حالات سنگین‘ ملک کو نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت‘ یوسف رضا گیلانی

حالات سنگین‘ ملک کو نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت‘ یوسف رضا گیلانی

  

ملتان (سپیشل رپورٹر‘ نیوز رپورٹر)سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پی ڈی ایم الیکشن الائنس نہیں ہے صرف سیاسی اتحاد ہے۔ الائنس ٹوٹنے سے پہلے حکومتیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں، پی ڈی ایم میں کوئی تفریق نہیں ہے تمام فیصلے قیادت مل کررہی ہے۔ میاں نواز (بقیہ نمبر11صفحہ 6پر)

شریف کے بیانیے کے بارے میں مرکزی قیادت فیصلے کرے گی۔ اگر مسائل کی ذمہ دار سابق حکومتیں ہیں تو موجودہ حکومت بھی ذمہ دار ہے کیونکہ حکومتی کابینہ میں آدھی ٹیم میرے جبکہ آدھی مشرف دور کی ٹیم بیٹھی ہے۔ اب ملک میں نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔ فرانس کی جانب سے نبی کریمؐ کی گستاخی پر مذمت کرتے ہیں۔  ان خیالات کا اظہار انہوں نے بلاول ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر مخدوم احمد، سیکرٹری جنرل نتاشہ دولتانہ، سینئر نائب صدر خواجہ رضوان عالم، چیف کوآرڈینٹر جنوبی پنجاب عبدالقادر شاہین، جنوبی پنجاب کے سیکرٹری انفارمیشن و ایم این اے نوابزادہ افتحار احمد خان، ایم این اے مہر ارشاد سیال کے علاوہ چوہدری سرور عباس، خواجہ عمران، چوہدری یاسین، ایم سلیم راجہ، شگفتہ چوہری، ایم پی اے شازیہ عابد اور دیگر نے بھی شرکت کی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ عوام مہنگائی کی چکی میں پسنے کی وجہ سے حکومت سے خوش نہیں، حکومت نے اپنے منشور پر عمل نہ کر کے لوگوں کو بد دل کیا ہے۔ اپوزیشن کی جدوجہد قانون اور آئین کی پاسداری کے لئے ہے۔ غریبوں کو حقوق دلانے کے لئے باہر نکل رہے ہیں، ہم نہ نکلتے تو عوام خود سڑکوں پر نکل آتے، جو زیادہ خطرناک ہوتا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کا انتخابی اتحاد نہیں ہے، ہر پارٹی کا اپنا الگ منشور ہے۔ میاں نواز شریف اور بی بی شہید نے میثاق جمہوریت میں بہت سی باتوں پر اتفاق کیا تھا، اب ملک کو نئے میثاق جمہوریت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اپوزیشن کو کنٹینرز اور کھانا دینے کی بات کرتی تھی، اب ہمیں صرف جلسے کی اجازت دے دے۔  30 نومبر کا پی ڈی ایم کا ملتان جلسہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف پر امن احتجاج ہو گا۔ جس کے لئے ہم قوانین کے مطابق اجازت لیں گے۔ پی ڈی ایم کے تمام جلسے کامیاب رہے۔ پی ڈی ایم کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کیا گیا، جہاں جسلوں کی اسٹریٹجی بنائی جائے گی۔ ہماری جدوجہد قانون کی عملداری کے لیئے آئین کے احترام کیلئے اور میڈیا کی آزادی کیلئے ہے۔ امریکی الیکشن کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ کی پالیسی پر زیادہ فرق نہیں آتا ابھی الیکشن کے حتمی نتائج آرہے ہیں۔ امریکی انتخابات کا ابھی نتیجہ آنا باقی ہے، جو بھی صدر بنے امریکہ کی پالیسی میں زیادہ فرق نہیں آتا۔ گندم کی امدادی قیمت کے حوالے سابق وزیراعظم نے کہا کہ سندھ گورنمنٹ نے 2ہزار روپے گندم کی قیمت مقرر کی ہے۔ ہم وفاقی گورنمنٹ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ گندم کی قیمت کے معاملے میں سندھ گورنمنٹ کو پیروی کرے۔

یوسف رضا

مزید :

ملتان صفحہ آخر -