حکومت کاشتکاروں کو ریلیف دینے کیلئے عملی اقدامات کرے‘ سراج الحق 

  حکومت کاشتکاروں کو ریلیف دینے کیلئے عملی اقدامات کرے‘ سراج الحق 

  

ملتان (پ ر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے منصورہ میں جے آئی کسان کے صدر چوہدری شوکت چدھڑ کی قیادت میں کسان تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرنے والے(بقیہ نمبر27صفحہ 6پر)

 کسانوں پر پولیس تشدد اور بلاجواز گرفتاریوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیاہے کہ گرفتار کسانوں کو فوری رہا کیا جائے۔ کسانوں کے مطالبات سنے اور مسائل حل کیے جائیں۔ زرعی مداخل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے کاشتکاری مشکل اور زراعت کو تباہ کردیا ہے۔ حکومت فوری طور پر گندم کی قیمت 2000 روپے فی من کرے۔ حکومت پہلے کسانوں سے سستی گندم خرید کر باہر بھیج دیتی ہے اور پھر باہر سے مہنگی گندم خریدتی ہے۔ یہ ملک و قوم کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔ اس موقع پر سیکرٹری اطلاعات قیصر شریف بھی موجود تھے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت میں مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی اور غداری میں اضافہ ہوا۔ لوگ بارش سے بھاگ رہے تھے اور پرنالے کے نیچے آگئے۔ حکومت موجودہ کارکردگی سے اپنی مدت پوری نہیں کرسکتی۔ تبدیلی کا وعدہ کرنے والوں نے سرکاری افسروں کی بار بار تبدیلیوں کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔ اختیارات اسلام آباد کے پاس ہیں یا راولپنڈی کے کسی کو کچھ نہیں پتہ چلتا۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ فوج میرے ساتھ ہے۔ فوج ملک و قوم کے ساتھ ہے۔قومی ادارے عوام کے ٹیکسوں کی آمدن پر چلتے ہیں کسی ایک پارٹی کے فنڈز پر نہیں۔ جب بھی حکومت کی کارکردگی پر بات آتی ہے، وزیراعظم اداروں کے پیچھے پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ قوم سے جھوٹ نہ بولنے کا وعدہ کر کے جھوٹ کے معانی بدل دیے ہی۔ اب وزیراعظم کہتے ہیں کہ بڑا یوٹرن لینے والا ہی بڑا لیڈر ہے۔ حکومت خود ہی اپنی اداؤں پر غور کرے ان اداؤں کے ساتھ وہ مزید نہیں چل سکتی۔ حکومت کا ہنی مون پریڈ ختم ہوچکا اب ڈلیورکرے گی تو رہے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر آٹا 25 فیصد، چینی 40 فیصد، خوردنی تیل 30 فیصد، بجلی اور پٹرول 35، گیس 50 فیصد سستی کرے تاکہ عوام کو کچھ ریلیف مل سکے۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ ملک میں سیاسی تناؤ سے بدامنی اور بے چینی میں اضافہ ہواہے۔ حکومت عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں عوامی مسائل کے حل کے لیے نہیں، اپنے مفادات کی تکمیل کی جنگ ہورہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی نے ملک میں قیامت خیز اور تباہ کن مہنگائی کے خلاف جو تحریک شروع کی ہے، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ ہمیں عوامی سطح پر ڈائیلاگ سے مسائل کا حل نکالنا پڑے گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ حکومت کسانوں سے ان کی خون پسینے کی کمائی لوٹ رہی ہے۔ غریب کسان سکون سے جینا چاہتا ہے،مگر وزیراعظم کہتے ہیں کہ سکون قبر میں ملے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کسانوں پر تشدد کی معافی مانگے اور ان کے مطالبات پورے کیے جائیں۔ حکومتی پالیسی کی وجہ سے کسان کی کمر ٹوٹ گئی ہے۔ جعلی زرعی ادویات، کھادوں اور بیج کی وجہ سے کسان کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ زرعی مداخل میں اضافے، پانی کی عدم دستیابی اور مہنگی کھاد و بجلی سے کسان کے لیے کاشتکاری گھاٹے کا سودا بن گئی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے مطالبہ کیاکہ حکومت زرعی اجناس کی قیمتیں طے کرنے والی کمیٹیوں میں کسان نمائندوں کو شامل کرے۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کسانوں کے ساتھ کھڑی ہے اگر حکومت نے کسانوں کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ملک بھر میں احتجاج کیا جائے گا۔ جماعت اسلامی 8 نومبر کو مہنگائی کے خلاف بونیر میں بڑا احتجاجی جلسہ کرے گی۔

سراج الحق

مزید :

ملتان صفحہ آخر -