نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ، کم آمدن والے طبقات کے لئے امید کی کرن 

نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ، کم آمدن والے طبقات کے لئے امید کی کرن 

  

نیا پاکستان ہاؤسنگ منصوبہ کے تحت معاشرے کے کمزور بالخصوص چھوٹے تنخواہ دار طبقے کے لئے چھت کی فراہمی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے، سابقہ حکومتوں کے برعکس موجودہ حکومت نے اپنے منشور کے تحت کم آمدن والے طبقہ کو پچاس لاکھ گھروں کی فراہمی کے لئے جامع کوششیں اور ٹھوس عزم کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی کو ذمہ داری سونپی جس نے حکومتی اہداف کے مطابق مختلف سکیموں کا آغاز کیا۔ اتھارٹی نجی اراضی پر مشترکہ منصوبوں اور سرکاری اراضی پر حکومتی پروگراموں کے تحت ان سکیموں پر عمل پیرا ہے۔حکومت نے دسمبر 2019ء میں بھارہ کہو پراجیکٹ کے گرین انکلیو۔ 1 سمیت مختلف تعطل کا شکار منصوبوں کو بحال کیا اور درخواست گزاروں کو 3282 پلاٹ الاٹ کئے۔ اتھارٹی نے سکائی گارڈن پراجیکٹ کے تحت 5198 پلاٹ الاٹ کئے اور لائف سٹائل ریزیڈنسی اپارٹمنٹ G-13 سکیم کے تحت 3240 پلاٹ الاٹ کئے، وزیراعظم نے کشمیر ایونیو G-13 اسلام آباد اسکیم کا افتتاح کیا جس کے تحت 1467 اپارٹمنٹ تعمیر کئے جائیں گے، چکلالہ ہائٹس راولپنڈی سکیم کے تحت 3432 اپارٹمنٹس، سکائی لائن اپارٹمنٹ اسلام آباد سکیم کے تحت 3945 اپارٹمنٹس اور لائف سٹائل ریزیڈنسی لاہور سکیم کے تحت 1258 اپارٹمنٹس تعمیر کئے جائیں گے۔ وفاقی حکومت نے حکومتی ہاؤسنگ سکیموں کے تحت صوبائی حکومتوں کے ساتھ مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کئے جن میں آزاد جموں و کشمیر کے لئے 798 اپارٹمنٹس، ماہی گیروں کے لئے 16 ہزار اپارٹمنٹس اور بلوچستان کے عوام کے لئے 18 ہزار اپارٹمنٹس اور 12 ہزار پلاٹس اور خیبر پختونخوا کے لوگوں کے لئے 750 اپارٹمنٹس شامل ہیں۔

حکومت مکانات کی تعمیر کے لئے فزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ پروگراموں پر رواں مالی سال کے دوران 18 ارب روپے خرچ کرے گی۔ کورونا وائرس کی وباکے دوران ہاؤسنگ اور تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے حوالے سے موجودہ حکومت نے تعمیراتی شعبہ کے لئے مراعاتی پیکیج کا اعلان کیا۔ ایف بی آر کے مطابق گزشتہ ماہ کے دوران 63 ارب روپے مالیت کے 127 تعمیراتی منصوبے حتمی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ 109 ارب روپے مالیت کے 114 منصوبے عارضی رجسٹریشن کروا چکے ہیں۔ ان منصوبوں میں سے 61 کراچی میں، 44 لاہور، 30 اسلام آباد، 19 راولپنڈی، 10 فیصل آباد اور دیگر مختلف شہروں کے لئے تیار کئے جائیں گے۔ موجودہ حکومت کی طرف سے تاریخ کے سب سے بڑے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا گیا جس کے تحت بلڈرز اور ڈویلپرز کے لئے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرایا گیا۔ تعمیراتی سامان اور سروسز کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی سے استثنیٰ دینے کے ساتھ ساتھ کم قیمت ہاؤسنگ پراجیکٹ کی صورت میں فکسڈ ٹیکس میں بھی 90 فیصد چھوٹ دی گئی ہے۔ پلانٹ اور مشینری کی درآمد کے لئے تعمیراتی شعبہ کو سہولت دی گئی ہے۔ 500 مربع گز کے مکان اور چار ہزار مربع فٹ کے فلیٹ کی پہلی بار فروخت پر کیپیٹل گین ٹیکس سے ایک بار استثنیٰ اور پلاٹس و بلڈنگز کی خریداری اور نئے تعمیراتی پراجیکٹس میں سرمایہ کاری پر آمدن کے ذرائع کی پوچھ گچھ سے استثنیٰ دیاگیا ہے۔ غیر منقولہ جائیداد کی نیلامی پر ٹیکس 10 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔

