یہ محاذ آرائی کیوں؟

یہ محاذ آرائی کیوں؟

اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی گرفتاری وفاقی حکومت اور پنجاب کے درمیان نئے تنازعہ کا باعث بن گئی ہے۔ عدالت عظمیٰ کے روبرو نیب نے بیان دیا ہے کہ توقیر صادق لاہور میں روپوش ہیں۔ پنجاب پولیس گرفتاری میں تعاون نہیں کر رہی، یہاں انسپکٹر جنرل پولیس کا ذکرہوا تو چیف جسٹس نے برہمی سے کہا وہ رکاوٹ ہیں تو اُن کو گرفتار کر لیا جائے۔ اس کے بعد ہی رانا ثناءاللہ نے الزام لگایا کہ توقیر صادق ایک ہفتے سے گورنر ہاﺅس میں چھپے ہوئے ہیں، اُن کو حوالہ پولیس نہ کیا گیا تو پولیس گورنر ہاﺅس میں داخل بھی ہو سکتی ہے۔ گورنر کے ترجمان نے اِس الزام کی تردید کر دی اور ساتھ ہی جوابی الزام بھی لگا دیا۔

وفاق اور پنجاب کے درمیان محاذ آرائی اس وقت سے جاری ہے جب مسلم لیگ(ن) وفاقی حکومت سے الگ ہوئی، اس میں مزید تیزی اُس وقت آئی جب پیپلزپارٹی پنجاب حکومت سے نکال دی گئی۔ اس کے بعد سے ہر مسئلے پر تنقید اور الزام تراشی کا سلسلہ شروع ہے اور 1988ئ، 1990ءوالا ماحول پیدا کیا جا رہا ہے۔ دونوں جماعتوں کی طرف سے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے کی بات کی گئی، لیکن عملی طور پر حالات مختلف ہیں۔

توقیر صادق ملزم ہیں۔چیف جسٹس نے گرفتاری کا حکم دیا، نیب نے اگرالزام لگایا ہے تو اس کا جواب گرفتاری سے دیا جاتا (اگر ملزم واقعی پنجاب یا لاہور میں ہے)، لیکن جوابی الزام لگا دینا تو اچھی روایت نہیں۔ اگر رانا ثناءاللہ کو پختہ یقین اور اطلاع ہے، تو ان کو یہ بھی بتایا گیا ہو گا کہ توقیر صادق گورنر ہاﺅس کے کس حصے میں موجود ہیں، پھر انہوں نے کارروائی کر کے اسے برآمد کیوں نہ کر لیا؟ الزام لگانے سے تو ملزم گرفتار نہیں ہو گا۔

ہم سمجھتے ہیں کہ محاذ آرائی کی وجہ سے ملزم کو فائدہ ہو گا، اِس لئے بہترین عمل یہی ہے کہ وفاق اور پنجاب دونوں کی انتظامیہ اور ادارے ایک دوسرے کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور توقیر صادق کی گرفتاری کو یقینی بنائیں۔ اِس کے لئے پولیس کی ذمہ داری زیادہ ہے،اسے نیب کے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ اگر وہ لاہور یا پنجاب کے کسی بھی حصے میں ہے، تو اُس کو پکڑ کر عدالت عظمیٰ کے روبرو پیش کرنا یقینی بنایا جائے۔ محاذ آرائی تو کسی بھی لحاظ سے اچھی نہیں ہوتی۔ 

مزید : اداریہ