انتخابی بساط بچھ گئی

   انتخابی بساط بچھ گئی
   انتخابی بساط بچھ گئی

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ایک اور کارنامہ کردکھایا، قوم کو انتخابات کی تاریخ لے دی، اب انتخابات بھی لے کر دیں گے۔ یہی نہیں بلکہ جس انداز سے انہوں نے میڈیا اور اینکر مافیا کو خبردار کیا ہے اس سے سنیئر صحافی نصرت جاوید کا ایک کالم یاد آگیا،جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ صحافیوں کے ایک گروہ کو یورپی یونین کا دورہ کروایا گیا ہے جہاں انہیں انتخابات کو متنازع بنانے کا ٹاسک دیا گیا ہے،۔ ایسی ہی بات سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن آف پاکستان کنور دلشاد نے بھی ایک دو ماہ قبل اپنے ایک کالم میں تحریر کی تھی کہ ایسی سازش بنی جارہی ہے جس کا مقصد انتخابات اور ان کے نتائج کو متنازع بنا کر ملک کو مزید بے یقینی کی دلدل میں دھکیلنا ہے ۔ 

گزشتہ روز چیف جسٹس کی جانب سے میڈیا کو خبردار کیا گیا تو سنیئر صحافی حامد میر اور مظہر عباس نے شدید تنقید کی تو یاد آیا کہ 2018ءکے انتخابات میں حامد میر کے لائیوپروگرام میں کرکٹر وسیم اکرم عمران خان کی تصویر والی شرٹ پہن کر بیٹھے رہے جس پر نون لیگ کے اسحاق ڈار نے فون کرکے احتجاج کیا تھا۔ جہاں تک مظہر عباس کا تعلق ہے تو نون لیگ کے پرویز رشید اور مریم نواز کے مابین ان کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کافی ہے۔ اب اگر چیف جسٹس نے بھی تنبیہ کی ہے تو بغیرو جہ کے نہیں ہو سکتی ممکن ہے ان کے پاس بھی ایسی معلومات ہوں جن کا سدباب نہ کیا گیا تو ملک خدانخواستہ ایک نئے بحران سے دوچار ہو سکتا ہے۔ 

نواز شریف کو انتخابات میں عمران خان کی شمولیت پر آمادہ کرنے کا عمل بھی اسی کی ایک کڑی دکھائی دیتا ہے ۔ بتایا جا رہا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو خود ان کے اپنے انتخابات کو متنازع بنادیا جائے گا۔ اس سے قبل بھی ایک ایسی کوشش کی گئی تھی جب سنیئر صحافی سہیل وڑائچ ایک سنئیر صحافی کے ہمراہ عمران خان سے ملے تھے، مگر عمران خان نے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اب گیند نواز شریف کے کورٹ میں ہے ۔اتفاق رائے دراصل عمران خان کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کے علاوہ کچھ نہیں ہے تاہم عمران خان کے لئے تھوک کر چاٹنا کس قدر آسان ہے، یہ قابل دید منظر ہو گا۔

