عمرہ کیلئے صرف 38 زائرین پاکستان سے جدہ پہنچے،اکثریت ایجنٹوں کی تھی

  عمرہ کیلئے صرف 38 زائرین پاکستان سے جدہ پہنچے،اکثریت ایجنٹوں کی تھی

  

لاہور(ڈویلپمنٹ سیل)سعودی عرب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز بین الاقوامی سطح پر عمرہ کے آغاز پر صرف 38 زائرین پاکستان سے جدہ پہنچے ان میں بھی اکثریت پاکستانی عمرہ ایجنٹس کی تھی جو عمرہ کے نئے نظام کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کیلئے سعودی عرب پہنچے,ایک اخباری خبر کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ چھ سال کے دوران 531 سعودی عمرہ کمپنیوں کو مختلف کوتاہیوں اور خلاف ضابطہ اقدامات پر بلیک لسٹ قرار دیتے ہوئے ان پر بھاری جرمانے عائد کئے ہیں جو جو کمپنیاں یہ جرمانے ادا کرئینگے ان کو اس سال عمرہ آپریشن میں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی،ان کمپنیوں میں زیادہ تعداد ایسی کمپنیوں کی ہیں جنہوں نے گزشتہ سال 1441 ھجری میں تین دن کے لئے ہوٹل اوچر جاری کئے تھے جبکہ ان کے زائرین 14/21 یا 27 دن تک سعودی عرب میں مقیم رہیں ایسے لوگ سعودی وزارت حج کے ریکارڈ کے مطابق overstay قرار دئیے گئے ہیں,اس سال سعودی کمپنیوں کی جانب سے تین دن قرنطینیہ میں قیام، ٹرانسپورٹ، گراونڈ سروسز، تین دن کے طعام، انشورنس اور ویزا فیس کی مد میں 1500 ریال یعنی 64000 روپے عائد کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے جبکہ فی الوقت صرف سعودی ائرلائن کو عمرہ زائرین لیجانے کی اجازت دی گئی ہے جس سے عمرہ آپریشن پر ایک ائرلائن کی اجارہ داری قائم ھو گئی ہے اور اس ائرلائن کا ریٹرن ٹکٹ 145000 روپے رکھا گیا ہے اس طرح یہ 209000 روپے بنتے ہیں جبکہ مذید 7 روز 4/5 سٹار ہوٹل میں قیام کے اگر 135 ریال فی رات رکھے جائے تو پیکیج کی رقم 275000 روپے بنتی ہے جو پاکستانی زائرین خصوصاً متوسط طبقے کی بس کی بات نہیں اب سعودی شرکہ کی جانب سے دسمبر کے آخر تک انتظار کرنے کا صائب مشورہ دیا جارہا ہے تب تک مزید سعودی شرکہ کو کلئیر کرنے کی امید کی جا سکتی ہے اور مذید ائرلائن کو عمرہ آپریشن میں شامل کیا جاسکتا ہے جس سے مارکیٹ میں مقابلے کا رحجان بڑے گا اور عمرہ اخراجات میں کمی کی امید کی جا سکتی ہے بصورت دیگر موجودہ حالات میں عمرہ زائرین کی تعداد میں 80 فیصد کمی کا امکان ہے۔

پیکیج

مزید :

صفحہ آخر -