شہدائے جموں کی قربانیوں کا تقاضہ!

 شہدائے جموں کی قربانیوں کا تقاضہ!
 شہدائے جموں کی قربانیوں کا تقاضہ!
کیپشن:    سورس:   jammukashmirnow

  

      کسی بھی ملک،قوم یا خطے کی تاریخ پر اگر نظر دوڑائی جائے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ روئے زمین پر کوئی بھی ایساخطہ،ملک،ریاست یا قوم نہیں جس کی تاریخ میں رونما ہونے والے حادثات اورو اقعات کے تناظر میں خصوصی اہمیت کے حامل ایام نہ ہوں اور وہ قوم ان ایام کو بھر پور اہتمام اورجوش و خروش سے نہ مناتی ہو۔دنیا بھر میں کچھ ایام کو قومی سطح پر اور کچھ خصوصی ایام کو علاقائی بنیادوں پر منایا جاتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں ہے کہ علاقائی بنیادو ں پر منائے جانے والے دنوں کی اہمیت و افادیت کسی بھی اعتبارسے قومی ایام کے مقابلہ میں کم ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات یوں ہوتا ہے کہ بڑے مقاصد کے حصول کے لئے رونما ہونے والے علاقائی نوعیت کے واقعات و حادثات کو قومی سطح پر پذیرائی حاصل نہیں ہوتی اور کبھی کبھار چھوٹے مقصد کے لئے رونما ہونے والا حادثہ یا واقعہ قومی سطح پر مقابلتاً زیادہ مقبول ہو جاتا ہے۔ ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ کی اوراق گردانی کی جائے تو یہ لاتعداد اور ان گنت حادثات،واقعات اور ظلم و جبر کی المناک داستانوں پر محیط دکھائی دیتی ہے۔اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ریاستی عوام صدیوں سے بیرونی اور اندرونی طاقتوں کے ظلم و تشدد و محکومی کا شکارر ہے۔ صدیوں سے درندگی اور انسانیت سوز مظالم کی شکار قوم پر ڈھائے جانے والے مظالم بالخصوص زندہ کھالوں کا کھینچ کر درختوں سے لٹکانا،کھالوں میں بھوسہ بھر وانا اور سروں کی فصل کو دھڑ سے جد ا کر کہ تلواروں اور نیزوں کی زینت بنا کر مختلف گاؤں و شہروں میں عبرت کا نشان بنانا،اس کی مثال دنیا کے کسی بھی علاقے کی تاریخ میں نہیں ملتی۔تاہم تحریک آزادی کشمیر کے با قاعدہ آغاز،13جولائی 1931ء کے المناک واقعہ سے لے کرتاحال ریاست جموں وکشمیر میں پہلے ڈوگرہ مہاراجہ اور بعد ازاں مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکومت کے درمیان الحاق کی جعلی دستاویز کے تناظر میں 27اکتوبر 1947کو فوجی مداخلت کے بعد بھارت نے خطہ کشمیر پر اپنا نا جائز تسلط قائم کر کہ ظلم کی نئی داستانیں رقم کیں ہیں۔کشمیری عوام بھارتی ناجائز تسلط،ظلم و جبر،انسانی حقو ق کی پامالیوں اور ریاستی دہشت گردی کے خلاف بر سر پیکار ہیں۔تحریک آزادی کی ابتداء سے اندازاً چھ لاکھ سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا قیمتی نذرانہ دے کر جہاں ایک طرف تحریک آزادی کو جلا بخشی ہے وہاں دوسری طرف بھارت کے سیکولر ازم اور جمہوریت کے جھوٹے دعوں کو دنیا پر آشکا رکیا ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا جا چکا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ بے شمار اور لا تعداد حادثات پر مشتمل ہے اور ان حادثات اور واقعات کے تناظر میں کچھ ایام کو ساری ریاست جموں وکشمیر میں بھر پور اہتمام سے منا یا جا تا ہے۔  