اتفاقِ رائے اِس لئے ہے کہ ملک کو معاشی طور پر آ گے بڑھایا جائے۔ حالانکہ یہی منطق عمران خان پر بھی لاگو ہوتی تھی جب وہ اپوزیشن سے بات کرنے لئے تیار نہیں ہوتے تھے اگر تب کے آرمی چیف عمران خان کو نہیں منا سکے تھے تو آج کے آرمی چیف نواز شریف کو کیسے منا سکتے ہیں جب تک کہ وہ خود اس کے لئے راضی نہ ہوں۔ ممکن ہے کہ یہ معاملہ نواز شریف کی کچن کیبنٹ میں بھی زیر بحث آیا ہو، تاہم نون لیگ اِس بات کو ہوا نہیں لگنے دے رہی ہے۔ بہرحال یہ طے ہے کہ اگر نون لیگ اس کے لئے تیار ہے تو ممکن ہے کہ اس کے لئے وہ کچھ پیشگی شرائط بھی رکھتی ہو۔ مثال کے طور پر کہیں کہیں یہ بات ہوئی ہے کہ عمران خان کو 9 مئی کے سانحے پر قوم سے معافی مانگنی چاہئے۔ عمران خان جانتے ہیں کہ ایسا کر کے وہ اپنے سیاسی ڈیتھ وارنٹ پر دستخط کریں گے،کیونکہ انہیں بعد کی ساری عمر یہ طعنہ سننا پڑے گا، لیکن اگر ایسا نہ ہونے کے باوجود اتفاقِ رائے پیدا ہو جاتا ہے تو اس کے عوامل میں سب سے بڑا عنصر ملک میں ہونے والے عام انتخابات کی ساکھ کو بچانا ہے جو کہ خود نواز شریف کے لئے بھی مفید بات ہے جن کے بارے میں سابق گورنر پنجاب چودھری محمد اظہر نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ نواز شریف بدترین حالات میں بہترین سودے بازی کے ماہر ہیں۔ 

اگر سچ پوچھا جائے تو نون لیگ کا ووٹر سپورٹر اس بات کے حق میں نہ ہوگااور عین ممکن ہے وہ اسے نواز شریف کی کمزوری سے تعبیر کرے اور یہ تاثر گہرا ہو جائے کہ ملک میں ساری ڈوریاں اسٹیبلشمنٹ ہلا رہی ہے اور نواز شریف واقعی 2024ءکے لاڈلے ہیں۔ فوج اور نواز شریف یہ پل کیسے پار کرتے ہیں، دیکھنے کے لائق ہو گا۔ 

اتفاقِ رائے کے لئے ہو سکتا ہے کوئی اے پی سی کال کر لی جائے، مگر اس سے قبل نواز شریف کو اپنی رضا مندی دینا ہو گی، جو باتیں اس وقت تک ٹاک شوز میں سننے کو مل رہی ہیں وہ تو بتاتی ہیں کہ عمران خان کے باہر آنے کی امید پیدا کی جا رہی ہے۔ دیکھتے ہیں نواز شریف اس پر کیا کہتے ہیں، لیکن اگر وہ عمران ریاض کی رہائی میں کردار ادا کر سکتے ہیں تو عمران خان کی انتخابات میں وا پسی پر رضامند کیوں نہیں ہو سکتے ۔

کیا عمران خان کے باہر آنے سے انقلاب آجائے گا؟ کیا لوگ اے مسیحا جان کر ووٹ ڈالیں گے یا ایک مظلوم جان کر اس کی حمایت کریں گے۔اس بات کا فیصلہ ابھی ہونا ہے۔ ممکن ہے چیف الیکشن کمشنر سب کو ایک میز پر بٹھادیں، مگر یہ ان کا آئینی رول نہیں ہے۔ بہرحال کچھ بھی ہو سکتا ہے، لیکن صدر عارف علوی کی دعوت پر تو خود عمران خان نہیں جائیں گے، کسی اور کی کیا بات کی جائے۔ یوں بھی ان کے جانے کی باتیں ہونے لگی ہیں۔

چونکہ انتخابات میں اب محض تین ماہ باقی رہ گئے ہیں اس لئے جو کچھ ہوگا ، وہ جلد از جلد ہو گا۔ اس جلد بازی میں صائب فیصلے ہی ہماری مقتدرہ کا امتحان ہو گا،کیونکہ ایسا نہ ہو کہ وہ ملک کو دلدل سے نکالتے نکالتے اس درخت کے اس تنے کو بھی توڑ بیٹھیں، جس کے سہارے اس نے اپنے آپ کو دلدل میں دھنس جانے سے بچایا ہوا ہے۔ 

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میرا تیرے پیچھے 

تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا میرے آگے

  

مزید :

رائے -کالم -