جوبائیڈن کو برتری، ٹرمپ بھی جیت کے دعوے پر قائم، عدالتی جنگ شروع، ٹرمپ مشی گن میں ووٹوں کی گنتی رکوانے عدالت پہنچ گئے ہماری قانونی ٹیم بھی تیار: وکیل جوبائیڈن 

         جوبائیڈن کو برتری، ٹرمپ بھی جیت کے دعوے پر قائم، عدالتی جنگ شروع، ...

  

 واشنگٹن (اظہر زمان، خصوصی رپورٹ)

3نومبر کو ہونے والے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج کی جو صورتحال اس وقت نظرآرہی ہے اس کے مطابق ڈیموکریٹک امیدوار سابق نائب صدر جوبائیڈن کا وائٹ ہاؤس میں پہنچنے کا راستہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں ہے۔ تاہم ہمیشہ کی طرح ”جنگی میدان“ کی ریاستیں فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہیں۔ تقریباً بارہ ریاستوں میں سے ابھی تک پنسلوینیا، وسکونسن، مشی گن، جارجیا اور اری زونا کی ایسی ”سونگ“ ریاستیں باقی ہیں جو مکمل گنتی کے بعد جب کسی امیدوار کے حق میں فیصلہ سنائیں گی تو ساتھ میں یہ فیصلہ بھی ہو جائے گا کہ وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صدارتی کرسی پر کون براجمان ہوگا۔ یاد رہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات کا فیصلہ پاپولر ووٹ کے ذریعے نہیں ہوتا بلکہ کسی امیدوار کو کامیابی کے لئے الیکٹورل کالج کے کل 538 مندوبین میں سے سادہ اکثریت سے زائد یعنی کم از کم 270 ووٹ درکار ہوں گے۔ آخری اطلاعات آنے تک جوبائیڈن کو 254 جبکہ صدر ٹرمپ کو 214 الیکٹورل وٹو مل چکے ہیں۔ یعنی جوبائیڈن کو کم از کم مزید 16 ووٹ درکار ہیں اور اسی طرح اگر صدر ٹرمپ کو دوسری مدت کیلئے بھی وائٹ ہاؤس میں موجود رہنا ہے تو اس مقصد کے لئے انہیں 56 ملنے چاہئیں۔  اس مرتبہ کے صدارتی انتخابات میں کرونا واؤس کی وبا کے باعث کم ٹرن آؤٹ کا خدشہ تھا اس وجہ سے ڈیمو کریٹک پارٹی نے مہم چلائی کہ زیادہ سے زیادہ ڈاک کے ذریعے ووٹ بھیجے جائیں۔ اس کے علاوہ مختلف ریاستوں نے پولنگ کے  3نومبر کے دن رش کم کرنے کیلئے چند روز قبل مختلف شہروں میں  ”سٹیلائٹ لوکیشنز“ پر جاکر ووٹ ڈالنے کی سہولت فراہم کی۔ دلچسپ بات یہ ہوئی کہ رجسٹرڈ ووٹرز کی بھاری تعداد نے قبل از وقت ووٹ ڈالنے کی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا۔ نتیجہ  یہ ہوا کہ 2016ء کے صدارتی انتخابات کے ٹرن آؤٹ کے ستر فیصد ووٹرز نے یہ حق استعمال کیا جن کیتعداد دس کروڑ کے قریب پہنچ گئی۔ اس کے بعد مید حیران کن بات یہ ہوئی کہ پولنگ والے دن بھی ووٹرز کی اچھی خاصی تعداد نے باہر نکل کر ووٹ ڈالا اور سب مبصرین کو حیران کردیا۔ پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد کمپیوٹرئازڈ سسٹم کے تحت جو ووٹ ڈالے گئے ان کی گنتی بہت آسان تھی اور منگل کی راست مسلسل نتائج آتے رہے۔ ابتدائی نتائج میں اگرچہ صدر ٹرمپ مجموعی اعتبارسے جوبائیڈن سے پیچھے ہی رہے لیکن کافی ریاستوں میں ان کو کامیابی نظر آرہی تھی جس کے مطاب ان کا جوبائیڈن سے آگے نکلنے کا امکان دکھائی دے رہا تھا تاہم بدھ کی صبح جب قبل از وقت ووٹنگ کی گنتی سٹیشن پر ڈالے جانے والے ووٹوں میں شامل ہونا شروع ہوئی تو جوبائیڈن کی پوزیشن بہتر نظر آنے لگی۔ خاص طور پر ”جنگی میدان“ کی ریاستوں پنسلوینیا، مشی گن اور وسکونسن میں ان کی صورتحال بہتر ہونے لگی۔ پنسلوینیا ریاست میں ڈیموکریٹک پارٹی حمایت والے علاقوں کے ووٹ ابھی کتنی میں شامل نہیں ہوئے اس  لئے جوبائیڈن کو امید ہے کہ وہ 20 الیکٹورل ووٹوں والی اس ”سونگ“ ریاست میں صدرٹرمپ کی موجودہ برتری ختم کرکے یہ تمام ووٹ حاصل کرسکیں گے۔ اس کے بعد بدھ کی صبح انہیں مشی گن اور وسکونسن کی ریاستوں میں بھی برتری مل گئی۔ اس طرح وہ چند ایسی ریاستوں میں کچھ آگے نکل گئے  جہاں اگر وہ حتمی نتائج میں کامیاب ہوگئے تو پھر ان کیلئے 270 الیکٹورل ووٹوں کا ٹارگٹ حاصل کرنا مشکل نہیں ہوگا۔ جوبائیڈن نے بدھ کی صبح اپنی آبائی ریاست ڈیلاویئر کے شہر ولمنگنٹن میں اپنے حامیوں کے سامنے نمودار ہوکر یہ بیان دیا کہ ان کی پوزیشن وسکونسن اور مشی گن میں بہت بہتر ہے اور توقع ظاہر کی کہ وہ پنسلوینیا کو بھی جیت لیں گے۔ صدر ٹرمپ کو فلوریڈا، اوہائیو اور ٹیکساس میں کامیابیوں نے وائٹ ہاؤس میں برقرار رہنے میں مدد نہیں گی تاہم اس سے جوبائیڈن کے صدر بننے کے راستے میں کچھ رکاوٹ ضرور پیدا ہوئی ہے جو آثار نظر آرہے ہیں ان کے مطابق صدر ٹرمپ کی نسبت جوبائیڈن کا 270 الیکٹورل ووٹوں کا ٹارگٹ ممکن نظر آرہا ہے۔ تاہم صورتحال واضح ہونے میں ابھی مزید ایک دودن لگ سکتے ہیں۔ دوسری طرف صدرر ٹرمپ کے وکلاء نے مشی گن ویسکونسن، پنسلوینیا  میں ووٹوں کی گنتی رکوانے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کر دی ہے، فلوریڈا، ٹیکساس، اوہائیو اور اوکلاہوما میں ٹرمپ نے میدان مار لیا۔ واشنگٹن، نیویارک، ایری زونا میں جوبائیڈن کامیاب ہوئے، ان کو کیلی فورنیا سے 55 الیکٹورل ووٹ ملے۔ریاست وسکونسن میں جوبائیڈن کو برتری ملی ہے جہاں پہلے ٹرمپ کو برتری ملی تھی۔ دونوں امیدواروں کے درمیان جارجیا اور مشی گن میں کانٹے کا مقابلہ ہے، پنسلوینیا اور الاسکا میں ٹرمپ آگے ہیں۔ ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا پر امن انتقال اقتدار ہونے جا رہا ہے، میں جیت گیا تو امریکا کو سیاسی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونے دوں گا، اس بار امریکی تاریخ میں سب سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے ہیں، ٹرمپ امریکا کو پیچھے لے کر گئے ڈیمو کریٹک صدارتی امیدوار جوبائیڈن نے کہا ہے کہ وہ اپنی پوزیشن سے مطمئن ہیں، امید ہے صدارتی انتخابات جیت جائیں گے، پنسلوانیا سے بھی کامیاب ہوں گے۔  جوبائیڈن نے امریکی شہر ولمنگٹن میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم جیت کی راہ پر گامزن ہیں، تحمل رکھیں ہم جیت رہے ہیں، حامیوں کا شکرگذار ہوں، نتائج مکمل ہونے میں وقت لگے گا، ہر ووٹ کی گنتی تک مقابلہ ہے۔ دوسری طرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوام سے فراڈ ہو رہا ہے، ان کے نزدیک تو وہ الیکشن جیت چکے ہیں، ری پبلکن امیدوار نے سپریم کورٹ جانے کی بھی دھمکی دے دی۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکی عوام کے ساتھ فراڈ ہمارے ملک کے لیے باعث شرمندگی ہے، صاف صاف بتاوں تو ہم یہ الیکشن کلین کر چکے ہیں، امریکی عوام کے ساتھ یہ بڑا فراڈ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم باقاعدہ ضابطہ اخلاق کے ساتھ اس انتخاب کی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے امریکی سپریم کورٹ میں جا رہے ہیں، ہم چاہیں گے کہ صبح چار بجے والے ووٹ کو نتائج میں شامل نہ کیا جائے۔ یہ بڑے دکھ کا لمحہ ہے، میں یہ پھر بتاتا چلوں کہ ہم انتخابات پہلے ہی جیت چکے ہیں۔ جنہوں نے ہمیں سپورٹ کیا اور جنہوں نے ہماری مدد کی میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔دریں اثناجوبائیڈن کی صدارتی مہم کے منیجر نے امریکی صدر ٹرمپ کے سپریم کورٹ جانے کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ ووٹوں گنتی سے بچنے کیلئے سپریم کورٹ گئے تو ہماری لیگل ٹیم بھی تیار ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق اپنے ایک بیان  میں انہوں نے کہا   کہ  ٹرمپ کا ووٹوں کی گنتی روکنے کا بیان اشتعال انگیز اور انوکھا ہے۔منیجرجوبائیڈن مہم نے یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹس کی لیگل ٹیمیں ٹرمپ کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کریں گی۔دوسری جانب پنسلوانیا کے ڈیموکریٹ گورنر ٹام وولف نے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج آنے سے قبل اپنی جیت کا اعلان کرنے پر آڑے ہاتھوں لیا اور اور اسے جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔گورنرپنسلوانیا نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں کہا کہ پنسلوانیا میں ایک ملین سے زائد میل ان بیلٹس ووٹوں کی گنتی ہونا باقی ہے۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاوس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’میرے نزدیک تو ہم الیکشن جیت چکے ہیں، مجھے ایک شاندار فتح حاصل ہوئی ہے۔‘ صدر ٹرمپ کی طرف سے کامیابی کے دعوے کے بعد  واشنگتن سمیت کئی ریاستون مینن صدر ترمپ کیکلاف احتجاج شروع ہو گیا واشنگٹن میں  وائٹ ہاوس کے سامنے ہنگامہ آرائی کا واقعہ سامنے آیا۔وائٹ ہاوس کے سامنے ٹرمپ کے مخالفین جمع ہو گئے اور بعض مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی بھی کی، ہنگامہ آرائی کرنے والے ماسک پہنے افراد کو پولیس کی جانب سے پکڑنے کی کوشش کی گئی۔وائٹ ہاوس کے سامنے مجمع میں موجود نوجوانوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی کرنے والے افراد کو پولیس سے بچانے کی کوششیں بھی کی گئیں۔واشنگٹن میں وائٹ ہاوس کے سامنے مشتعل افراد کی جانب سے ہنگامہ آرائی کرنے پر مزید ہنگاموں کے خدشے کے پیش نظر امریکی دارالحکومت واشنگٹن، لاس اینجیلس، نیو یارک سمیت کئی شہروں میں دکانوں اور ریسٹورانٹس کو لکڑی کے تختوں سے ڈھانپ دیا گیا ہے۔

امریکی الیکشن

مزید :

صفحہ اول -