 ریاست جموں وکشمیر کے ہندوں اور مسلمانوں کے درمیان منافرت پھیلانا، فساد بر پا کر کے تحریکوں کے رخ موڑنا اورعوام میں شعور کو اجاگرنہ ہونے دینا مہاراجہ کی شخصی حکومت کاروز اول سے وطیرہ رہا ہے۔جموں وکشمیر کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری میں ینگ مینز ایسوسی ایشن کا مرکزی کر دار رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جموں کے مسلمانوں کی سیاسی بیداری کو ختم کر نے کے لئے مہاراجہ کی حکومت نے ہندوؤں کو ابھارنا شروع کیا۔جس کے نتیجہ میں مسلمانوں اور ہندوں کے درمیان حکومتی ایماء پر 3نومبر 1931ء کوپہلے فرقہ وارانہ تصادم نے جنم لیا۔ جس میں تقریباً 7مسلمان شہید ہوئے۔ تفصیل چوہدری غلام عباس (مرحوم) کی تصنیف"کشمکش"کے صفحہ81-82پر دیکھی جا سکتی ہے۔اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ماہ اکتوبر اور نومبر کو ریاست جموں وکشمیر کی تاریخ میں خصوصی حیثیت حاصل ہے۔کیونکہ جہا ں ایک طرف ان مہینوں کے دوران ریاستی عوام کی مہاراجہ اور حکومت کی نا انصافیوں اور ظلم کے خلاف بغاوت عروج پر پہنچی وہاں دوسری طرف ریاست کے ایک تہائی حصے کی آزادی اوربے شمار ریاستی مسلمانوں کی قربانیوں اور ہجرت کا باعث بھی بنی۔بغاوت کے نتیجہ میں 24اکتوبر 1947ء کو آزادانقلابی حکومت کے قیام کاا علان ہو ا اور مہاراجہ ہر ی سنگھ کو عملی طور پر معزول قرار دے دیا گیا۔وہ بھاگ کر جموں پہنچا جہاں اگست 1947ء بلکہ 3جون 1947ء کے تقسیم ہند کے منصوبہ کے منظر عام پر آنے کے بعد سے سیالکوٹ اور جموں کے دیگر متصلہ علاقوں سے ہجرت کر کہ آنے والے ہندوں کو ایک منظم سازش کے تحت آباد کر نا شروع کر دیا گیا تھا تاکہ بوقت ضرورت انہیں جموں کے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔اس گھناونی سازش کا اندازہ 1941میں ہونے والی مردم شماری میں صوبہ جموں کے مسلمانوں اور ہندوں کی آبادی کے تناسب کا موجودہ تناسب سے موازنہ کر کہ بخوبی کیا جا سکتا ہے۔ماہ اکتوبر اور نومبر 1947میں جموں کے مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلے جانے کے تاریخی پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس گھناونے عمل میں نا صرف جموں کے انتہا پسند ہندوں کی تنظیم RSS اور جن سنگھ کے تربیت یافتہ افراد بلکہ ڈوگرہ فوج،پٹیالہ،فرید کوٹ اورنابھہ سے آئے ہوئے مسلح دستے اور باقاعدہ بھارتی افواج شامل تھیں۔کیونکہ منصوبہ تقسیم ہند کے اعلان میں جب ریاستوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ اپنے اپنے عوام کی مرضی سے کسی ایک ملک پاکستان یا بھارت کے ساتھ  الحا ق کریں اور اگر چاہیں تو خود مختار رہیں تو ریاستی مسلمانوں کی اکثریتی جماعت آل جمو ں وکشمیر مسلم کانفر نس کی جنرل کونسل نے آبی گزر گاہ سرینگر میں آزاد کشمیر کے بانی صدر سردار محمد ابراہیم خان کے گھر 19جولائی 1947کو قرارداد الحاق پاکستان منظور کی۔یہی نہیں بلکہ پنڈت پریم ناتھ بزاز کی قیادت میں سوشلسٹ پارٹی اور کسان مزدور کانفر نس نے بھی الحاق پاکستان کی قراردادیں منظور کر کے ریاستی عوام کے اکثریتی فیصلے سے مہاراجہ اور حکومت کشمیر کو آگاہ کیا۔ان سرگرمیوں کو اور الحا ق پاکستان کی سوچ ختم کرنے کی غرض سے مہاراجہ نے ریاستی عوام کو خود مختاری کا جھانسہ دینے کی بھر پور کوشش کی۔یہی نہیں بلکہ پنڈت نہرو اور گاندھی جی نے بھی کشمیر کی "خود مختاری" کا فریب دے کرشیخ عبد اللہ اور انکے ساتھیوں کو شیشے میں اتار کر خطہ کشمیر پر اپنا تسلط جمانے کے لئے پس پردہ کاروائیاں عمل میں لائیں۔جو بعد ازاں کشمیری رہنماؤں پر عیاں ہو گئیں۔تب وقت ہاتھ سے نکل چکا تھا اور انہوں نے اپنی ڈوبتی ناؤ کو سہارا دینے کی غرض سے مفاہمت کی پالیسی اپنائی،یہ ایک الگ موضوع ہے۔

