جنسی تشدد کے تدارک کیلئے معاشرتی آگاہی ناگزیر ہے،ثناء اللہ عباسی

جنسی تشدد کے تدارک کیلئے معاشرتی آگاہی ناگزیر ہے،ثناء اللہ عباسی

  

چارسدہ (بیورورپورٹ) آئی جی خیبر پختونخواثناء اللہ عباسی نے کہا ہے کہ معاشرتی آگاہی سے بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے واقعات میں کمی آسکتی ہے۔ خیبر پختونخواہ کے پولیس دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ پشاور مدرسہ واقعہ دہشت گردی کا بہت بڑا سانحہ تھاجس کے ملزمان عنقریب قانون کے کٹہرے میں ہونگے۔وہ چارسدہ میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے حوالے سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کر رہے تھے۔اس موقع پر آ رپی او مردان شیر اکبر خان اور ڈی پی او چارسدہ محمد شعیب خان بھی موجود تھے۔قبل ازیں آئی جی ڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے دارالعلوم اسلامیہ چارسدہ کا اچانک دورہ کیا اور مہتمم جامعہ سابق ایم این اے مولانا سید گوہر شاہ،مولانا غلام محمد صادق،مفتی عبد اللہ شاہ اور مفتی عبد الروف شاکر سے خصوصی ملاقات کی اور ان سے پشاور مدرسہ واقعہ سمیت سیکورٹی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی۔۔ آئی خیبر پختونخواڈاکٹر ثناء اللہ عباسی نے جنسی ہراسمنٹ کے حوالے سے منعقدہ سیمنار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں بچوں پر جنسی تشدد کے زیا دہ تر کیسز کو پولیس ٹریس کرچکی ہے اور تقریبا تمام کیسز کے ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا ہے جبکہ اس قسم کے واقعات میں مزید کمی لانے کے لئے معا شرے کے ہر فرد پر ذمہ داریاں عائد ہوتی ہے کیونکہ ایسے واقعات سے نہ صرف انسانیت بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے۔ پولیس اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام دینے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے تاہم والدین اپنے بچوں کو اس قسم کے واقعات سے بچانے کے لئے احتیا ط کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داری پوری کریں۔انہوں نے کہا کہ پولیس بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں کمی لانے کے لئے سسٹم کو مزید بہتر کر رہی ہے، پولیس کو اس حوالے سے تربیت بھی دی جا رہی ہے اور اس سیمنارکا مقصدبھی نوجوا ن نسل میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ طلباؤ طالبات سفیر بن کر گھر گھر تک پیغام پہنچا ئے اور بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات میں کمی لانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ آئی جی کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخواہ کے پولیس دہشت گردی کے واقعات پر قابو پانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔پشاور مدرسہ واقعہ دہشت گردی کا بہت بڑا سانحہ تھاجس کی تحقیقات جاری ہے اورواقعہ میں ملوث ملزمان کو عنقریب ملزم قانون کے کٹہرے میں ہونگے۔خیبر پختونخواہ میں دہشت گردی کے جتنے واقعات ہوئے ہیں تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچ چکے ہیں۔ 

مزید :

پشاورصفحہ آخر -