قربانی سے پہلے قربانی ہوگئی۔۔۔

قربانی سے پہلے قربانی ہوگئی۔۔۔
قربانی سے پہلے قربانی ہوگئی۔۔۔

  

نمل نامہ (محمد زبیراعوان) تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے حکومت کے خلاف احتجاج کی آڑمیں وفاقی دارلحکومت پر ’یلغار‘ کی اور دھرنے کے ’ریکارڈ ‘بنتے ٹوٹتے ہی جان خلاصی کے راستے تلاش ہونے لگے اور اتفاق ہواکہ چل پھر کر میلہ لوٹاجائے ، کراچی ، لاہور اور میانوالی فتح ہوئے اوردونوں جماعتوں نے دیگر علاقوں میں بھی ”میدان“ سجانے کا اعلان کردیا، عیدالاضحی کے موقع پر ریڈزون میں قربانیوں کا اعلان کیاگیالیکن ’جانور‘ قربان ہونے سے پہلے ہی کارکنان نے گھروں کی راہ لی اورقائدین وہیں رہ گئے ۔

دھرنے عملی طورپر ختم ہوئے ، وزیراعظم نواز شریف کا چند ماہ پہلے لاہور میں دیاگیاایک بیان سچ ثابت ہواجس میں اُن کاکہناتھاکہ کرسیوں کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر سے ڈاکٹر کی دواءکی طرح صبح شام اور دوپہر خطاب ہورہے ہیں ،دونوں دھرنوں کے کارکنان نے جان خلاصی ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور رخصت سفر باندھ کر گھروں کی راہ لی اور دوبارہ دھرنوں کا رخ نہ کرنے کا بھی اعلان کردیا۔

خان صاحب کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک کا اعلان کیاگیالیکن خود ہی ’سونامی‘ میں بہہ گئے اور زمان پارک کے گھر کا بل اداہوگیا، شاہ محمود قریشی نے بل جمع کرانے پرسوال کو ہی غیرسنجیدہ قراردیا، اس میں کوئی شک نہیں کیونکہ اگر حکمران جاگیردار اورقریشی صاحب جیسا طاقتور طبقہ ٹیکسوں ،بلوں کی ادائیگی اور فرضوں کی واپسی سے مثتثنی ہے تو اس کا مطلب تھوڑی ہے کہ اس ملک کی رعایا کو بھی ٹیکسوں بلوں اور فرضوں کی واپسی معاف کر دی جائے ؟ اگر عوام ٹیکس اور بل ادا نہیں کریں گے تو بادشاہ اور مصاحبین کہاں سے اپنی عیاشیاں کر سکیں گے ؟ محلات کی رونقیں کس کے خون پسینے کے عوض رواں رکھی جائیں گی ؟ گھوڑا گھاس سے دوستی کرے گا تو کھائے گا کیا ؟

کسی پاکستانی کو سمجھ نہیں آ رہی اس وقت کہ خان نے سول نا فرمانی کا اعلان کیوں کیا ہے؟ اور پھر اُس سول نافرمانی سے خیبرپختونخواہ حکومت مستثنیٰ ہے اور بنی گالہ رہائش کے علاوہ عمران کی دیگر رہائش گاہیں اور پی ٹی آئی کے قائدین نے اپنے گھر وں اور فیکٹریوں کے درجنوں بل جمع کرادیئے ہیں ، کیا واپڈا اہلکاروں سے جھگڑنے اور اپنے میٹرکٹوانے کیلئے صرف کچھ جنونی کارکن ہی بچے ہیں جو نہ تو جنریٹرچلانے اور نہ ہی خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ۔

14اگست کو اعلان ہواتھاکہ استعفوں کے بغیر واپسی نہیں ہوگی لیکن افواہیں ہیں کہ تحریک انصاف نے خود اپنے استعفے جمع کرادیئے ہیں ، لینے کی بجائے دینے پڑگئے لیکن مقصدپھر بھی پوراہوتادکھائی نہیں دیتاکیونکہ اب پانی سرسے پار ہوچکاہے ، جب پارلیمنٹ میں جانے کا راستہ ہی بند ہوچکاہے تو گنجی نہائے گی کیا اور نچوڑے گی کیا ؟

ڈاکٹر طاہرالقادری کابنیادی مطالبہ تقریباً مان لیاگیاہے اور وہ کبھی بھی حالات سازگاردیکھتے ہوئے واپسی کااعلان فرماسکتے ہیں ، ماضی کی طرح اس مرتبہ بھی ڈاکٹر طاہرالقادری پاکستانی سیاست میں ہلچل مچانے میں کامیاب رہے ، ڈاکٹرطاہرالقادری نے پاکستان کے علاوہ ’کنیڈا‘کو بھی ایک پہچان دی ، اس سے پہلے وہاں موجود تارکین وطن کے علاوہ بھارت میں موجود ایک اداکارہ اور ہندی زبان کی فلموں میں ’کنیڈا‘ کا ذکر عام طورپر ہوتاتھالیکن پاکستانی عوام نے ڈاکٹرطاہرالقادری سے متعلق لیگی رہنماﺅں کے بیانات سے ’کنیڈا‘سے شناسائی حاصل کی ۔

دونوں جماعتوں کے رہنماءبظاہر اپنے مطالبات اور دھرنوں پر قائم ہیں لیکن عملی طورپر دھرنے ختم اور قائدین ریڈزون کے تعفن زدہ علاقے میں موجود ہیں ،دونوں جماعتوں کے مشترکہ حلیف شیخ رشید احمد کے بقول ’حکومت کی قربانی ہوچکی ہے ، کھال لینے کے لیے کافی لو گ آگئے ہیں ‘ چند دن پہلے ہی اُن کاکہناتھاکہ عیدالاضحی سے پہلے قربانی ہوگی اور وہ اپنے بیان پر قائم ہیں ، کس موقع پر قربانی ہوئی ، کو علم نہیں البتہ دھرنوں میں اب ٹھاٹھیں مارتی کرسیاں ہی بچ گئی ہیں اور محسوس یوں ہوتاہے کہ شیخ صاحب نے دونوں جماعتوں کی قربانی کی طرف اشارہ کیاتھا۔

مزید : بلاگ