 تاہم جب آزادی پسند اور باغی طبقے نے مہاراجہ کی الحاق کے حوالے سے لیت و لعل اور عوام کش پالیسی بالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک اور ناانصافی پر مبنی اقدامات کے خلاف بغاوت کا عہد کیا تومسلح جد وجہد کے نتیجہ میں 24اکتوبر 1947ء کو ایک تہائی سے زائد حصے پر انقلابی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں، اودھم پور، کپواڑہ اور ریاسی کے اضلاع میں مسلمانوں پر بر پا ہونے والے قیامت کے مناظر سے پروفیسر نذیر احمد تشنہ اپنی تصنیف تاریخ کشمیر کے صفحہ568پر کلکتہ کے روزنامہStatesmanکے ایڈیٹر آئن سٹیفن کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ "جموں وکشمیر سے تقریباً5لاکھ مسلمان آبادی کا صفایا کر دیا گیا۔2لاکھ تو ایسے نیست و نابوت ہوئے کہ ان کا سراغ تک نہ ملا یا انہیں قتل کر دیا گیا یا وہ وبائی بیماریوں اور سردی گرمی سے مر گئے تھے۔ باقی ماندہ نے بالکل بے سروسامانی کی حالت میں مغربی پنجاب میں بھاگ کر جان بچائی"۔لندن ٹائمز نے اس واقعہ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ"اس سے صوبہ جموں کے مسلمانوں کی آبادی2لاکھ کم ہو گئی۔ ہزاروں کو قتل کیا گیا اور باقی لوگوں کو مغربی پنجاب میں دکھیل دیا گیا۔ شیخ محمد عبد اللہ نے نومبر1947ء کو جموں میں ہندوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں نے اس علاقہ کو مسلمانوں سے خالی کر کے رکھ دیا ہے۔ (بحوالہ پروفیسر نذیر احمد تشنہ صفحہ590)۔

 25 اکتوبر 1947ء کو سرینگر میں مسلم کانفر نس نے الحاق پاکستان کے حق میں زبردست جلوس نکالا۔اس سے قبل 14اگست 1947ء کو قیا م پاکستان کے وقت ساری ریاست جموں و کشمیر کے طول و عرض میں ہر شہر،ہر گلی اور ہر ایک محلے میں خوشی کے ترانے بجائے  گئے۔ جلسوں کا انعقاد ہوا۔جلو س نکالے گئے۔پاکستان کا پر چم تمام عمارتوں پر لہرایا گیا۔مہاراجہ نے جب اپنے خوابوں کے محل کو چکنا چور ہوتے دیکھا اور سرینگر سے بھاگ کر جموں پہنچ کراسے یہ احساس ہوا کہ وہ اپنی حکمت عملی میں نا کام ہو چکا ہے۔اس کا کھیل ختم ہو چکا ہے تو اس نے نام نہاد ریاستی وزیر اعظم مہاجن کے ذریعے بھارت سے فوجی مدد کی اپیل کی اور الحاق ہندوستان کا ڈرامہ رچایا گیا۔بھارت نواز کشمیری رہنما شیخ محمد عبد اللہ کو رہا کیا گیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے انہیں ریاست کا منتظم اعلیٰ بنایا گیا۔ بھارتی فوجوں کی مداخلت کی وجہ سے نا صرف جموں میں مقیم غیر ریاستی انتہا پسند ہندووں کے ناپاک عزائم کو تقویت حاصل ہوئی بلکہ بھارتی ریگولر آرمی اور ڈوگرہ پولیس نے بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کو ہجرت پر مجبور کیا اور لاکھوں مسلمانوں کا قتل عام کیا۔

