مکتبہ دارالسلام کے زیراہتمام پنجابی زبان میں قرآن مجید کی تقریبِ رونمائی 

مکتبہ دارالسلام کے زیراہتمام پنجابی زبان میں قرآن مجید کی تقریبِ رونمائی 
مکتبہ دارالسلام کے زیراہتمام پنجابی زبان میں قرآن مجید کی تقریبِ رونمائی 

  

ریاض (وقار نسیم وامق) سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں مکتبہ دارالسلام کے زیر اہتمام قرآن مجید فرقان حمید کے پنجابی ترجمے کی تقریبِ رونمائی منعقد کی گئی جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام کے علاوہ سیاسی، سماجی اور ادبی شخصیات نے شرکت کی. 

اس موقع پر مکتبہ داراسلام کے ڈائریکٹر اور معروف عالم دین مولانا عبدالملک مجاہد نے اپنے صدارتی خطبے میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا کہ پاکستان میں ساٹھ فیصد لوگ پنجابی بولتے اور سمجھتے ہیں اس کے علاوہ پنجابی پوری اسلامی دنیا میں تیسری برصغیر کے مسلمانوں میں دوسری اور دنیا میں نویں بڑی زبان کا درجہ رکھتی ہے اس لئے آج تک جہاں دوسری زبانوں میں قرآن پاک کا ترجمہ کیا گیا ہے پنجابی زبان میں بھی اسکا ترجمہ ہونا ضروری تھا. 

مولانا عبدالمالک مجاہد نے کہا کہ قرآن پاک کا پنجابی زبان میں ترجمہ دیگر زبانوں کی طرح کوئی آسان عمل نہیں تھا اسکے پیچھے کئی سالوں کی محنت اور پنجابی کے خاص اسلوب کو اختیار کرنا ضروری تھا قرآن اللہ کی ایسی کتاب ہے جس کا ذمہ اللہ نے اپنے اوپر لیا ہوا ہے مگر اللہ نے ہم مسلمانوں کی بھی ذمے داری لگائی ہے کہ ہم اسکی تبلیغ کریں اسکو ہر گھر میں ہر خطے میں اس کی زبان کے مطابق پہنچائیں تاکہ اللہ کا پیغام عام ہو اور اسلامی تعلیمات کو فروغ ملے. 

مولانا عبدالمالک مجاہد نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہمارے ہاں پنجابی بولنے اور سمجھنے والوں کے لئے قرآن کا پنجابی ترجمہ یقیناََ فروغ پائے گا اور پنجابی سے لگاؤ رکھنے والے اس سے مستفید ہونگے، قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے قرآن انسانیت کی فلاح کا درس دیتا ہے اور زندگی گزارنے کے اصولوں سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ حقوق اللہ اور حقوق العباد سے بھی روشناس کرواتا ہے. 

مولانا عبدالمالک مجاہد نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں بائبل کے اب تک ہزاروں چھوٹی بڑی زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں مگر قرآن مجید کے اب تک ایک سو دس تراجم ہی ہوئے ہیں مگر اسکے مقابلے میں بائبل کے ہزاروں زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ قرآن مجید کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اللہ کی کتاب کے ہر زبان میں ترجمے کیے جائیں تاکہ حق تعالی کا پیغام عام ہوسکے اور دنیا اسلامی تعلیمات سے اپنی فلاح پا سکیں. 

قرآن پاک کا پنجابی میں ترجمے کا اہتمام کرنے والے نوجوان رائے عمران شہزاد کا کہنا تھا کہ اللہ نے انہیں یہ سعادت بخشی ہے کہ وہ اس عظیم کام کی انجام دہی کے لئے اپنا کردار نبھا رہے ہیں مترجم پروفیسر روشن خان کاکڑ کا بھی جتنی تعریف کی جائے کم ہے کہ انہوں نے پنجابی زبان میں قرآن مجید کے ترجمے کا بیڑا اٹھایا اور اسکو پایہ تکمیل تک پہنچایا جس میں مکتبہ داراسلام کی بھی کاوش بھی شامل ہے جو اسکو شائع کر رہے ہیں یہ ایک عظیم کام تھا جس میں اللہ کی مدد شامل حال رہی اور ہم کامیاب ہوئے ہماری خواہش ہے کہ قرآن مجید کے علاوہ احادیث مبارکہ کی کتب کا بھی پنجابی میں ترجمہ کیا جائے. 

دیگر مقررین میں عمر فاروق کیانی، ڈاکٹر محمود احمد باجوہ، حافظ عبدالوحید، قاری عبدالوحید، سید تاج، خالد اکرم رانا، ڈاکٹر سعید احمد وینس، ڈاکٹر اسد رومی، وقار نسیم وامق، رانا خادم حسین، نے بھی قرآن مجید کا پنجابی میں ترجمہ کرنے پر مولانا عبدالمالک مجاہد، رائے عمران شہزاد اور پروفیسر روشن خان کاکڑ کی محنت اور کاوش کو سراہا اور کہا کہ یہ عظیم سعادت ہے جسے ان تینوں افراد کے علاوہ دیگر ان کی ٹیم کے ساتھیوں نے کر دیکھایا ہے جس سے یقیناََ دنیا مستفید ہوگی اور ماں بولی پنجابی سے قرآن کو بہتر انداز میں سمجھ سکیں گے. 

 تقریب میں تلاوت کی سعادت محمد مجاہد اور قاسم امانت نے حاصل کی جبکہ اصلاحی پنجابی نظم کے اشعار عبدالغفار مجاہد نے پڑھے اسکے علاوہ تقریب کی نظامت کے فرائض فیصل علوی نے ادا کئے. 

مزید :

تارکین پاکستان -