حماس: فقیہ سید زادہ بنام جرنیل سید زادہ

    حماس: فقیہ سید زادہ بنام جرنیل سید زادہ
    حماس: فقیہ سید زادہ بنام جرنیل سید زادہ

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 رات پچھلے پہر آنکھ کھل گئی، یا شاید لگ گئی حماس کا اپاہج شیخ اورنگ آباد کے بوڑھے سید زادے کو جھوم جھوم کر کچھ کہہ رہا تھا کیسی معذوری؟ کیسی کہولت؟ بابے تو جوان رعنا تھے۔ شیخ احمد یٰسین، سید محترم سے کہہ رہے تھے:" تمہارا دارالاسلام تو گاہے گاہے باز خواں ایں قصہ پارینہ را ہوا، پر شاہ جی! تمہارے من کی تمنا مرنے سے پہلے میں خود پوری کر آیا تھا۔ تقسیم ہند کے موقع پر تم نے تھوڑی کوک فریاد، تھوڑا واویلا کیا تھا؟ا کیا غل تم نے نہیں مچایا؟ تب 40ءکی دہائی میں مجھ بالک پر تو نماز بھی فرض نہیں تھی، پر جب فہم جوان ہوا تو، تمہارے من کی مراد میں من و عن سے کچھ زیادہ پوری کر آیا۔ تم نے ایک مربع میل مانگا تھا، میں 300 میل مربع چھوڑ آیا ” مجھ کوتاہ فہم کے پلے کچھ نہ پڑا تو شاہ جی کو مستفسرانہ دیکھا۔ وہ بگڑ کر بولے: "بڑوں میں مت دخل دیا کرو. وہ سامنے پڑی میری کتاب 'تحریک آزادی ہند اور مسلمان' کھول کر پزھ لو“۔

کتاب میں ایام تقسیم ہند کی تحریریں پائیں، لکھا تھا:”یہ (ہندوستان) ایک ملک رہے, یا دس ہزار ٹکڑوں میں بٹ جائے.... اس بت کے ٹوٹنے پر تڑپے وہ جو اسے معبود سمجھتا ہو مجھے تو اگر یہاں ایک مربع میل کا رقبہ بھی ایسا مل جائے جس میں انسان پر خدا کے سوا کسی کی حاکمیت نہ ہو تو میں اس کے ایک ذرہ خاک کو تمام ہندوستان سے زیادہ قیمتی سمجھوں گا“ میں دبک کر جوان رعنا بابوں کے پاس کر پھر بیٹھ گیا۔ شاہ جی نے میرا تعارف شیخ یٰسین سے کرانا چاہا تو وہ بے اعتنائی سے بولے: ”جانتا ہوں، عبداللہ عزام سے تین سال پڑھ کر بھی بدو ہی رہا۔ عبداللہ اس ناخلف پر سخت خفا ہے کہ میں نے طورخم سے بڑھتی روسی فوجوں کو جان دے کر روکے رکھا تو اسی لئے نا کہ میر عرب کو ٹھنڈی ہوا یہیں سے آئی تھی اور اس نالائق کو قبلہ اول تک کی پرواہ نہیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ جہاد کے لئے کوئی عمر نہیں ہوتی۔ 80 سالہ شیخ ابو ایوب انصاری جہاد قسطنطنیہ کو نکلے تھے نا“؟

سید محترم نے شیخ یٰسین کو مشکل سے چپ کرایا۔ پھر مجھے دیکھ کر بولے: ”تم فکر نہ کرو، عبداللہ کو میں سمجھا دوں گا، ویسے وہ کہتا ٹھیک ہے۔ تم کل اپنے بااختیار سید زادے اور میرے برادر خورد جرنیل کے پاس چلے جاو_¿ کہنا، شیخ یسین شاکی ہے کہ آج کا ایٹمی پاکستان 1973ءکے دو لخت، کٹے پھٹے پاکستان سے کہیں زیادہ امیر و توانا ہے۔ اس کٹے پھٹے پاکستان پر تو بادہ رنگین اور مطرب و مضراب کا دلدادا وہ مغرب زدہ بھٹو حاکم تھا۔ پھر بھی اس بے جگرے نے بلا جھجک پائلٹ بھیج کر اسرائیلی طیارے زمین بوس کرا دیئے۔ 65ءکی جنگ سے نڈھال و بے سروسامان اور دین بے زار حاکم ایوب خان نے 1967ءکی عرب اسرائیل جنگ میں سب کچھ جھونک دیا تھا“۔

”اوروہ تمہارے اپنے ٹینک شکن میزائلوں کو پرچی بردار لوہار حاکم نے بوسنیا بھیج کر جنگ کا پانسا پلٹایا تھا کہ نہیں؟ برخوردار سید زادے سے کہنا کہ تمہارے اسلامی جمہوریے پر نانا نظریں جمائے فوٹان (Foton) پر فوٹان بھیجے جا رہے ہیں۔ دنیا عالم اسباب سہی، پر نانا کی آنکھوں سے نکلے یہی مقوی نورانی فوٹان تمہارے محافظ ہیں۔نہ سمجھو تو کسی سمجھدار ماہر طبیعات سے پوچھ لو۔ اپنی اَن گنت بداعمالیوں کے باوجود اگر تم بچے ہوئے ہو تو تمہارے محافظ نانا کی نظروں سے نکلتے یہی فوٹان ہیں۔ جرنیل سے کہنا کہ جہاد کے باب میں بھٹو اور ایوب جیسے دنیا داروں کو رول ماڈل بنا لو، ”حافظ“ کے برتے پر نہ رہنا، مسیحی مصری اداکار فاروق میخائل بھی حافظ تھا، اور وہ مسیحی عیاد مصری کہتا ہے: ”ابا سے قرآن حفظ کیا۔ پھر 1800 دیگر کو بھی حفظ کرایا “ سید محترم کہہ تو بہت کچھ رہے تھے لیکن عادت بد کے باعث میں موبائل پر آئے واٹس ایپ دیکھنے لگا۔