 نومبر کے شروع کے دنوں میں ہونے والے اس قتل عام کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔لیکن سر زمین پاکستان پر قدم رکھنے کے شوق اور جذبے سے سر شار کتنے کشمیری مسلمانوں نے اپنی جانوں کے نذرانے دیے۔کتنے لوگوں کے خواب چکنا چور ہوئے۔کتنے افراد کو اپنی جائیدادیں اور گھر بار چھوڑ کر اپنی سر زمین کو خیر باد کہنا پڑا۔اس کا اندازہ ڈاکٹر اعجاز حسن کی تصنیف Kashmir Dispute An International Law perspectiveکے درج ذیل اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں انہوں نے معروف بین الاقوامی معاصر Times of Londonکی رپورٹ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ 

......237,000 Muslims were systematically exterminated, unless they escaped to pakistan along the border, by the forces of the dogra Sates, headed by the Maharaja  in Person......                                                                                                                          

 معروف اخبار Statesmanکے سابق ایڈیٹر آئن سٹیفن کے حوالہ سے لکھتے ہیں کہ 

....These, half a million or so, had almost totally disintegrated in the autumn of 1947. About 200,00 simply vanished being presumably butchered or killed by epidemics and exposure while seeking to get away; the rest had fled into pakistani, Punjab..........                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                                           

