مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (3)

مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (3)
مغرب میں توہینِ رسالت:اسباب و اثرات (3)

  

فروری 2006ءمیں جرمنی کے ایک خبطی شخص مینفرڈ وین نے ٹوائلٹ پیپرز پر ” قرآن پاک “ پرنٹ کرکے اُن کو مساجد اور میڈیا کو بھیجا۔ اُس شخص کو گرفتار کرکے ایک سال کی سزا سنائی گئی۔ جولائی2007 ءمیں سویڈن کے ایک شخص لارز ویلکس نے نبی اکرمﷺ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی۔ مسلمانوں کے احتجاج کے باعث اُس کو گھر چھوڑنا پڑا ۔ستمبر 2007ءمیں بنگلہ دیش کے ایک اخبار میں نبی اکرم ﷺ کے خاکے شائع ہو ئے جس پرکارٹونسٹ کو گرفتار کر لیا گیا ۔ دسمبر 2007ءمیں عراق کے ایک کرد مصنف نے اپنی کتاب میں نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ اُس نے نبی اکرمﷺ اور حضرت علی ؓ کی توہین آمیز پینٹنگ بنائی ۔ اُس نے ہالینڈ کے ایک میوزیم میں اِس پینٹنگ کو نمائش کے لئے پیش کیا۔یہ شخص مسلمانوں کے احتجاج کے بعد ناروے فرار ہو گیا اور سیاسی پناہ حاصل کر لی ۔ عراقی عدالت نے اُسے قید کی سزا سنائی ، تاہم ناروے میں روپوش ہونے کی وجہ سے یہ شخص ابھی تک گرفتار نہیں ہو سکا ۔ فروری 2008ءمیں معروف ویب سائٹ وکی پیڈیا پر نبی اکرمﷺ کے خاکے شائع کئے گئے جس پر دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ ویب سائٹ انتظامیہ نے اِن خاکوں کو ہٹانے سے انکار کر دیا اور یہ ابھی تک وکی پیڈیا پر موجود ہیں۔2008ءمیں ہی ہالینڈ کے فلم ساز گریٹ ویلڈرز کی بنائی گئی متنازعہ اور توہین آمیز فلم” فتنہ“ سامنے آئی ۔ اِس فلم میں اسلامی قوانین اور نبی اکرمﷺ کی تضحیک کی گئی تھی ۔

مئی 2008ئمیں ہالینڈ کے ایک کارٹونسٹ نے نبی اکرمﷺ کے خاکے بنا کر اپنی ویب سائٹ پر لگا دئیے ۔ اِس کارٹونسٹ کو پولیس نے ڈھونڈھ کر گرفتار کر لیا اور عدالت کے حکم پر اُس نے توہین آمیز خاکے اپنی ویب سائٹ سے ہٹا دئیے۔ 2010ئمیں نیو یارک کے میٹروپولیٹن میوزیم آف آرٹ میں نبی اکرمﷺکے خاکوں پر مشتمل پینٹنگز رکھی گئیں، تاہم مسلمانوں کے احتجاج اور شدید ردعمل کے خوف سے اُن کو نمائش کے بغیر ہی ہٹا دیا گیا۔20مئی 2010ءکو شرپسند عناصر کی جانب سے فیس بک اور سوشل میڈیا کی دیگر ویب سائٹس پر اشتہار دئیے گئے جن میں ہر ایک کو نبی اکرمﷺ کے خاکے بنانے کی دعوت دی گئی ۔ اِس اقدام کے خلاف مسلم دنیا میں شدید اشتعال پیدا ہوا اور کئی ممالک کی جانب سے فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کو بند کر دیا گیا ۔ نومبر 2010ئمیں فرانس کے ایک ہفت روزہ میگزین چارلی ہیبڈو نے نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں پر مشتمل خصوصی ایڈیشن شائع کرنے کا اعلان کیا ۔ میگزین نے ٹائٹل کو انٹرنیٹ پر شیئر بھی کر دیا ۔ اِس اشتعال انگیز اقدام کے بعد مسلم ہیکرز نے اِس میگزین کی ویب سائٹ ہیک کر لی اور اُس کے دفتر پر بھی فائر بم کے ذریعے حملہ کیا گیا۔

