں منتقل کیا جائے۔

4۔بھٹہ خشت میں دھواں کنٹرول کرنے کے سسٹم سے آراستہ بھٹہ جات لگائے جانا چاہیے اور دوردراز کے علاقوں میں صرف بھٹہ چلانے کی اجازت دی جائے۔

5۔لوکل باڈیز الیکشن کروا کر شہروں اور دیہاتوں میں صفائی کا نظام، کوڑا کرکٹ کی صفائی اورگٹر کا گندہ پانی کی صفائی کا مربوط اور جامع بندوبست کیا جائے۔

6۔پلاسٹک کے بیگز کی جگہ کاغذ اور کپڑے کے تھیلوں کا بندوبست کیا جائے۔

ہمارے شہروں کا ہوا کی صفائی کا درجہ بین الاقوامی معیار Air Quality index کے مطابق ہونا چاہیے جو کہ سخت عملی اقدامات کے بغیر ممکن نہیں۔

صاف پینے کا پانی

ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے توجہ نہ دی اور وقت کے ساتھ ہمارا پینے کا پانی اس قابلِ استعمال نہ رہا کہ انسانی صحت کو خراب کرنے میں مضر صحت پانی کا استعمال سرفہرست ہے۔ گندے پانی کا استعمال زراعت میں ہونے لگا اور شہر کے نزدیک کی زمینوں میں مضر صحت اور گندے پانی کا استعمال سبزیاں اگانے کے لئے عام ہو گیا۔

پانی کو صاف کرنے اور موزوں Disposal پلانٹ کی عدم موجودگی میں گندگی کا اضافہ ہوا۔ مندرجہ ذیل اقدامات ضروری ہیں۔جو ہمیں فوری کرنا چاہیے۔

سیوریج کے استعمال شدہ پانی کو ایک خاص عمل سے گزار کر اسے زراعت کے استعمال کے مطابق بنایا جا سکتا ہے اور اس میں سے گندگی علیحدہ کرکے مناسب مقام تک پہنچایا جائے۔

شہروں میں صاف پانی اور سیوریج کا استعمال شدہ پانی مل جاتے ہیں اور پینے کا مضر صحت پانی انسانی استعمال میں آ رہا ہے جس سے شہریوں کی صحت دن بدن خراب ہو رہی ہے۔

اپنے دریاؤں کے صاف پانی کو ڈیمز اور بیراج بنا کر محفوظ کیا جائے اور اس نعمتِ خداوندی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ پاکستان ہر سال 20ارب ڈالر کا صاف پانی ضائع کرتا ہے۔

بارشوں کے پانی کے لئے چھوٹے ڈیمز بنائے جائیں جو کہ چکوال،جہلم،خوشاب، ڈیرہ غازی خان، بلوچستان کے مخصوص علاقوں اور سندھ کے اضلاع میں مناسب مقامات پر بنائے جا سکتے ہیں اور یہ پانی زراعت کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ پینے کے لئے بھی صاف کیا جا سکتا ہے۔

زمین کا صحیح استعمال

ہم نے زرعی زمین جو کہ خوراک کی پیداوار کے لئے موزوں ہے کو ہاؤسنگ سوسائٹیز کے لئے استعمال کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ بری طرح ہماری سونا اگلنے والی زمین کو ضائع کر رہا ہے۔ گورنمنٹ کو فوری طور پر زرعی زمین میں ہاؤسنگ کے عمل کو بند کرنا ہوگا اور مخصوص بنجر اور غیر زرعی رقبہ کو ہاؤسنگ کے لئے استعمال کرنا ہوگا۔ بہت سارے ملکوں میں یہ عمل بڑی مستقل مزاجی سے چل رہا ہے۔ انسانی خوراک کو ہر چیز پر ترجیح دی جانی چاہیے تاکہ غریب اور تمام شہریوں کو تمام اجناس مناسب قیمتوں پر مہیا ہو سکیں۔

زمین پر درخت لگائے جائیں جیسا کہ موجودہ حکومت کی یہ ترجیحی پالیسی ہے لیکن ابھی تک زمیندار کو اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا۔ ایک مربوط جنگلات اگانے کی پالیسی کی ضرورت ہے جس میں ہر کاشت کار کو پابند کیا جائے کہ ایک ایکڑ اراضی میں کم از کم دس درخت لگائے اور گورنمنٹ اس عمل کو جاری رکھے۔ دس سال تک زمیندار درخت نہ کاٹنے کاپابند ہو اور گورنمنٹ فی درخت 500روپے زمیندار کو دے۔ اس طرح یہ رجحان فروغ پائے گا۔یہ چند اقدامات انسانی صحت اور زندگی کے ساتھ منسلک ہیں اور فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ متعلقہ محکمہ جات ماحولیاتی بہتری کا محکمہ، محکمہ جنگلات، ریونیو ڈیپارٹمنٹ، واپڈا، اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے اور حکومت کو قابلِ عمل تجاویز بنا کر دے جس پر فوری عمل ہو۔ ہمارے ارکان اسمبلی بھی ان عوامل کو ترجیحی بنیادوں پر لیں اور اب تھانہ کچہری اور سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ بھی کوئی اچھا کام کرنا شروع کریں جو کہ ان کے فرائض میں شامل ہے۔ان اقدامات سے حکومت کی نیک نامی ہوگی اور انسانوں کی صحت بھی بہتر ہو گی۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -