امن قائم کرنے کے لیے سخت سزاؤں کی ضرورت 

امن قائم کرنے کے لیے سخت سزاؤں کی ضرورت 
امن قائم کرنے کے لیے سخت سزاؤں کی ضرورت 

  

سال 2020کے پہلے 10ماہ کے دوران آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ پنجاب جرائم کا گڑھ بنا رہا۔قتل، اغوا، ڈکیتیوں اور چوریوں کے باعث شہری سکون کی نیند نہ لے سکے اورپولیس پنجاب کو اس سال بھی محفوظ نہ بنا سکی، صوبے میں سال کے پہلے 10ماہ کے دوران 3ہزار سے زائد قتل کی وارداتیں رپورٹ ہوئیں۔اقدام قتل کے آٹھ ہزار اکیاسی اور لڑائی جھگڑے کے10ہزار چالیس

 واقعات رونما ہوئے، اغوا کی 12ہزار تین سو وارداتیں، اغوا برائے تاوان کے65 کیسز شہریوں کے لیے خوف کی علامت بنے رہے۔

جرائم پیشہ عناصر نے شہریوں کو کروڑوں کی املاک سے محروم کیا، ڈکیتی کی 14ہزار سے زائد، گاڑی چھیننے اور چوری کی 20 ہزار دو سو اور مویشی چوری کے چھ ہزار واقعات سامنے آئے۔ان خوفناک اعداد وشمار کے باوجود وزیر قانون پنجاب بشارت راجہ امن و امان کی صورتحال سے مطمئن ہیں، پولیس حکام بھی جرائم میں اضافے کا سبب بروقت اور زیادہ ایف آئی آرز کے اندراج کو گردانتے ہیں۔متعلقہ حکام کی ان وضاحتوں کے برعکس اہل پنجاب رواں سال میں بھی مال و جان کا تحفظ نہ ملنے پر خوف کے سائے تلے زندگی بسر کرنے پر مجبور رہے۔

پنجاب پولیس میں بڑے پیمانے پر ہو نیوالی اکھاڑ پچھاڑ بھی جرائم کی شرح میں کمی نہ لاسکی،لگتا ہے کہ حکامِ بالا نے یہ طے کر لیا ہے کہ صرف جرائم میں اضافہ ہی نہیں کرنا، سنگین جرائم کے مجرموں کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرنا ہے۔ جب جرائم کے خلاف سخت، بے رحمانہ اور اور حقائق پر مبنی قوانین ہی نہیں بنائے جائیں گے اور مجرموں کو ان کے انجام تک پہنچانے کا کوئی طریقہ کار ہی متعین نہیں ہوگا۔اس وقت تک یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک سے جرائم اور مجرموں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔کیا حکمرانوں کو یہ بات صاف صاف نظر نہیں آ رہی کہ لوگ اب اپنی چوری چکاری، ڈاکہ زنی، ظلم و زیادتی یہاں تک کہ قتل و غارت گری تک کی شکایات متعلقہ اداروں سے کرنے کی بجائے از خود اپنے اوپر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے کو ترجیح دینے لگے ہیں،عوام کا اعتماد ہر ادارے کی جانب سے اٹھ جانا ایک سخت تشویش ناک ہے اور افراد کا قانون اپنے ہاتھ میں لے لینا بڑی تباہی و بربادی کا پیش خیمہ ہے۔

جرائم کی بڑھتی شرح پر جرائم کم نہ ہونے پر شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے کہ پورا صوبہ علاقہ غیر میں بدلے حکام کو پولیس اصلاحات کے دعووں کو عملی جامہ پہنانا ہو گا۔ہمیں اپنے پولیس حکام اور آج اسی پولیس کلچر کے خاتمے کی ضرورت ہے جس سے شریف لوگ خائف رہتے ہیں۔پولیس کلچر تنخواہوں میں دگنے تگنے اضافے سے تبدیل نہیں ہو گا۔ یہ شاید تربیت سے بدل سکتا ہے۔ اصلاحِ احوال کا ایک طریقہ پولیس کی مکمل نفری کو فوج کے ساتھ بدل دیا جائے۔ہر سال ایک چوتھائی نفری بھی بدلی جاسکتی ہے۔مگرایک اور سبیل بھی ہے۔زیادہ ضرورت تربیت کی ہے نہ تبلیغ کی،پھر کس کی ضرورت ہے؟سب کچھ پولیس اہلکار اور حکام جانتے ہیں،ضرورت باضمیر ہونیکی ہے۔ضمیر کی آواز سے صرفِ نظر نہ کریں تو یہی لوگ معاشرے کو جنت نشاں اور ضو فشاں بنا سکتے ہیں۔لیکن ضمیر کیسے جاگے اور کون جگائے اس کا فیصلہ قارئین آپ کیجئے۔

مزید :

رائے -کالم -