ہیلتھ کیئر کمیشن خیبر پختونخوا کا بورڈ آف گورنرز تشکیل 

ہیلتھ کیئر کمیشن خیبر پختونخوا کا بورڈ آف گورنرز تشکیل 

  

پشاور(نیوز رپورٹر) خیبرپختونخوا حکومت نے ہیلتھ کیئرکمیشن خیبرپختونخوا کا بورڈ آف گورنرز تشکیل دے دیاجبکہ جسٹس قیصر رشید نے کہا ہے کہ ایک سال میں صرف بی اوجی بنایاگیاہے، صوبائی حکومت کی جانب سے انتہائی سنجیدہ معاملے میں غیرسنجیدگی کا مظاہرہ کیاجارہاہے،ادویات کی قیمتوں میں 300سے 400فیصد اضافہ ہوا ہے،عوام کیلئے اینٹی بائیوٹک خریدنا مشکل ہوچکا ہے تشخیصی ٹیسٹوں کی قیمتوں سے متعلق میڈیا سے پتہ چلتا ہے، میڈیاوالے بہادر لوگ ہیں جو نوٹس میں لارہے ہیں،عدالت نے چیئرمین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کوبھی اگلی سماعت پر طلب کرلیا۔جسٹس قیصررشید اورجسٹس لعل جان خٹک پرمشتمل دورکنی بنچ نے ملک محمد اجمل خان اور سیف اللہ محب کاکاخیل ایڈوکیٹس کیجانب سے دائررٹ درخواستو ں پر سماعت کی اس موقع پرایچ سی سی کے ڈائریکٹر آپریشنز نے عدالت کو بتایا کہ لیبارٹریز میں ٹیسٹوں کی قیمتوں کے تعین کیلئے بی او جی بنا دیا گیا ہے،اگلے اجلاس میں چیئرمین بھی شامل ہونگے جس پر جسٹس قیصر رشید نے کہا کہ ایک سال میں صرف بی او جی بنایا گیا ہے،کیا چیئرمین میٹنگ میں صرف چائے پینے کیلئے آتے ہیں،آپ لوگ کرتے کیا ہو، حکومت کے ہر ادارے کو نوٹس دے تب آپ کام کرینگے فاضل جسٹس نے مزید کہا کہ میڈیاکے ذریعے ٹیسٹوں کی قیمتوں کے حوالے سے پتہ چلتا ہے،میڈیا والے اچھے طریقے سے اپنا کام کرتے ہیں یہ بہادر لوگ ہیں جو نوٹس میں لا رہے ہیں، کچھ ذمہ داریاں آپ لوگوں کی بھی بنتی ہے سویا دو سو روپے میں ہونے والے ٹیسٹ ہزاروں میں ہو رہے ہیں،ایسے لوگ نہیں چاہیے جواجلاس میں چائے کیلئے آتے ہوں جسٹس قیصررشید کا کہنا تھاکہ ادویات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں، فلو کے سیزن میں اینٹی بائیوٹک خریدنامشکل ہوچکا ہے تین سو سے چارسو فیصد دوائیاں مہنگی ہوئی ہیں، کیا حکومت کو اسکا ادراک ہے۔ دورکنی بنچ نے چیئرمین ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو اگلی سماعت پر طلب کر لیاجبکہ کیس پرمزید سماعت 19 نومبر تک ملتوی کردی گئی۔

مزید :

پشاورصفحہ آخر -