متنی کے باشندوں کا رہائش گاہ اور دفتر دکانوں کی مسماری کیخلاف مظاہرہ

متنی کے باشندوں کا رہائش گاہ اور دفتر دکانوں کی مسماری کیخلاف مظاہرہ

  

پشاور(سٹی رپورٹر)پشاور متنی کے رہائشیوں نے رہائش گاہ اور دفتر و دکانوں کی مسماری پر ضلعی انتظامیہ پشاور کیخلاف کوہاٹ روڈ پشاور پربدھ کے روز احتجاجی مظاہر ہ کیا اور مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر رضوانہ ڈار کے مبینہ غیر قانونی کا رروائیوں اور اختیارات کے نا جائز استعمال کیخلاف نوٹس لیا جائے مظاہرین کی قیادت متنی کے رہائشی عظمت اقبال نے پائیو گل ا ورعلی گل و دیگرمتاثرین کررہے تھے عظمت اقبال کا کہنا تھا کہ چند روز قبل اسسٹنٹ کمشنر رضوانہ ڈار کی جانب سے انہیں گرانفروشی کا نوٹس موصول ہوا حالانکہ میرا کوئی ذاتی دکان نہیں تاہم چالان پر اے سی نے بتایا کہ آپ پر افتخار پٹواری نے خسرہ نمبر 5793پر قبضے کا عویٰ دائر کیا ہے جس پر انہوں نے بتایا کہ اس خسرہ نمبر پر سول کورٹ میں دعویٰ بعنوان ملک شاہ محمدبنام ہنر گل سے جمع ہے اور اس میں حکم امتناعی ہے جبکہ ریکارڈ دیکھنے کے بعد اے سی رضوانہ ڈارنے کہا کہ وہ عدالت کا فیصلہ نہیں مانتی26 اکتوبر 2020 ئکو انہوں نے ڈی سی کو اس حوالے سے درخواست دی لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا لیکن وکلائکی ہڑتال کی وجہ سے پیشی نہیں ہوئی تاہم 29 اکتوبر کو دن دوبجے اے سی رضوانہ ڈار نے بھاری نفری اور ہیوی مشینری کیساتھ پہنچ کر بغیر کوئی نوٹس یا اطلاع دیئے گھر، آفس اور پندرہ دکانیں مسمار کر دیئے اور ساتھ تین عدد موبائل فون،کوئلہ اور کرش باجری بھی لے گئی جو سرا سر اختیارات کا نا جائز استعمال اور توہین عدالت کے زمرے میں آتاہے اب مذکورہ خاتون آفیسر جیل بھجوانے کی دھمکیاں بھی دے رہی ہے اس سلسلے میں وہ تھانہ متنی میں ایف آئی آر درج کرنے گئے تاہم پولیس نے ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر دیامظاہرین نے وزیر اعلیٰ، چیف جسٹس، چیف سیکرٹری، گورنر اوردیگر حکام سے مطالبہ کیا کہ اسسٹنٹ کمشنر رضوانہ ڈار اور ان کی ٹیم کے غیر قانونی کاروائیوں اور اختیارات کے نا جائز استعمال کا نوٹس لیکر قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے ورنہ احتجاج میں شدت لائینگے

مزید :

پشاورصفحہ آخر -