توانائی کا بحران

توانائی کا بحران
توانائی کا بحران

  

عالمی بنک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہر تیسرا پاکستانی بجلی سے محروم ہے۔ توانائی کے بحران نے عوام کو شدید مشکلات کا شکار کر دیا ہے، یہ بحران شدید سے شدید تر ہوتا جائے گا۔ نئے منصوبوں کے نام پر کمیشن تو کھایا جاتا ہے، لیکن بجلی مہیا نہیں کی جاتی۔ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ طویل سے طویل تر ہوتا جا رہا ہے، جس کے باعث عوامی احتجاج کئی جگہ پُرتشدد ہو جاتا ہے۔اس بحران کے معاشی پہلو بھی سب کے سامنے ہیں۔ توانائی کے بحران کی وجہ سے پاکستان کے جی ڈی پی میں 4 فیصد تک کمی ہو جاتی ہے۔ کئی صنعتی ادارے بند ہو گئے ہیں۔غیر ملکی اور ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ منتقل کررہے ہیں۔ بے شمار پاکستانی بے روزگار ہوگئے ہیں۔ معاشرہ مجموعی طور پر اس سے متاثر ہے۔اوپر سے گیس کی کمی بھی ہے۔ لوگوں کے پاس کھانا بنانے کے لئے گیس نہیں، ہسپتال پوری طرح سروس مہیا کرنے کے قابل نہیں۔ جون 2015ء میں گرمی کی شدت سے 1200سے زیادہ پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بجلی مہیا کرنے کی بجائے قیمت بڑھا دی جاتی ہے۔ عوام احتجاج کرتے ہیں، تشدد پر اُتر آتے ہیں، بل جلائے جاتے ہیں۔ یہ ابتدا ہے، پھر بڑے لوگوں کی باری، بڑے گھروں کی باری، بڑی گاڑیوں کی باری اور عوامی نمائندوں کی باری بھی آ جائے گی۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ جوبجلی میسر ہے، اس کو بھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا جاتا۔ٹرانسمشن اور ڈسٹری بیوشن کا نظام درست نہیں ہے۔ یہ لاسز20فیصد تک ہیں۔ وزارت خزانہ سرکلر ڈیبٹ کنٹرول کرنے کی بجائے زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی کوشش کرتی ہے، کیونکہ جتنا ڈیبٹ بڑھے گا، اتنا کمیشن زیادہ ہوگا۔ عوام کے علم میں کوئی بات نہیں لائی جاتی۔ شفافیت ایک اجنبی سا لفظ بن گیا ہے یا بنا دیا گیا ہے۔کچھ دہائیاں قبل بجلی کی اتنی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ صنعتیں کم تھیں، آبادی کم تھی،لوگ روائتی طریقوں سے اپنی ضروریات پوری کر لیتے تھے۔ پھر یہ ضرورت تربیلا اور منگلا سے پوری ہوتی رہی، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبادی میں اضافہ، صنعتوں میں اضافہ، دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی سے توانائی کی ضرورت بڑھ گئی، لیکن کوئی نیا منصوبہ نہیں بنایا گیا کہ طلب و رسد میں توازن برقرار ہے۔90 کی دہائی میں پرائیویٹ سیکٹر کو سرمایہ کاری کے لئے ترغیب دی گئی، جس سے 4500میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو گئی، لیکن یہاں سے ایک نئے بحران نے جنم لیا۔

