پیپسا کی اپیل پرسکول، کالج اساتذہ کا سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا

      پیپسا کی اپیل پرسکول، کالج اساتذہ کا سیکرٹریٹ کے باہر دھرنا

  

لاہور(لیڈی رپورٹر )  سکول و کالج اساتذہ نے کل اپنے مشترکہ پلیٹ فارم پنجاب ایمپلائیز سروس پروٹیکشن الائنس (پیسپا)، پنجاب کے زیر اہتمام مسائل کے حل کے لئے سول سیکرٹریٹ پنجاب لاہور کے سامنے دھرنا دیا۔  قیادت چیئرمین پیسپا پنجاب کاشف شہزاد چودھری نے کی۔کاشف شہزاد نے کہا اگر مطالبات پورے نہ ہوئے تو دسمبر کا دوسرا ہفتہ  اساتذہ بازوؤں پر کالی پٹیاں بھاند کر پڑھائیں گے۔

 اور احتجاج ریکارڈ کروائیں گے اس کے بعد 17 دسمبر کو 8۔ کلب روڈ دفتر وزیراعلی پنجاب کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور اس دن پورے پنجاب میں تعلیمی بائیکاٹ کیا جائے گا۔ احتجاج میں شامل اساتذہ نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے مطالبات کے حق اور حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔ شرکاء نے خوب نعرے بازی کی۔ منڈی بہاو الدین سے لاہور انے والے اساتذہ کے قافلے پر پولیس کا تشدد اور ایف آئی آر ناقابل براداشت ہے۔

۔ حکومت اس کا نوٹس لے اور اساتذہ پر تشدد کرنے والے پولیس افسران کو فوری معطل کیا جائے۔ دھرنے کے شرکاء سے چئیرمین پیسپا پنجاب کاشف شہزاد چودھری اوردیگر اساتذہ تنظیموں کے قائدئن نے خطاب کیا جن میں پروفیسر ندیم اشرفی، چودھری محمد سرفراز، ڈاکٹر امتیاز عباسی، اللہ بخش قیصر، وحید مراد یوسفی، محمد بشیر وڑایچ، ڈاکٹر نواز گوندل، محمد نعیم، عبدالرشید بھٹی، رانا لیاقت علی، محمد شہزاد ارشد، عاصم اعجاز چیمہ، عبدالمجید نعیم، محمد اشفاق نسیم، بابر حبیب کمبوہ، ازوربھٹی،اختر منیر ملک، عاقب جاوید، محمد اسحاق رحمانی، عبدالستار خان، پروین اختر، فائزہ رفیق، محمد فاروق، شہزاد منور، امان اللہ، شہزاد ندیم قیصر،پروفیسر محمد اعجاز قادری، پروفیسر عبدالحمید، نجم الحسن نجمی، محمد وسیم ودیگر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ احتجاجی تحریک اب مطالبات کی منظوری تک مسلسل جاری رہے گی۔اگر مطالبات منظور نہ ہوئے تو دفتروزیراعلی کا گھیراو بھی کیا جائے گا۔ اساتذہ قائدین نے مسائل و مطالبات کے حوالہ سے اپنے اپنے خطابات میں کہا کہ حکومتی ناانصافیوں سے تنگ اور مسائل میں روزبروز اضافہ کی وجہ سے ہم احتجاج پر مجبور ہوئے ہیں۔ ہمارے اساتذہ کی کئی کئی سال کی سروس ضائع ہو چکی ہے انہیں عدالتی فیصلوں کے باوجود پے پروٹیکشن اینڈ سروس پروٹیکشن کا حق نہیں دیا جا رہا۔ گیارہ ہزار سیکنڈری سکول ایجوکیٹرز کی غیر مشروط مستقلی بلاوجہ لٹکائی جا رہی ہے۔ جو ٹیسٹ دے کر میرٹ پر بھرتی ہوئے۔ ان پر دوبارہ پبلک سروس کمیشن کی شرط لگائی جارہی ہے جو سرا سرا نا انصافی ہے۔ پنجاب کے اساتذہ باقی تمام صوبوں سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اس کے باوجود ٹائم سکیل نہیں دیا جا رہا۔ تمام کیڈرز اساتذہ کے لئے3 درجاتی ٹائم سکیل کا فوری اعلان کیا جائے۔ باقی صوبوں کی نسب پنجاب کے اساتذہ کی دیگر مراعات اور سکیل بھی کم ہیں۔ پی ایس ٹی، ای اس ٹی اساتذہ کو سکیل 16 اور ایس ایس ٹی اساتذہ کو سکیل 17 مین اپگریڈ کیا جائے۔ سکیل 17 سے 20 تک کے سکول و کالج اساتذہ کو ون سکیل اپگریڈ کیا جائے۔ محکمہ سے کنٹریکٹ پالیسی کا خاتمہ کیا جائے اور آئندہ ریگولر بھرتیاں کی جائیں اور پہلے سے کنٹریکٹ پر بھرتی تمام اساتذہ کو جوائنگ کی تاریخ سے مستقل کیا جائے۔ پنجاب اور وفاق کے محکموں میں تنخواہوں میں تفریق کا خاتمہ کیا جائے، اساتذہ کی تنخواہوں پر ٹیکسز میں اضافہ واپس لیا جائے اور 70 فی صد ٹیکس ریبٹ بحال کی جائے۔ لیب اٹینڈنٹ، کمپیوٹر لیب انچارج، قاری ٹیچرز اور کلاس فور کی فوری اپگریڈیشن کی جائے۔ احتجاج میں پیکٹ پنجاب، پی ٹی یو پنجاب، نوائے اساتذہ پنجاب، ینگ لیکرز اینڈ پروفیسرز، فیزیکل ٹیچرزپیپٹا، انگلش ٹیچرز، کمپیوٹر پروفیسرز اینڈ لیکچرز، انجمن اساتذہ، ہیڈماسٹر ایسوسی ایشن، یونائیٹڈ میونسپل یونین، بی ٹی اے، ایس ای ایس، ڈپٹی ڈی ای اوز، سبجیکٹ سپیشلسٹ، ہیڈ ٹیچرز،لیب اٹنڈینٹ ایسوسی ایشن، ریگولرائزیشن مومنٹ، و دیگر ایسوسی ایشنز نے شرکت کی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -