الزام تراشی کے بعد حکومت عوامی مسائل حل کرے‘ حامد سعید کاظمی 

الزام تراشی کے بعد حکومت عوامی مسائل حل کرے‘ حامد سعید کاظمی 

  

روجھان (نمائندہ پاکستان) سابق وفاقی وزیربرائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے روجھان کا دورہ کیا اور جامعہ مسجد اہلسنت ٹاور چوک پر شان رسالت پر سینکڑوں عوام سے خطاب کیا بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد (بقیہ نمبر29صفحہ 6پر)

سعید کاظمی نے کہا کہ عوام غربت کے ایام میں حضور اکرمؐ کی سادہ زندگی سے سبق سیکھیں اس موقع پر مولانا حاجی محمد امین سعیدی مولانا شوکت حسین سعیدی خورشید احمد بزدار ماسٹر عبدالمجید خالد حسین سعیدی مولانا قاری امام دین سعیدی مولانا حضور بخش سعیدی قاری اختر حسین سعیدی شبیر احمد سعیدی عبدالستار سعیدی حاجی خواجہ بخش سعیدی سابق کونسلر جام اکبر حسین سمیت سینکڑوں عقیدت مند موجود تھے میڈیا کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے کہا کہ حکومت کا ہنی مون پریڈ گزر چکا ہے اب عوامی مسائل پر توجہ دیں سابقہ حکومتوں پر الزام ترشی کی بجائے عوامی مسائل پر توجہ دیں ہر آنے والی حکومت نے  عوام سے  بلند وبانگ دعوی کیے مگر عملی طور پر کچھ نہیں کیا حکومت اسوقت سے ڈرے جب عوام بھوک سے تنگ ہوکر قتل وغارت ڈکیتی پر اترے آئے انھوں نے مذید کہا کہ ایاز صادق کا بیان  حماقت پر منبنی ہے ایسا لگتا ہے کہ ایاز صادق نے بونگی ماری ہے ایاز صادق کے بیان سے حکومتی وقار داو پر لگا نواز شریف پر بھارت کے ساتھ تجارتی اور دیگر تعلقات پر ایاز صادق نے مہر لگا دی ہے انھوں نے کہا کہ ایاز صادق کے بیان کو معمولی نہ سمجھا جائے  ٹھوس اقدامات کیے جائے تاکہ اس قسم کا بیان کوئی دوسرا نہ دیں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سید حامد سعید کاظمی نے کہا کہ فرانس جیسے ممالک توہین آمیز خاکے بنا کر مسلمانوں کو مشتعل کرنا چاہتے ہیں انکا مقصد  دنیا کو دیکھانا ہے کہ مسلمانوں جلاو گھراو والی جذباتی قوم ہے ہمیں دنیا کو بتانا ہے کہ توہین آمیز رویہ اپنا کر اللہ کے قہر کو آواز نہ دیں اور نہ مسلمانوں کو  پریشان نہ  کریں وہ حضور اکرم کے ساتھ احترام کا رویہ اپنا کر خود بھی سکون سے رہے اور مسلمانوں کو بھی سکون سے رہنے دیں انھوں نے مذید کہا کہ کرونا اللہ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ایس او پیز پر عمدر آمد ضرور کرنا چاہیے انھوں نے کہا کہ مجھے کرونا پر حکومت کا کنٹرول نظر نہیں آتا۔

حامد سعید

مزید :

ملتان صفحہ آخر -