چین ترجیحی منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ماہرین کی ٹیم فوری پاکستان بھیجے: جے ڈبلیو جی اجلاس 

          چین ترجیحی منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ماہرین کی ٹیم فوری پاکستان ...

  

 اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) سی پیک فریم ورک کے تحت سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی) میں 10ویں جے سی سی میں دستخط کے لیے دستاویزات تیار کیے جا نے،مزید تیسرے مرحلے کے لئے منصوبے تیار کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا اور چینی فریق سے درخواست کی گئی کہ وہ اپنے ماہرین کو ترجیحی منصوبوں پر عمل درآمد کے لئے بھیجیں، فریقین نے اتفاق کیا کہ منصوبوں کی بروقت تکمیل  کے حصول کے لئے عمل درآمد کی رفتار پر نظر رکھی جائے گی جبکہ پاکستان نے آسٹریا کے ساتھ کوآپریٹو منصوبے سمیت تکنیکی تعلیم کے منصوبوں کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے برن سینٹر کے منصوبوں کو بھی تمام صوبوں اور خطوں میں ترجیحی بنیادوں پر چلانے کی تجویز پیش کردی، فریقین نے جے ڈبلیو جی کے تحت زراعت، تعلیم، صحت، غربت کے خاتمے اور پیشہ ورانہ تربیت کے کلیدی شعبوں میں جاری منصوبوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا اور گوادر میں پاک چین فرینڈشپ ہسپتال، ووکیشنل ٹیکنیکل اسکول اور ڈسیلی نیشن پلانٹ پر بھی تبادلہ خیال کیا اور ان جاری منصوبوں پر طے شدہ وقت کے مطابق عمل درآمد کرنے پر اعادہ کیا گیا۔بدھ کوسی پیک فریم ورک کے تحت سماجی و اقتصادی ترقی سے متعلق مشترکہ ورکنگ گروپ(جے ڈبلیو جی)کا دوسرا اجلاس ویڈیو لنک کے ذریعے ہوا، جس میں 1ارب ڈالر کی چینی گرانٹ کے تحت منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں فاسٹ ٹریک اور ترجیحی منصوبوں کی پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔ زراعت کے شعبہ میں لیبارٹریوں، آلات اور اوزاروں کی فراہمی، سمارٹ کلاس روم پروجیکٹ اور تعلیم کے شعبے میں بیرون ملک مقیم طلبا وظائف پروگرام، پاکستان ووکیشنل اسکولوں کے سازوسامان اور بلوچستان میں سولرائزیشن پروجیکٹ کے علاوہ اے جے کے اور کے پی میں پینے کے پانی کی فراہمی کے منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔پاکستان کی جانب سے پاک آسٹریا کے ساتھ کوآپریٹو منصوبے سمیت تکنیکی تعلیم کے منصوبوں کو تیز کرنے پر زور دیا گیا۔ 

جے ڈبلیو جی اجلاس 

مزید :

صفحہ اول -