تیسرے ون ڈے میں ناکامی کی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی

تیسرے ون ڈے میں ناکامی کی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی
تیسرے ون ڈے میں ناکامی کی ذمہ دار سلیکشن کمیٹی

  

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی زمبابوے کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھیلے جانیوالی تین ون ڈے میچوں پر مشتمل سیریز کے اختتام پاکستان کی جیت کے ساتھ اختتام پذیر ہو چکی ہے جس کے بعد ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے آغاز ہونے جا رہا ہے۔پاکستان نے ایک روزہ میچوں کی سیریز کے پہلے دو میچز جیت کر پہلے ہی سیریز اپنے نام کر لی تھی لہذٰا تیسرا ون ڈے میچ رسمی کاروائی کے طور پر کھیلا جانا تھا،تیسرے میچ میں زمبابوے کی ٹیم نے سیریز ہارنے کے باوجود جارحانہ حکمت عملی کے ساتھ کھیلا اور میچ کا نتیجہ اپنے نام کرنے میں کامیاب بھی ہو گیا۔اس سے قبل زمبابوے پانچ سال قبل پاکستان سے میچ جیتنے میں کامیاب ہوا تھا جبکہ پاکستان 22 سال بعداپنے ہوم گراؤنڈ پر زمبابوے سے میچ ہارا۔

نکلنے والے نتیجہ کے ذمہ دار کون ہیں؟ثانیِ مصباح الحق کون ہیں؟سلیکشن کمیٹی کیوں سو رہی ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات پاکستان کرکٹ بورڈ کے اعلیٰ عہدیدار نہیں میں آپ کو بتاؤں گا۔تیسرا ون ڈے ہارنے کی ذمہ داری میرے خیال میں پاکستان کے مایہ ناز اوپنرز امام الحق اور فخر زمان کو ٹہرانے میں کوئی مذائقہ نہیں کیونکہ ان دو بہترین بلے بازوں نے اچھا سٹینڈ دیا ہوتا تو پاکستان ایک بظاہر مشکل نظر آنے والا ہدف آسانی کے ساتھ عبور کر سکتا تھا۔لیکن ایسا نہیں ہو سکا جس کا نتیجہ شکست کی صورت دیکھنے کو ملا۔زمبابوے کے خلاف جب پاکستان سیریز دو صفر سے جیت گیا تھا تو پھر کیا وجہ تھی جو عبداللہ شفیق اور ظفر گوہر کو باہر بٹھانے کی جہاں آپ خوشدل شاہ کو ڈیبیو کروا رہے تھے وہاں آپ ان دو کھلاڑیوں کو بھی موقع فراہم کر دیتے تو کون سی قیامت آجاتی،کون سا پہاڑ ٹوٹ جانا تھا لیکن شاید سلیکشن کمیٹی کے اراکین ان کھلاڑیوں کو تجربے کی بھینٹ چڑھا کر ان کے کیئریر پر سوالیہ نشان لگانا چاہتے ہیں اور انہیں مشکل سیریز کھلا کر ان کو پسندنا پسندکی بھینٹ چڑھا سکتے ہیں۔

فخر زمان،امام الحق،شاہین آفریدی،افتخار احمد کی جگہ ان کو شامل کر لیا جاتا تو شاید مستقبل قریب میں ان کھلاڑیوں کو بھی لوگ اپنا ہیرو تسلیم کر لیتے لیکن ایسا ممکن نہیں کیونکہ جب ٹیم بنانے والے ہی اس کارخیر سے بیزار ہوں گے تو کھیلنے والے بے چین نہیں لا پرواہ ہوتے جائیں گے اور نتائج زمبابوے جیسی کمزور ٹیم سے شکست کی صورت نکلے گا۔ثانی ِمصباح الحق کون ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو شاید کسی کے ذہن میں ہو یا نا ہو لیکن مجھے یہ سوال اکثر تنگ کرتا ہے جو میرے نقش میں خیال کی طرح گھومتا ہے۔عمر کے جس حصے میں وہ ہیں اس عمر میں سلیکشن کمیٹی ان سے کون سا ایسا تلسماتی کھیل کھیلنے کے در پر ہے کہ انہیں ٹیم سے ڈراپ کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔میں سرفراز کے خلا ف نہیں تھا لیکن ان کی اپنی پرفارمنس متاثر ہو رہی تھی جس کی بنیاد پر میں ان کے ٹیم میں رہنے کا حامی ناتھا لیکن یہاں تو کام ہی دوسرا ہے اور وہ یہ کہ شاید پی سی بی افتخار احمد میں کوچ مصباح الحق کا ثانی یعنی متبادل تلاش کر رہے ہم مان لیتے ہیں کہ ان کی پرفارمنس اچھی ہے اور وہ ایک آل راؤنڈر کی حیثیت سے ٹیم میں کھیل رہے ہیں لیکن جن نمبر وہ بیٹنگ کے لئے درکار ہوتے ہیں وہاں ایک مستقل بلے باز کی اشد ضرورت ہے اگر انہیں کھلانا ہی ہے تو پھر انہیں اوپر کے نمبروں پر کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہونا چاہیے اور اگر انہیں صرف اس وجہ سے ٹیم میں کھلایا جا رہا ہے کہ وہ اچھے ہارڈ ہٹر ہیں تو آصف علی پھر کس کام کے ہیں جو انہیں موقع فراہم نہیں کیاجاتا۔

۔وہ صرف ٹی ٹوئنٹی کے ہو کر رہ گئے ہیں جبکہ ایک روزہ میچز میں انہیں موقع فراہم نہیں کیا جا رہا۔دوسری جانب اگر زمبابوے کے ساتھ ہونے والے ٹی ٹوئنٹی میچز کے لئے ٹیم کا جائزہ لیاجائے تو شاید عبداللہ شفیق،ظفر گوہر ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن کیا انہیں آخری ایک روزہ میں موقع فراہم کرنا ضروری نہیں تھا؟۔

مزید :

رائے -کالم -