پرائیویٹ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے معاہدوں میں غلطی سے یا کرپشن کی نیت سے "Pricing Model" میں ایسی خامیاں رکھی گئیں، جن کا ملکی خزانے پر بہت بُرا اثرپڑا۔ کئی سکینڈلز نے جنم لیا۔ ادائیگی بھی زیادہ کی گئی اور بجلی بھی کم پیدا ہوئی۔ سرمایہ کاری کی بنیاد پر ادائیگی کی ضمانت دی گئی، نہ کہ پراجیکٹ کی کارکردگی پر، مہنگی لیکن غیر موثر مشینری اور ٹیکنالوجی استعمال کی گئی، جس کا نتیجہ ظاہر تھا، قیمت بہت زیادہ رکھی گئی اور بجلی کم مہیا کی گئی۔ دوسری طرف Demand بڑھتی گئی۔ Supply مطابقت نہیں رکھتی تھی۔ آبادی میں اضافہ ہوتا رہا۔ دیہات سے شہروں کی طرف نقل مکانی، متعلقہ محکمے اور ادارے کی ’’غفلت، نااہلی‘‘Transmission and Distribution" میں بجلی کی چوری یہ سب وہ اسباب ہیں، جن کی وجہ سے لوڈشیڈنگ میں کمی نہیں آئی، بلکہ وقتاً فوقتاً اضافہ ہی ہوتا گیا ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں سیاسی قائدین کا ایسا ہجوم ہے، جن میں "Political Will" نہیں ہے کہ مشکل اور دلیرانہ فیصلے کر سکیں۔ بحرانوں سے نمٹنے کے لئے جس قسم کے اقدامات کرنا ضروری ہوتے ہیں۔ وہ کر سکیں، جو حکومت سے باہر ہیں، وہ ہر قیمت پر حکومت میں آنا چاہتے ہیں، جو حکومت میں ہیں، وہ ہر قیمت پر حکومت میں رہنا چاہتے ہیں۔ عوام کی مشکلات ختم کرنے کی بجائے عوام کی ضروریات پوری کرنے کی بجائے عوام کا خون چوس کر اپنے اثاثے بڑھانا ان کا مقصد ہوتا ہے۔ توانائی کے بحران کا حل بھی ایسے پراجیکٹس میں ڈھونڈتے ہیں، جن میں ’’کمیشن‘‘ ملنے کا امکان ہوتا ہے، اور ضرورت بڑھنے کے باوجود توانائی کے نئے منصوبے مکمل کرنے پر توجہ نہیں دی گئی۔ موجودہ حکمران بھی انتخابات میں توانائی کے بحران کے حل کی طرف توجہ دینے کا وعدہ کرتے نظر آئے۔ توانائی صنعت کی جان ہے۔ شوگر ملوں کی جان ہے، شوگر ملوں کے مالک ہونے کے باوجود توانائی کے حصول کے لئے کوشش نہیں کی گئی، کیونکہ ان کا کام تو ہو رہا ہے۔

پاکستان میں توانائی کے حصول کے لئے بے شمار مواقع موجود ہیں، لیکن ان سے فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ جو پراجیکٹس شروع بھی کئے گئے، ان کی ’’شفافیت‘‘ پر سوالیہ نشان ہے، لہٰذا مستقبل میں بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔پھر انتخابات میں کوئلے سے توانائی حاصل کرنے کے وعدے اور دعوے سبھی کئے گئے۔ اس وقت پاکستان میں 200ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں۔ وزیراعظم نے متعدد بار تھر سے یہ منصوبہ شروع کرنے کا ذکر کیا، لیکن پاکستان کے پاس وہ ذرائع، سرمایہ، ٹیکنیکل مہارت موجود نہیں جو وہاں سے بجلی پیدا کر سکے۔ شاید اس کا ادراک ہی نہیں ہے۔ بس وعدے کرو جس سے عوام خوش ہو جائیں۔ ہم نے کبھی نہ تو یہ سوچا نہ پوچھا کہ حضور یہ سب کیسے چلے گا؟کب تک چلے گا؟ آپ سے کچھ بچا تو ہمیں ملے گا۔ دوسرا بڑا ذریعہ جو اس وقت استعمال میں ہے، قدرتی گیس ہے، لیکن وہ بھی آہستہ آہستہ کم ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ماضی قریب تک گیس کے ذخائر کے علاقے میں حفاظتی اقدامات ناکافی تھے۔ پائپ لائن اُڑا دی جاتی تھی۔ورکر اغوا کرکے قتل کر دیئے جاتے تھے۔

بہت سے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان بھی ایرانی ایٹمی معاہدے سے فائدہ حاصل کرنے والے ممالک میں سے ہے۔ ایران سے ایک ارب کیوبک فٹ گیس روزانہ حاصل کی جا سکے گی، لیکن خدشہ ہے کہ فی الحال توانائی کا یہ بحران موجود رہے گا۔ اگلے کچھ سال تک تیل اور گیس بھاری قیمت پر منگوانے کی ضرورت رہے گی۔ کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے راستے میں جو مشکلات ہیں، وہ برقرار رہیں گی۔ پانی سے بجلی پیدا کرنے میں اندرونی اختلافات کے علاوہ بھارت میں ایک کے بعد ایک ڈیم کی تعمیر بھی پانی کی کمی کا باعث بن رہی ہے۔ سولر اور ہوا بھی بجلی پیدا کرنے کے ذرائع ہیں، لیکن ان سے ڈیمانڈ پوری نہیں کی جا سکتی۔ نندی پور سکینڈل نے تو پورا نظام ہلا کر رکھ دیا ہے۔ وزراء کے بیانات ایک دوسرے سے نہیں ملتے۔ کمیشن اور کک بیک کے الزامات کا واضح اور ٹھوس جواب نہیں دیا جا رہا۔