 حالانکہ مسلمانوں کے قتل عام کے خطرات کو بھانپتے ہوئے جموں کے مسلمانوں کا ایک وفد کیپٹن نصیر الدین کی سربراہی میں وزیر اعظم    مہر چند مہاجن سے ملا لیکن اس نے کہا کہ وہ مسلمانوں کی حفاظت کرنے سے قاصر ہے۔در حقیقت وجہ یہ تھی کہ بھارتی حکمرانوں اور مہاراجہ نے طے شدہ حکمت عملی کے تحت 27اکتوبر 1947کو الحاق کا ڈرامہ رچانے کے بعد با ضابطہ طور پر ریاست جمو ں وکشمیر میں دہشت گردی کا آغاز کر دیا تھا۔نومبر 1947کے پہلے ہفتے کے دوران ہی بالخصوص جموں اور ارد گرد کے علاقوں میں مسلمانوں پر سنگ پارٹی کے مسلح جو انوں،بھارتی اور ڈوگرہ افواج نے مظالم کی انتہا شروع کر دی۔سادہ لوح دیہادتیوں کو گھروں سے نکال کر ان کے مکانات کو آگ لگائی گئی۔ان کی جمع پونجی لوٹ لی گئی اور ان گنت افراد کو تہ  تیغ کر دیا گیا۔اس طرح جموں،اودھم پور،کٹھوعہ اور ریاسی کے علاقوں میں ایک قیامت بپا کی گئی۔ 5نومبر 1947ء کو ظلم اور سفاکی کا یہ ڈرامہ اپنے عروج پر پہنچ گیا جب جموں شہر کے نہتے مسلمانوں کو اپنے گھروں سے نکال کر پولیس لائن کے احاطہ میں جمع کیا گیا۔نومبر کی سر د راتوں میں نیلے آسمان تلے،کھلے میدان میں بے بس عورتوں،بچوں،کمزور اور لاغر بوڑھوں،نڈر اور بے باک جذبہ آزادی سے سرشار مگر انجام سے بے خبر نوجوانوں پر کیا گزری۔۔۔۔۔ان تکالیف، ظلم و ستم اور سنگ پارٹی کے مسلح درندوں کی درندگی کے مناظرکامکمل احاطہ تاریخ کے بس میں نہیں اور نہ ہی کسی تحریر میں ایسا دم ہو سکتا ہے جس کے ذریعے ان حقائق کا ادراک کیا جا سکے۔کہتے ہیں کہ آؤ دیکھا نہ تاؤ مسلمانوں کے خون کی ندیاں بہائی گئیں ! خواتین کو اغوا کیا گیا۔اس ضمن میں چوہدری غلام عباس کے پر ائیویٹ سیکر ٹری بشیر احمد قریشی نے اپنی تصنیف قائد کشمیر میں اس سارے واقعہ کی منظر کشی درج ذیل الفا ظ میں کی ہے۔”عورتیں،بچے،بوڑھے اور جوان بے یار و مدد گار پڑے تھے، نہ کھانے کو روٹی،نہ پینے کو پانی،بچے بھوک سے بلک رہے تھے،شہر کے سارے ناکے فوج اور سنگیوں نے بند کر رکھے تھے اور ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت اعلان کیا گیا کہ پاکستان جانے کے خواہشمند سڑک پر کھڑی بسو ں میں سوار ہو جائیں۔اس قیامت کے عالم میں زندگی سے مایوس مسلمان پاکستان کو اپنی آخری پناہ گاہ سمجھتے ہوئے بسوں میں سوار ہوگئے۔قافلہ سیالکوٹ کی طرف روانہ ہوا۔راستے میں اس قافلہ کو ماوا کی طرف موڑ دیا گیا۔ماوا کے جنگلوں میں پھیلے ہوئے بھارتی اور ڈوگرہ فوجی اور سنگ پارٹی کے مسلح درندے وحشیوں کی طرح اس قافلہ پر ٹوٹ پڑے۔کسی تمیز کے بغیر انہوں نے مسلمانوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹا۔وحشت اور بر بریت کا ایک خوفناک منظر چھایا ہو اتھا۔ان مسلمانوں کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر رہنا چاہتے تھے۔کیونکہ ریاست میں مسلمانوں کی غالب اکثریت تھی۔لہذا وہ قدرتی طور پر ریاست کو پاکستان کا حصہ سمجھتے تھے۔ پاکستان کے قیام سے ہندو اور سکھ اتنے باولے ہو چکے تھے کہ جموں کے مسلمانوں کو ختم کر کے ریاست میں مسلمانوں کی اکثریت کو ختم کر نا چاہتے تھے تاکہ پاکستان کے ساتھ اس کا رشتہ جو ڑنے کا جواز ہی باقی نہ رہے  "۔

 بالا اقتباس کے عین مطابق آنے والے حالات نے بھارت کی اس وقت کی گھناونی سازش کو بے نقاب کیا ہے اوروہ اپنے مذموم مقصد کی تکمیل میں جموں کی حد تک قدرے کامیاب بھی رہے۔ امرناتھ شرائن بورڈ کو زمین کی الاٹمنٹ اور جموں کے انتہا پسند ہندووں کی طرف سے کشمیر ویلی کو جانے والی واحد شاہراہ کو بند کر کے وادی کشمیر کے لوگوں کی اقتصادی ناکہ بندی اس کا واضح ثبوت ہے کہ غیر ریاستی ہندوں کی ایک بڑی تعداد کو جموں میں آباد کیا گیا۔ گزشتہ چند سالوں سے کشمیر ویلی میں بھی "یاترا "کے بہانہ غیر ریاستی ہندوں کو منظم حکمت عملی کے تحت آباد کر کے مسلمان اکثریت کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے بلکہ جب چوری چھپے بھارت کو اپنے مقاصد کی تکمیل کا کوئی راستہ دکھائی نہ دیا تو گزشتہ سال 05اگست 2019کوریاست جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کرتے ہوئے ریاست کو غیرآئینی اور غیر قانونی طور پر وفاق میں ضم کرنے کے لیے اپنے آئین کے آرٹیکل 370کا خاتمہ کیا گیا۔ سٹیٹ سبجیکٹ کے قانون 35-Aکو ختم کرتے ہوئے بھارتی شہریوں کو ریاست بھرمیں زمین کی الاٹمنٹ اور کشمیر کے ڈومیسائل جاری کرنے کا گھناؤنا عمل شروع کررکھا ہے۔بالکل اسی طرح جس طرح اسرائیلیوں نے فلسطین کی سر زمین پر اپنے قدم جمائے اور پھر فلسطینیوں پر طر ح طر ح کے مظالم ڈھائے اور فلسطینیوں کو اپنی ہی سر زمین اپنے لئے تنگ پڑ گئی۔لیکن بہادر،نڈر اور بے باک کشمیریوں نے بھارتی منصوبے کو خاک میں ملا دینے کا عزم کر رکھا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی نا جائز قبضہ اور غیر قانونی مداخلت کے خلاف ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں عوام بر سر پیکار ہیں۔کوئی گلی کوئی بھی کوچا ایسا نہیں ہوتا جہاں سے بھارت کے خلاف احتجاج کی صدا بلند نہ ہوتی ہو۔مسئلہ چاہے شرائن بورڈ کو زمین کی منتقلی، آئین کے آرٹیکل 370اور 35-Aکا خاتمہ ہو یا نا م نہاد الیکشن ڈرامہ کا،کشمیری عوام نے ظلم و ستم،گرفتاریوں اور ٹارچر کے باوجود لاکھوں کی تعداد میں جلسے جلوس اور احتجاج کر کہ ثابت کر دیا کہ حق خودارادیت کے حصو ل تک اپنی جد دجہد جاری رکھیں گے۔

