تبدیل کے نام پر ووٹ لینے والو ن نے عوام پر زندگی کے دروازے بند کر دیئے: ایمل ولی 

تبدیل کے نام پر ووٹ لینے والو ن نے عوام پر زندگی کے دروازے بند کر دیئے: ایمل ...

  

 صوابی(بیورورپورٹ) عوامی نیشنل پارٹی صوبہ خیبر پختونخوا کے صدر ایمل ولی خان نے واضح کر دیا ہے کہ بائیس نومبر کو پشاور میں پاکستان ڈیمو کریٹک مومنٹ کے زیر اہتمام ہونے والا تاریخی جلسہ عام موجودہ ناکام پی ٹی آئی حکومت کے خلاف عوامی ریفرنڈم ثابت ہو گا جب کہ گیارہ نومبر کو پختون شہداء کی تضحیک کرنے والے سلیکٹڈ اور سیاسی لوٹے وزیر داخلہ کو گھر بھیجیں گے ان خیالات کااظہار انہوں نے بدھ کی شام چھوٹا لاہور میں پی ٹی آئی کے بانی رہنما و سابق امیدوار صوبائی اسمبلی ڈاکٹر فاروق خان کی ساتھیوں سمیت اے این پی میں شمولیت کے موقع پر ایک جلسہ سے عام سے خطاب کر تے ہوئے کیا۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری جنرل سردار بابک نے کہا کہ تبدیلی کے نام پر ووٹ لینے والوں نے عوام پر زندگی کے دروازے بند کر دیئے مہنگائی نے غریب عوام کا جینا محال کر دیا ہے غریب عوام فاقوں پر مجبور ہیں۔ جلسے سے خطاب کر تے ہوئے ایمل ولی خان نے کہا کہ حکومت پی ڈی ایم پشاور جلسے کو ناکام بنانے کیلئے دہشتگردوں کے ساتھی، دہشتگرد حملوں کے تھریٹ الرٹس جاری کررہے ہیں لیکن ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ اس قسم کے حربوں اور تھریٹ الرٹس سے کم از کم عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنان مرعوب نہیں ہوں گے۔ بھاڑ میں جائیں تھریٹ الرٹس، جلسہ ہر صورت ہوگا۔ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ پورے صوبے میں دہشتگرد منظم ہورہے ہیں، دیر،سوات، بونیر، باجوڑ اور دیگر علاقوں میں بھتے وصول کئے جارہے ہیں۔ دیر میں لڑکیوں کے سکولوں پر پابندی کے خطوط بھیجے جارہے ہیں لیکن تبدیلی سرکار کی نااہل حکومت اور طالبان کے ہمدرد ٹھس سے مس نہیں ہورہے۔ پشاور میں طالبان کو دفتر دینے والے آج عوامی نیشنل پارٹی اور دیگر سیاسی جماعتوں کو طالبان کے حملوں سے ڈرارہے ہیں۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ22نومبر کا جلسہ سلیکٹڈ کو گھر بھیجے گا جبکہ اس سے پہلے 11نومبر کو پختون شہداء کی تضحیک کرنیوالے سلیکٹڈ اور سیاسی لوٹے وزیرداخلہ کو گھر بھیجیں گے۔ سلیکٹرز نے ایک غیرسیاسی شخص کو وزارت داخلہ جیسی اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ یہی سیاسی لوٹا اگر لاکھوں پشتونوں کے جذبات کے ساتھ کھیلے گا تو ہم خاموش نہیں رہیں گے۔ کالعدم ٹی ٹی پی اور طالبان کی ہمدرد پی ٹی آئی حکومت کی مخالفت کرنے پر ایک قسم کے نتائج کی دھمکی دینے والے وزیر کو پشتون شہداء کے لواحقین مزید دفتر میں نہیں چھوڑیں گے۔ ہر کارکن بشمول لیڈران 11نومبر کو سرخ لباس کے ساتھ اسلام آباد جائیں گے اور تب تک بیٹھے رہیں گے جب تک دونوں مطالبات پورے نہ ہو۔ ایمل ولی خان نے کہا کہ ہمارے دو مطالبات ہیں، ایک انکوائری کمیشن جو (انسداد) دہشتگردی میں شہید ہونیوالے تمام شہداء کے بارے میں ریاستی موقف واضح کریں کہ ان قیمتی جانوں نے کس لئے قربانیاں دی ہیں او دوسرا مطالبہ وزیرموصوف کو گھر بھیجنا ہے۔ اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے کہا کہ 22نومبر کا جلسہ عوامی ریفرنڈم ہوگا۔ عوام ثابت کریں گے کہ وہ اس نااہل حکومت کو مزید ماننے کو تیار نہیں۔ سات سال سے اس صوبے پر مسلط حکومت صوبائی حقوق کی جنگ ہار چکی ہے۔ وزیراعلیٰ سے وزراء اور مشیروں تک کوئی بھی صوبائی حقوق کا مقدمہ لڑنے کو تیار نہیں۔ صوبے میں پیدا ہونیوالی بجلی اپنے صوبے کو عوام کو دستیاب نہیں اور پھر ہمیں کہا جاتا ہے کہ آج پشتونوں کی حکومت ہے۔ ہم واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پشتون پی ٹی آئی کی سلیکٹڈ حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے 22نومبر کو پشاور کا رخ کریں گے اور اس دن ایک عوامی سمندر اپنا فیصلہ سنائیگا

مزید :

پشاورصفحہ آخر -