نمل ڈیم کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے

نمل ڈیم کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے
نمل ڈیم کو کارآمد بنایا جا سکتا ہے

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

نمل ڈیم 1910ءمیں انگریزوں نے تعمیر کیا، اس ڈیم کا پانی موسیٰ خیل، چھدرو اور میونسپل کمیٹی میانوالی کی تین لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا تھا۔انگریزوں نے نمل ڈیم کی عمر 50سال مقرر کی تھی۔ نمل ڈیم کی گہرائی 100 فٹ تھی، جو اب 20فٹ رہ گئی ہے۔اب یہ ڈیم 80فٹ مٹی سے بھر چکا ہے، اگر اس ڈیم سے مٹی نکال دی جائے تو اس ڈیم میں وہ صلاحیتیں موجود ہیں،جن کی عوام خواہش کرسکتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ڈیم ایک چٹانی پتھر سے بنا ہوا ہے اور اس میں سیمنٹ کا استعمال قطعی طور پر نہیں ہوا، بلکہ چونا اور سرخ مٹی کو ملا کر سیمنٹ کا متبادل بنایا گیا۔ نمل ڈیم کو ایک سکھ ماہر انجینئر نے بنایا تھا۔یہ ڈیم دو پہاڑوں کے درمیان ایک تنگ جگہ پر بنایا گیاہے، جو دو پہاڑوں کو آپس میں ملاتا ہے۔یہ ڈیم تین ہزار کنال رقبے پر محیط ہے ۔ انگریز گورنمنٹ نے یہ رقبہ عوام سے خریدا تھا۔ یہ ڈیم خوبصورت نظارہ پیش کرتا ہے۔پہاڑوں کی سلوٹ اور عمودی چٹانیں دل کو بہت بھاتی ہیں۔
صدر ایوب خان نے 1965ءمیں اس ڈیم کا دورہ کیا ۔سابق گورنر امیر محمد خان نواب آف کالاباغ ان کے ہمراہ تھے۔انہوں نے یہاں مرغابیوں کا شکار بھی کیا۔یاد رہے کہ یہاں پر اس زمانے میں ایک سو ٹن مچھلی سالانہ پیدا ہوتی تھی۔روسی نسل کی اعلیٰ مرغابیاں بھی موسم سرما میں یہاں پر آتی تھیں اور علاقے کے شکاری ان کے شکار سے لطف اندوز ہوتے تھے۔انگریزوں نے نمل ڈیم پر ایک بنگلہ بھی تعمیر کیا تھا،جسے نمل ریسٹ ہاﺅس کہا جاتا ہے۔انگریز ڈپٹی کمشنر گرمیوں کے موسم میں اس بنگلے میں ٹھہرنا فخر محسوس کرتے تھے۔عمران خان نے اس نمل جھیل کے کنارے پر ایک نمل یونیورسٹی /کالج قائم کیا ہوا ہے،جس کی ڈگری بریڈفورڈ یونیورسٹی کے معیار پر برطانیہ نے تسلیم کررکھی ہے۔

عمران خان نے نمل یونیورسٹی کے گردونواح کو سٹی آف نالج میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔ پیپلزپارٹی کے موجودہ دور اقتدار میں یوسف رضا گیلانی نے عمران خان کے ہمراہ نمل جھیل کا فضائی جائزہ لیا۔ یوسف رضا گیلانی نے بحیثیت وزیراعظم پاکستان یہ وعدہ کیا تھا کہ نمل ڈیم کو وسعت دی جائے گی اور اسے مزید خوبصورت بنایا جائے گا، لیکن وہ وعدہ وفا نہیں ہو سکا۔یہ ڈیم ہر سیزن میں فصل ربیع اور فصل خریف کے لئے چار ماہ تک وسیع علاقے کو پانی مہیا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب چونکہ نمل ڈیم کی عمر112سال ہو چکی ہے،اس میں 90فیصد مٹی بھر چکی ہے اور صرف 10 فیصد پانی کھڑا کرنے کی گنجائش موجود ہے،اس لئے یہ ڈیم اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ علاقے بھر کے کسان اور زمیندار شدید اقتصادی بحران سے گزر رہے ہیں۔بے روزگاری عروج پر ہے ، اگر وزیراعلیٰ پنجاب اور وفاقی حکومت کے سربراہ وزیراعظم پاکستان اور صدر پاکستان خصوصی دلچسپی لیں اور اس ڈیم سے 90فیصد مٹی نکلوائی جائے یا نمل ڈیم کے نیچے انہی پہاڑوں میں 3میل کے فاصلے پر ایک نیا ڈیم بنایا جائے تواس کی افادیت وسیع علاقے تک پھیل سکتی ہے۔
یہ ایک باسی پانی کا ڈیم ہے، اس میں دو بڑے ندی نالے 50میل سے آکر گرتے ہیں۔ایک نالے کا ہندی نام (تربی) اور دوسرے نالے کا نام (گولڑ) ہے۔اس کے علاوہ دلچسپ بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری نے ایک (گھنجھیر) ڈیم کی منظوری دی تھی،جس کی ابتدائی فزیبلٹی رپورٹ تیار ہوئی جو 10ارب روپے کی لاگت سے تعمیرہونا تھا،لیکن ابھی تک اس پر کام شروع نہیں ہو سکا۔شنید میں آیا ہے کہ اس(گھنجھیر) ڈیم سے ایک نہر نکالی جانی تھی،جس کا فالتو پانی نمل ڈیم میں گرنا تھا اور علاقے بھر کے لوگوں کو بے پناہ فائدہ پہنچنا تھا۔بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ انگریز نے اس علاقے کے لوگوں کی طرف جس طرح توجہ دی تھی، اس انداز میں پاکستان بننے کے بعد کسی بھی حکومت نے اس نمل ڈیم کی طرف توجہ نہیں دی۔ ہمارے حکمرانوں کو کسان اور زراعت سے کوئی دلچسپی نہیں ۔راقم وزیراعلیٰ پنجاب اور وزیراعظم پاکستان سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس عظیم تاریخ ڈیم کے لئے سیاسی جھگڑوں سے بالاتر ہوکر آصف علی زرادری صاحب سے ملیں اور اس پراجیکٹ کو مکمل کریں۔(یاد رہے کہ اس ڈیم کو راقم اور بشیر احمد خان ایڈووکیٹ آف موسیٰ خیل نے مل کر وزٹ کیا)۔    

مزید :

کالم -