اس طرح ایڈوانس ٹیکس میں 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ مکانات کی تعمیر کیلئے مالی سہولت پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور کمرشل بینک کی شرائط و ضوابط کو آسان بنانے کے لئے ایک قومی رابطہ کمیٹی کام کر رہی ہے۔ ہاؤسنگ اتھارٹی ملک میں سالانہ چار لاکھ ہاؤسنگ یونٹس کی ضروریات کو پورا کرنے میں مدد فراہم کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے غریب عوام کو بینکوں سے قرضہ کی فراہمی میں ہر طرح کی سہولیات فراہم کرنے بالخصوص ان کی عزت و تکریم کا خیال رکھنے پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت 22 اکتوبر 2020ء کو قومی رابطہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ، تعمیرات و ڈویلپمنٹ کے ہفتہ وار اجلاس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے غریب اور متوسط طبقے کے لئے آسان اقساط پر قرضوں کی فراہمی کے حوالے سے بریفنگ دی۔ نیشنل بینک، الائیڈ بینک، میزان بینک، بینک الحبیب، حبیب بینک اور بینک آف پنجاب کے سربراہان نے وزیراعظم کو نیا پاکستان ہاؤسنگ پروگرام کے تحت قرضوں کی فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ قرضوں کے حصول کے عمل کو آسان ترین بنایا گیا ہے اور اس ضمن میں برانچز میں الگ ڈیسک بنائے گئے ہیں۔ نجی بینک، اسلامی اور روایتی بینکاری دونوں کے تحت قرضے فراہم کر رہے ہیں۔ بینکوں کے سربراہان نے حکومت کو تعمیرات سیکٹر کے فروغ اور غریب طبقے کو اپنا گھر بنانے کی سہولت مہیا کرنے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ انہوں نے وزیراعظم اور حکومتی معاشی ٹیم کو کورونا وبا کے پیش نظر کاروباری طبقے بشمول بینکوں کے لئے کئے گئے اقدامات پر خراج تحسین پیش کیا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ قرضوں کی فراہمی کے عمل کو کم مدتی بنانے کے لئے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ قرضہ لینے والے افراد کے کوائف کی تصدیق جلد ہو سکے۔ وزیر اعظم کو آگاہ کیا گیا کہ مزید نجی بینک بھی قرضوں کی فراہمی شروع کر دیں گے۔ وزیراعظم نے تاکید کی کہ غریب افراد کو بینکوں سے قرضوں کے حصول کے دوران ہر قسم کی آسانی فراہم کی جائے اور خاص طور پر ان کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔ چیف سیکرٹری پنجاب نے اجلاس کو بتایا کہ تعمیرات اور بلڈرز کے لئے آن لائن پورٹل کا اجرا کیا جا چکا ہے جس پراب تک 6994 درخواستیں موصول ہوئی ہیں اور ان میں سے54 فیصد کی منظوری دی جا چکی ہے۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا متعلقہ اداروں کو بھی آن لائن پورٹل کے ذریعے منسلک کیا گیا ہے تاکہ منظوری کے عمل میں تاخیر نہ ہو۔ ہر منظوری کے عمل کو محدود مدت کا پابند بنایا گیا ہے اور درخواست دہندہ اپنے کیس کے بارے میں موبائل ایپ کے ذریعے آگاہ رہتا ہے۔

وزیراعظم نے تمام صوبوں کو ہدایت کی کہ آن لائن پورٹل کا بھر پور استعمال کریں تاکہ منظوری کے عمل کو مکمل طور پر شفاف اور جلد ممکن بنایا جا سکے۔حکومت کی غریب عوام کے لئے ہاؤسنگ پالیسی کو سراہتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ معاشرے کے غریب اور نادار طبقات کی بہبود وزیراعظم عمران خان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، تعمیراتی صنعت کے لئے بے مثال اور پرکشش مراعاتی پیکیج بروقت اقدام ہے جس سے 40 سے زائد ملحقہ صنعتیں مستفید ہوں گی۔ انہوں نے ہاؤسنگ کے شعبہ کے بارے میں حکومت کی سنجیدگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہاؤسنگ کے شعبہ میں رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے قومی رابطہ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمارا ہدف پہلے مرحلے میں ایک لاکھ گھروں کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمرشل بینکوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ تعمیراتی صنعت کے لئے اپنے قرضوں کے پورٹ فولیو کا پانچ فیصد مختص کریں جس سے 30 ارب روپے سے زائد اکٹھے ہوں گے جبکہ حکومت غریب عوام کو 130 ارب روپے کی سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے۔

مزید :

رائے -کالم -