مہنگائی کا جن بوتل میں کیسے بند ہوگا؟

مہنگائی کا جن بوتل میں کیسے بند ہوگا؟

  

خیبرپختونخوا کے صوبائی دارالحکومت پشاور مارکیٹ میں اندھیر نگری چوپٹ راج جاری ہے، دکانداروں نے من مانی شروع کر دی ہے اور شہریوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے۔تاجروں نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ نرخ نامہ مسترد کر دیا اور اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں مزید کر خودساختہ طور پر اضافہ کر دیا ہے۔پشاور کی مارکیٹوں میں اس وقت اشیاء خوردونوش کی خود ساختہ قیمتیں چل رہی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ پرائس کمیٹی کا فعال نہ ہونا ہے اور انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ کی قیمتوں پر چیک نہ رکھنا بھی شامل ہے۔آٹے وچینی کے بعد دالوں اور گھی کی قیمتوں میں اضافہ ہونے لگا ہے۔تاجروں نے پرانے سٹاک کو بھی نئی قیمتوں پر فروخت کرنا شروع کر دیا ہے۔تاجروں نے ایک سال قبل جاری کردہ نرخ نامے پر عمل درآمد سے انکار کر یا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ اس نرخ نامے پر اشیاء کی فروخت نہیں کی جاسکتی ہے جبکہ آئین میں اٹھارویں ترمیم کے بعد مہنگائی کا تدراک صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے مگر زمینی حقائق سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ صوبائی حکومتیں یہ ذمہ داری نبھانے میں نا کام رہی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل میں بند نہ ہونے کے باعث خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والے عوام کی زندگی اجیرن بن چکی ہے۔پھلوں،سبزیوں اور باورچی خانوں میں استعمال ہونے والی اشیاء کے نرخوں پر نظر ڈالی جائے تو ضرورت کی ہر چیز پانچ یا سات سو روپے روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی دسترس سے دور ہو چکی ہے۔آٹے،چینی،چاول، دالوں اور آئل وگھی کی قیمتیں سن کر غریب آدمی کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے کہ وہ جسم اور روح کا رشتہ کیسے برقرار رکھے؟ کوشش کے باوجود حکومت چینی عدالت عظمیٰ کی جانب سے طے کردہ قیمت پر عوام کو فراہم نہیں کر سکی کہ با اثر مافیا نے اپنے عمل سے حکومت کی رٹ اور عدالت عظمیٰ کے فیصلہ،دونوں پر سوالیہ نشام لگا دیا ہے۔جب سے موجودہ حکومت اقتدار میں آئی ہے عوام کو آئے دن کسی نہ کسی جنس کی قیمت میں اضافے ہی کی خبر ملتی ہے۔نیا پاکستان اور ترقی یافتہ پاکستان کا سنہری خواب دکھا کر عمران خان کی حکومت وجود میں آئی،اور نئے پاکستان کے حکمرانوں نے ٹیکس اور قیمتیں بڑھانے کو نیا پاکستان کا نام دیدیا۔انرجی وپٹرولیم مصنوعات اور ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ حکومت کی مجبوری تھی اور اس کا ذمہ دار سابق حکومت کوقرار دینا اپنی ناکامی کا اعتراف ہے جس کے نتیجے میں روزمرہ کی اشیاء اتنی بڑھ گئی ہیں کہ غریب آدمی ان تک پہنچ ہی نہیں سکتے۔عام آدمی پہلے ہی غریب اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت تکلیف دہ زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور اب دو وقت کی روٹی پوری کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف بنا دیا گیا ہے۔