ٹریفک وارڈنز کو دوران ٹریننگ ملنے والے ڈیلی الاؤنس کی ریکوری چیلنج

  ٹریفک وارڈنز کو دوران ٹریننگ ملنے والے ڈیلی الاؤنس کی ریکوری چیلنج

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ میں ٹریفک وارڈنز کو 14 برس قبل دوران ٹریننگ ملنے والے ڈیلی الاؤنس کی ریکوری کوچیلنج کر دیا گیا ہے، یہ درخواست ٹریفک وارڈن مکرم شبیر سمیت دیگر نے دائر کی ہے جس میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم، آئی جی پنجاب اورسی ٹی او کو فریق بنایا گیا ہے،درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ چیف ٹریفک آفیس کے اکاؤنٹنٹ نے 2006-07ء میں میں ٹریننگ کی مد میں 50 ہزار 942 روپے فی کس ریکوری کا حکم دیا،درخواست گزاروں کو 14 برس قبل دوران ٹریننگ ڈیلی الاؤنس کی مد میں رقم فراہم کی گئی تھی، قانون کے تحت حکام کے لئے گئے فیصلوں کو واپس نہیں لیا جا سکتا، حکام کا 14 برس بعد رقم کی ریکوری کا اقدام غیر قانونی ہے، محکمہ ٹریفک پولیس کا آڈٹ اعتراضات کے باعث 50 ہزار روپے فی کس ریکوری کا نوٹس بھجوانا غیر قانونی ہے، آڈٹ اعتراضات کا معاملہ محکمہ ٹریفک پولیس اور فنانس ڈیپارٹمنٹ کے درمیان ہے اس میں ٹریفک وارڈنز کو سزا نہیں دینی چاہئے، عدالت عالیہ اسی نوعیت کی ایک درخواست پر پہلے بھی فیصلہ کر چکی ہے جس میں ریکوری کو غیر قانونی قرار دیا جا چکا ہے، عدالت سے استدعاہے کہ سی ٹی او کی ایماء پر ڈیلی الاؤنس کی مد میں وصول کی گئی رقم کی ریکوری کے نوٹس کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم اوردرخواست کے حتمی فیصلے تک 50 ہزار روپے فی کس کی ریکوری نوٹس پر عمل درآمد روکا جائے۔

ریکوری چیلنج

مزید :

صفحہ آخر -