ستمبر2012 ءمیں ہالی وڈ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز فلم ریلیز کی گئی۔ اِس فلم کو جون کے آخر میں ایک چھوٹے سینما گھر میں دکھایا گیا۔ایک فرضی نام سیم رسائل نے اِس کی ڈائریکشن دی جس کو بعد میں نکولا بیسلی نیکولا کے نام سے شناخت کر لیا گیا ۔ یہ شخص اسرائیلی نثراد یہودی ہے ۔ اُس نے نبی محترمﷺ کی شان میں گستاخی پر مشتمل فلم بنانے کے لئے 50ملین ڈالر چندہ جمع کیا ۔ امیر یہودیوں نے اِس مذموم حرکت کے لئے دل کھول کر اُس کو عطیات دئیے۔ اُس کا ساتھی مورس صادق نامی ایک مصری نژاد امریکی شہری ہے جو قبطی عیسائی ہے ۔ اُن دونوں کو امریکہ کے بدنام زمانہ پادری ٹیری جونز کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے ساتھ ساتھ قرآن مجید کی بے حرمتی کا سلسلہ بھی نائن الیون کے بعد تیز ہو گیا ۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں قرآن پاک کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ۔ بعض مغربی شرپسند سکالروں نے یہ شوشہ چھوڑا کہ مسلمانوں کے اندر جذبہ جہاد کی بیداری اور اسلام سے محبت کو کم کرنے کے لئے قرآن مجید کی توہین کی جائے اور اُس کی تعلیمات کو تنقید کا نشانہ بنایا جائے ۔ اِسی فلسفے پر عمل کرتے ہوئے امریکی فوجیوں اور بنیاد پرست عیسائی اور یہودی حلقوں کی جانب سے قرآن پاک کی توہین کی گئی ۔

قرآن پاک کی بے حرمتی کا ایک بڑا سکینڈل امریکہ کے بدنام زمانہ حراستی مرکز گوانتاناموبے میں سامنے آیا ۔ مسلمان قیدیوں نے انکشاف کیا کہ قرآن پاک کے اوراق کو ٹوائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ امریکی فوجی جان بوجھ کر قرآن پاک کو ٹھوکریں مارتے ہیں ۔ اِس مذموم حرکت کا مقصد مسلمان قیدیوں کے اندر اشتعال پیدا کرنا ہوتا ہے ۔ اِس حوالے سے متعدد تصاویر بھی سامنے آئیں ۔ امریکہ کے معروف رسالے ”نیوزویک “نے اپنی ایک رپورٹ میں گوانتاناموبے میں قرآن پاک اور مسلمان قیدیوں کے ساتھ توہین آمیز رویے کی تصدیق کی ۔

امریکہ میں قرآن پاک کی توہین اور بے حرمتی کا سب سے بڑا واقعہ ملعون پادری ٹیری جونز کی جانب سے قرآن پاک کو جلانے کا اعلان تھا ۔ اُس نے 2010ءکو نائن الیون کی برسی کے موقعے پر فلوریڈا کے ایک چرچ میں قرآن پاک نذر آتش کرنے کا اعلان کیا ۔ ٹیری جونز اِس سال عالم اسلام کے شدید ردعمل اور امریکی حکومت کے دباﺅ کے باعث اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکا تاہم اُس نے اپنا منصوبہ ترک نہ کیا اور اگلے سال 20 مارچ 2011ءکو اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اُس نے قرآن پاک کو نذر آتش کیا ۔

رواں سال افغانستان میں امریکی فوجیوں کی جانب سے بگرام ائیر بیس پر قرآن پاک کے سینکڑوں نسخے جلانے کا واقعہ پیش آیا ۔ اِس کے خلاف فوری طور پر افغانستان میں ہنگامے پھوٹ پڑے ۔اِن پرُتشدد ہنگاموں میں 30 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور 6 امریکی فوجیوں کو بھی قتل کر دیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ نے ذاتی طور پر اِس واقعے پر معافی مانگی۔

