نااہلی کیس، واوڈا کے جواب داخل  نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

   نااہلی کیس، واوڈا کے جواب داخل  نہ کرانے پر اسلام آباد ہائیکورٹ برہم

  

اسلام آ باد (سٹاف رپورٹر)   اسلام آباد ہائیکورٹ نے نااہلی کیس میں فیصل واوڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیصل واوڈا کے وکیل سے مکالمہ میں کہا کہ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟،کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نا کھیلیں،آپ الیکشن کمیشن میں بھی نہیں پیش ہورہے، ادھر پیش نہیں ہورہے اور یہاں بھی یہی کررہے ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں وفاقی وزیر فیصل واڈا نااہلی کیس کی سماعت ہوئی،وفاقی وزیر فیصل واڈا کی جانب سے جواب داخل نہ کرانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا،فیصل واوڈا کے وکیل محمد بن محسن نے اپنے دلائل میں کہا کہ فیصل واڈا کی جانب سے عدالتی کارروائی روکنے کی درخواست دائر کی ہے، الیکشن کمیشن میں چار درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل جہانگیر جدون نے کہا کہ فیصل واوڈا الیکشن کمیشن جا کر کہتے ہیں کہ معاملہ ہائی کورٹ میں بھی چل رہا ہے جسٹس عامر فاروق نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پہلے یہ بتائیں کہ ہمارے آرڈر کی روشنی میں جواب داخل کرا دیا ہے؟ آپ نے الیکشن کمیشن کی آرڈر شیٹس درخواست کے ساتھ کیوں نہیں لگائیں؟ کورٹ کے ساتھ ہائیڈ اینڈ سیک نہ کھیلیں، آپ الیکشن کمیشن میں بھی نہیں پیش ہو رہے، آپ ادھر پیش نہیں ہو رہے اور یہاں بھی یہی کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے فیصل واڈا کے کاغذات نامزدگی کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا، الیکشن کمیشن کے وکیل کے عدالت کو بتایا کہ ریکارڈ کے ساتھ دہری شہریت نہ رکھنے کا فیصل واڈا کا بیان حلفی بھی جمع کرا دیا گیا ہے،گیارہ جون 2018 کو فیصل واوڈا نے بیان حلفی جمع کرایا کہ دہری شہریت نہیں رکھتے۔ جسٹس عامر فاروق نے بیرسٹر جہانگیر جدون سے مکالمہ۔کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا کیس یہ ہے کہ فیصل واڈا کاغذات نامزدگی جمع کراتے وقت دہری شہریت رکھتے تھے، جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس میں کہا کہ امریکی شہریت ترک کرنے کی درخواست تو بعد میں 25 جون 2018 کو منظور ہوئی، اس کا مطلب ہے کہ جب بیان حلفی جمع کروایا گیا تو وہ امریکی شہری تھے۔

 فیصل واوڈا 

مزید :

صفحہ اول -