 دیگر خصوصی ایام کی طرح ہر سال 6نومبر کو دونوں اطراف اور پاکستان و بیرون ممالک مقیم کشمیری "یوم شہدائے جموں " کے طور پر مناتے ہیں جس کا بنیا دی مقصد ایک طرف تو لاکھوں شہدائے جموں کو خراج عقیدت پیش کر نا اور اس عہد اور نصب العین کی تجدید کرنا ہے جس کے پیش نظر جموں کے مسلمان دہشت گردی کا شکار ہوئے۔وہاں دوسری طرف ہندووں کے سیکولر ازم کے جھوٹے دعوں کو رد کرنا اور انکی وحشت و درندگی کو مہذب دنیا کے سامنے پیش کر نا ہے۔دنیا پر یہ واضح کر نا ہے کہ کشمیری کل بھی ظلم کی چکی میں پس رہا تھا اور آج بھی صرف اس جرم کی پاداش میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور بھارتی حکمرانوں کے عالمی بر ادری کے ساتھ کئے گئے وعدوں کے مطابق رائے شماری کا مطالبہ کر تا ہے۔ان قراردادوں کو از خود بھارت نے بھی تسلیم کر رکھا ہے۔کشمیری عوام  حق خودارادیت کے حصول کے لئے کوشاں ہیں جس کا حق دنیا میں آباد ہر ایک انسان اور ہر ایک قوم کو حاصل ہے۔کشمیری عوام تو صرف فوجوں کے انخلاء اور امن کی بات کرتے ہیں لیکن اسے مہذب دنیا اب اگر دہشت گرد سمجھنا شروع کر دے تو پھر کوئی چارہ کار نہیں سوائے یہ کہنے کے”جس کی لاٹھی اس کی بھینس“۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنطمیوں کی شائع کردہ رپورٹیں اور بین الاقوامی پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا اس امر کی واضح نشاندہی کرتا ہے کہ 1947ء سے لے کر تا حال بھارتی فوج بد نام زمانہ  "ریاستی دہشت گردی "کی مرتکب ہو رہی ہے لیکن عالمی برداری اور بین الاقوامی طاقتیں حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بین الاقوامی بر ادری مفادات کی عینک کو اتارتے ہوئے حقائق سے پردہ پوشی نہ کرے اور حکومت پاکستان    بین الاقوامی ماہرین کی خدمات حاصل کر کے جموں میں ہونے والی تاریخی قتل عام کے جرم کی پاداش میں بھارتی حکومت کو عالمی عدالت وانصاف کے کٹہرے میں لائے۔

مزید :

بلاگ -