یہ سب واقعات وہ ہیں جو نائن الیون کے بعد پیش آئے ،جبکہ نائن الیون سے پہلے بھی کئی بار ایسی مذموم حرکتیں کی گئیں ۔امریکہ کی سپریم کورٹ بلڈنگ میں نبی اکرمﷺکی خیالی تصویر 1935ئمیں بنائی گئی تھی، یہ تصویر ابھی تک موجود ہے ۔ اِس سے امریکیوں کے نبی محترمﷺکی ذات اقدس کے بارے میں خبث باطن کا اظہار ہوتا ہے۔اِسی طرح اگست 1925 میں لندن کے ایک اخبار میں نبی اکرمﷺ کا خاکہ بنایا گیا تھا۔ 1989میں بدنام زمانہ بھارتی مصنف سلمان رشدی نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی۔ سلمان رشدی کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے ۔ سلمان رشدی لندن فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جہاں وہ ابھی تک برطانوی سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں ہے ۔ عالم اسلام کے کئی علمائے کرام نے سلمان رشدی کو قتل کرنے کا فتویٰ جاری کر رکھا ہے جب کہ اُس کے سر کی قیمت تیس لاکھ ڈالر بھی مقرر ہے ۔

1994ئمیں بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین نے قرآن پاک اور نبی اکرم ﷺ کے ذات اقدس کے بارے میں توہین آمیز کتاب لکھی ۔

1997ءمیں نبی اکرمﷺ کا خیالی مجسمہ نیویارک کی ایک عدالت میں نصب کیا گیا تھا، جس کو اسلامی ممالک کے سفیروں کے احتجاج کے بعد ہٹا دیا گیا۔ 1998ءمیں ایک پاکستانی غلام اکبر کو نبی اکرمﷺ کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کرنے پر سزائے موت سنائی گئی ۔

1999ئمیں ایک جرمن میگزین ’ ڈر سپائیجل‘ میں نبی اکرم ﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا۔ 2001ءمیں اِسی میگزین نے دوبارہ بھی اِسی خاکے کو پیش کیا۔2001ء میں امریکی فاکس ٹی وی کے پروگرام ساو¿تھ پارک کی ایک قسط میں نبی اکرمﷺ کا خاکہ پیش کیا گیا ،تاہم مسلمانوں کے احتجاج کے بعد اِس کی باقی ماندہ اقساط سے اِس کو ہٹا دیا گیا۔

2001 ءمیں امریکی میگزین” ٹائم“ نے ایک تصویر شائع کی جس میں پیغمبر اسلام کو حضرت جبریل کا انتظار کرتے دکھایا گیا۔ مسلمانوں کے شدید احتجاج پر میگزین نے اپنی اِس مذموم حرکت پر معافی بھی مانگی۔

ان واقعات کے باعث ہر مسلمان کا دل غمگین ہے، ہر کوئی سراپا احتجاج ہے ، دنیا بھر میں پرُتشدد مظاہرے ہو رہے ہیں اور ناموسِ رسالت ﷺپر مر مٹنے کا جذبہ ہر دل میں موجزن دکھائی دیتا ہے ۔ اِن حالات میں نبی اکرم ﷺ سے محبت کرنے والوں کی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے ۔ مسلم حکمرانوں کا فرض ہے کہ عالمی سطح پر انبیائے کرام اور مقدس کتابوں کی توہین کے واقعات کی روک تھام کے لئے قانون بنوانے کے لئے متحرک ہو جائیں۔ ایسی حرکتیں کرنے والے شرپسند عناصر عالمی امن کو تباہ کرنا چاہتے ہیں، اِس لئے مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اِس صورت حال کا ادراک کرتے ہوئے اِن کے خلاف کارروائی کریں ۔ دوسری جانب مسلمانوں کو چاہیے کہ پرُجوش مظاہروں اور محبت رسول ﷺ کے نعروں کے ساتھ ساتھ قرآن و سنت پر سختی سے عمل پیرا ہونے کا عملی مظاہرہ بھی کریں ۔ کفار کی سازشوں کا بہترین جواب یہ ہے کہ مسلمان سنتوں کے فروغ اور نبی اکرمﷺ کی سچی تعلیمات دنیا بھر میں پھیلانے کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں۔ اگر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی ، نبی محترم ﷺ اور قرآن پاک سے اُن کی محبت کا عملی اظہار شروع ہو گیا تو یقینا بہت جلد اسلام کو عروج ملے گا اور دُنیا اِس سچے اور آفاقی دین کی برکات سے مستفید ہو گی۔ (ختم شد) 

مزید :

کالم -