پیغام خلیج سے تھا: ”اسرائیلی گولہ باری سے حماس کا اہم ترین مجاہد اسامہ المرینی شہید“۔ تو کیا ہوا؟ مان لیا بہت خوبصورت بہت نیک تھا وہ, ہزاروں جوانوں میں بس ایک تھا وہ۔ ابن سلیمان، کہاں ہے وہ گیسو دراز مطربہ؟ بلانا ذرا تم کیوڈو بلانا, کہ ونٹر، ونڈر، بلیورڈ میں دف و طبلہ بجانا۔ یہ دنیا ہے فانی، گیا جانے والا وہ رونے سے واپس نہیں آنے والا۔ محمد کے ابا، محمد کے ابا، بلانا پری وش وہی مطربہ، مریہ کیری بلانا، وہ رونے سے واپس نہیں آنے والا۔ بلاسن ریزورٹ مرہ اخری سجانا۔ سجانا سجانا، سجاتے ہی جانا۔ ”ہسپتال پر اسرائیلی بمباری، سینکڑوں بچے شہید“۔ پلائے جا پلائے جا برق و شرر پلائے جا۔ کہاں گیا بہرا المانی مضراب والا بیتھوون؟ بلائے جا بلائے جا۔ بجاو_¿ اگر تم تو بربط بجاو_¿۔ لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں، زندگانی پھر کہاں ناداں جوانی پھر کہاں۔ ”غزہ پر وحشیانہ بمباری، ڈاکٹر شہید“۔ وہ رونے سے واپس نہیں آنے والا، یہ دنیا ہے فانی گیا جانے والا، لا پلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں۔

دوسرا واٹس ایپ کسی جاہل عجمی محدث کا تھا: "ذرا احمد کے بیٹے عسقلانی کو بلانا۔ ارے وہی ابن حجر عسقلانی! بخاری کا شارح، فتح الباری والا۔ یہ نہ بتانا کہ دارالاسلام سکڑ کر 300 مربع کوس سے کم غزہ ہی تک باقی ہے اور یہ کہ اس کے وطن مالوف عسقلان کو صیہونیوں نے اشکلون قرار دے دیا ہے۔ کہنا کہ الہامی حدیث کی شرح، بثوب جدید کر دیجئے (21 ویں صدی کے تقاضوں کے مطابق): لئن شئت انشاءاللہ،لاخرجن االیہود والنصری من جزیرہ العرب (اگر میں زندہ رہا تو انشاءاللہ یہود و نصاری کو جزیرہ نمائے عرب سے نکال باہر کروں گا)۔ یہ الہامی خواہش خطاب کے فرزند عمر نے پوری تو کر دی، پر عسقلانی شارح سے پوچھنا یہ ہے کہ یہود و نصاری عرب سے نکلے تو تھے پر انہیں پھر سے یہاں لا بسانے والوں کو ہم کیا نام دیں۔ علامہ نے مارے شرم کے گھٹنوں میں سر نیہوڑائے کہا تھا: یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود۔ اچھا ہوا اقبال مر گیا عربی ”مسلمانوں“ پر آج یہود شرماتے نہیں, فخر کرتے ہیں۔لا بلا ساقی شراب ارغوانی پھر کہاں“۔

شاہ جی کو گھورتے دیکھا تو میں نے موبائل چھپا دیا۔ کہہ رہے تھے: " اسے کہنا کہ میر عرب کو وہ ٹھنڈی ہوا درکار نہیں کہ اے سی بند ہونے پر جس کے لیے تم واویلا کرتے ہو، آتش و آہن سے پیدا یہ وہ کالی آندھی ہے جو دشمن کے ٹینک اڑا دے۔ نانا نے بطور استعارہ ٹھنڈی ہوا سے یوں موسوم کیا کہ یہ کالی ہوا مجاہدین کے سینوں میں ٹھنڈ ڈال دیتی ہے۔ جرنیل سے کہنا کہ بھٹو کی مسند پر ہو تو اس جیسا عمل کرو۔ ایوب کے جانشین ہو تو اس سے بہتر بنو۔ کیا پرچی بردار لوہار جیسا حوصلہ بھی نہیں رکھتے؟ مجھے یا شیخ یٰسین کو مایوس کیا تو حوض کوثر پر تمہاری راہ روک کر نانا کے آگے چیخوں گا پیٹوں گا: "نانا اس شخص نے آپ کے جسد واحد کے اعضاءکا درد محسوس نہیں کیا۔ پھر میں دیکھوں گا کہ نانا تمہیں کیسے آب کوثر پلاتے ہیں“۔

مزید :

رائے -کالم -