سابق عہد حکومت میں 45سے 50فیصد لوگ خط غریب سے نیچے زندگی کا بوجھ اٹھا کر جی رہے تھے اور اب ستم بالائے ستم ناقابل برداشت اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافے اور ہیوی بیلز نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔وزیر اعظم عمران خان اب عملی طور پر عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے اقدامات کریں،حکومت خصوصاً وزیر اعظم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس معاملہ پر خصوصی توجہ دیں اور عوام کو مہنگائی کے عفریت سے نجات دلائیں،تاکہ معیشت کی مظبوطی کا انہیں بھی کوئی فائدہ ہو سکے، کیونکہ نئے پاکستان کے حکمرانوں نے پاکستان کی70فیصد آبادی کو خط غریب سے نیچے دھکیل دیا ہے اور عوام کیڑے مکوڑوں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔سوال یہ ہے کہ آخر حکومت کی رٹ ہے کہاں؟ پاکستان ایک زرعی ملک ہے مگر مارکیٹوں میں ادرک آٹھ سے نو سو روپے فی کلو اعلانیہ فروخت ہو رہا ہے۔ماڈل بازاروں میں نہ صرف غیر معیاری اشیائے خوردونوش دھڑلے سے فروخت ہو رہی ہیں بلکہ منہ مانگے دام بھی وصول کئے جارہے ہیں۔دکانوں پر آویزاں نرخوں کی فہرستیں محض دکھاوا ہیں۔صرف گزشتہ ہفتہ دس دن کے دوران تمام اشیائے خوردونوش کے نرخوں میں دس سے پندرہ فیصد اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔مگر کوئی پوچھنے والا نہیں کہ ان ماڈل بازاروں کی انتظامیہ کی جانب سے ارباب اختیار کے گھروں میں ضرورت کی تمام اشیاء مفت پہنچنے کی خبریں زبان زدعام ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب باڑیں ہی باغوں کو کھانے لگیں تو چمن کی رکھوالی سوالیہ نشان بن جانا یقینی امر ہوتا ہے۔ موجودہ حکومت مہنگائی اور بے روزگاری کے خاتمے کے وعدے پر عوام سے ووٹ لے کر بر سر اقتدار آئی لیکن گزشتہ دو سالوں سے روزمرہ کی اشیا میں روز بروز اضافے نے عوام کو کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔جس سے ہوش سنبھالا ہے اسی طرح کی باتیں سنتے آرہے ہیں کہ ملک اس وقت سخت مشکل حالات سے گزررہا ہے حسرت ہی ہے کہ کوئی یہ بھی کہے کہ اب حالات بہتر ہیں۔یہ حالات عوام نے تو خراب نہیں کئے جو بھی آتا ہے نئے تجربے شروع کر دیتا ہے جس کی وجہ سے اسکے رخصت ہونے پر شروع کئے گئے تمام منصوبے سردخانے میں ڈال دیئے جاتے ہیں۔ ہماری پرائس کنٹرول کمیٹیاں بری طرح ناکام ہیں اور مارکیٹ کمیٹیوں کا کردار کہیں نظر نہیں آرہا حالانکہ مارکیٹ کمیٹیوں کے ذمہ پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں کو روزانہ کی بنیاد پر چیک رکھنا ہوتا ہے لیکن بدقسمتی سے مارکیٹ کمیٹیوں کے افسران اپنے گھر مفت سبزی اور فروٹ لاکر سب اچھا کی رپورٹ دے دیتے ہیں جب کہ وہ سبزی اور فروٹ فروشوں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں کبھی کبھار ڈی سی اورز یا اسسٹنٹ کمشنر بازاروں یا منڈیوں کا دورہ کرتے ہیں تو ایک دودن صورتحال بہتر ہو جاتی ہے لیکن دوبارہ وہی ملی بھگت شروع ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے عام صارفین کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے کوئی ادارہ موجودہی نہیں ہوتا اور عوام مہنگے داموں اشیاخریدنے پر مجبور ہیں۔جب تک ضلعی اور تحصیل پرائس کنٹرول کمیٹیوں میں تمام اسٹیک ہولڈرز عام صارفین،انجمن تاجران،انجمن غلہ منڈی، انجمن سبزی منڈی،سبزی اور پھل فروش،مقامی وکلاء نمائندے،منتخب عوامی نمائندے سمیت مختلف مکاتب فکر کے افراد شامل نہیں کئے جاتے تب تک ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔وزیر اعظم پاکستان اور چاروں وزرائے اعلیٰ نئی پرائس کنٹرول کمیٹیاں تشکیل دینے کے احکامات جاری کریں جن میں تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔حکمرانوں کو چاہیے کہ اصلاح احوال پر بھر پور توجہ دیں تاکہ مہنگائی کا تدارک یقینی ہو سکے اور عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ اس حوالے سے صوبائی حکومتوں کو اپنی قانونی رٹ قائم کرنا ہوگی تاکہ مہنگائی کا باعث بننے والے مافیاؤں کو عبرت کا نشان بنایا جا سکے۔

٭٭٭

مزید :

ایڈیشن 1 -