*۔۔۔ میاں نوازشریف بہت سنجیدگی سے اس بحران سے نکلنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ سولر پلانٹ پر ٹیکس برائے نام کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں سورج اور ہوا سے بجلی حاصل کرنے کے بہترین مواقع ہیں، وہ ان سے پورا فائدہ اٹھانے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ ایک امید افزا کرن ہے۔

*۔۔۔ واپڈا کی کارکردگی نجکاری کا تقاضا کرتی ہے، اگر مکمل نہیں تو قسط وار کرنا پڑے گی۔ یونین کارکردگی بہتر بنانے کی طرف توجہ دیتی نظر نہیں آتی، لیکن ہڑتال اور گھیراؤ میں بے مثال ہے۔ شائد ان کے نزدیک یہی مسئلے کا حل ہے۔ اہل کاروں کی اکثریت عوامی نمائندوں کے کوٹہ سسٹم پر بھرتی ہے۔ ان سے کام کی توقع؟ پرائیویٹ سیکٹر میں منافع حاصل کرنے کے لئے کارکردگی بہتر بنائی جائے گی۔ لائن لاسز کم ہوں گے، بجلی چوری ہونے کے مواقع کم ہوں گے اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی یقینی بنائی جائے گی، کیونکہ احتساب کی تلوار سر پر لٹکتی رہے گی۔

*۔۔۔ دہشت گردی پر قابو پا لینے سے اب امید ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کار اس سیکٹر میں آئیں گے۔ سرمایہ کاری کریں گے، جس سے حالات مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔ صرف دہشت گردی ہی غیر ملکی سرمایہ کاری بند ہونے کی وجہ نہیں۔ غیر ضروری دفتری کارروائیاں بھی بڑی بڑی وجوہات میں سے ہیں۔

*۔۔۔ ایک اور وجہ چین کو فوقیت دینا بھی ہے۔ یورپین سرمایہ کار کہتے ہیں کہ انہیں برابری کے مواقع نہیں مل رہے۔۔۔ لیکن اس کی وجہ ہے کہ حال ہی میں چین نے اپریل میں پاکستان کو 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے، جس میں سے 35ارب ڈالر توانائی کے منصوبوں کے لئے ہیں۔ چین کی طرف سے یہ سرمایہ کاری اب تک کی جانے والی غیرملکی سرمایہ کاری بشمول امریکہ سب سے زیادہ ہے۔ اس سرمایہ کاری میں چین کا اپنا بھی مفاد ہے، کیونکہ پاکستان چین کی حکمت عملی اور مفادات کے تحفظ میں بہت ہی اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اقتصادی راہداری جہاں پاکستان کی معیشت کے لئے سودمند ہوگی، وہیں یہ راہداری چین کے لئے افریقہ، مشرق وسطیٰ اور یورپ کے ساتھ قریبی روابط بھی مہیا کرے گی۔ اس کے لئے چین پاکستان میں سڑکیں، پاور پلانٹ اور بندرگاہوں کی تعمیر و ترقی کے لئے ہر قسم کی امداد مہیا کرے گا، لہٰذا یہ سرمایہ کاری خیرات کے زمرے میں نہیں آتی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ چین کی سرمایہ کاری سے بننے والے منصوبے مکمل ہونے کے بعد 17000میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہو جائے گی، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جو کہا گیا ، جو لکھا گیا، کیا وہ ہو بھی جائے گا۔ جنوری 2015ء میں چین بلوچستان سے کئی منصوبوں سے دستبردار ہو گیا تھا۔

* یہ سب کچھ اپنی جگہ سب سے اہم پاکستانی حکومت کی کارکردگی اور "Political Will" ہے۔ توانائی کے شعبے میں سیاسی اور انتظامی اہم افراد کی تعداد قریباًایک درجن ہو گی۔ ایک کی بات، سوچ، انداز دوسرے سے نہیں ملتا۔ ’’Too Many Cooks in Kitchen‘‘کی زندہ مثال۔ اس شعبے میں ’’اصلاحات‘‘ ہم خود کر سکتے ہیں۔ امریکہ ہو یا چین۔ کوئی بھی اس سلسلے میں کچھ نہیں کر سکتا۔ *

مزید :

کالم -