چوک سرور شہید: تاجر اغواء‘ علاقے میں خوف‘ ورثاء کا واقعہ کیخلاف احتجاج 

  چوک سرور شہید: تاجر اغواء‘ علاقے میں خوف‘ ورثاء کا واقعہ کیخلاف احتجاج 

  

 چوک سرورشہید (نمائندہ پاکستان) چار مسلح افراد نے اپنے آپ کو سی ٹی ڈی اہلکار بتا کر تاجر کو اغواء کرلیا‘ 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کوئی پتہ نہ چل سکا،تفصیل کے مطابق(بقیہ نمبر23صفحہ 6پر)

 3 نومبرکو بوقت 12:00 بجے کے قریب سول لباس میں چار نامعلوم افراد، ایک سفید سوزوکی ویگنارکاربغیر نمبر پلیٹ میں اڈہ شبیر آباد صوبہ خان کریانہ و ڈیزل ایجنسی کی دوکان کے قریب آئے  اس کار میں چار مسلح افراد موجود تھے۔ یہ لوگ سارا دن کھڑے رہے اور کسی سے کوئی بھی بات نہ کی۔ شام 6:00 بجے کے قریب صوبہ خان نے ہمراہ گواہان مسمیان1۔ امیر خان ولد خان محمد قوم نیاز ی 2۔ منظور احمد ولد پہلوان قوم جٹ ملیہہ سکنائے دیہیہ ان کار سواروں سے جا کر پوچھا کہ تم یہاں کیوں کھڑے ہو تو ان میں سے ایک نے انہیں کارڈ دکھایا کہ وہ سرگودھاسے آئے ہیں اور ان کا تعلق محکمہ سی ٹی ڈی سے ہے۔ صوبہ خان ان پڑھ تھا کارڈ انگریزی زبان میں لکھا گیا تھااسے کوئی سمجھ نہ آئی اور وہ اور دیگر گواہان دوبارہ اپنی دوکان میں جا کر بیٹھ گئے۔ لیکن نصف گھنٹے کے بعد ہی یہ چاروں افراد سادہ لباس ملبوس معہ اسلحہ صوبہ کی دکان کے اندر داخل ہوگئے صوبہ خان کو قابو کرلیا اور اسلحہ کے زور پر زبردستی سفید رنگ کی بغیر نمبر پلیٹ گاڑی کار ویگنار میں ڈال کر روانہ ہوگئے اس کے بیٹے نے پولیس ہیلپ لائن ’15‘ پر فوری طور پر واقعے کی اطلاع دی اور فوری طور پر گواہان کے ہمراہ تھانہ سرورشہید میں خود جاکر اطلاع دی لیکن پولیس نے لاعلمی کا اظہار کیا کہ یہاں کوئی آمد روانگی نہ ہے۔ تاجر کے لاپتہ ہونے کی خبر شہر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی، تاجر کا موبائل فون نمبر 03464982001 بھی مسلسل بند جارہاہے۔ گزشتہ شب 24 گھنٹے گزر گئے لیکن اس کاکوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کون سا ادارہ تھا یا لوگ تھے جو اسے اٹھا کر لے گئے۔ اس کے بیٹے مصطفی کا کہنا ہے کہ ان کی کسی سے کوئی دشمنی نہ ہے۔ مغوی تاجر کے اہل خانہ اور اہل علاقہ نے اس واقعہ پر شدید احتجاج کیا اور ڈی پی او مظفرگڑھ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاجر اغواء

مزید :

ملتان صفحہ آخر -