حکومت کسان کی بحالی اور بہتری کے دعوے تو کرتی ہے مگر عملی اقدامات نہیں

حکومت کسان کی بحالی اور بہتری کے دعوے تو کرتی ہے مگر عملی اقدامات نہیں

اسلام آباد (آن لائن) ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں 55 فیصد حصہ ڈالنے والا لائیو سٹاک اور ڈیری کا شعبہ حکومتی عدم توجہی کا شکار ہو گیا ہے پاکستان دنیا میں دودھ پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے مگر پالیسیوں میں تسلسل نہ ہونے کی وجہ سے ڈیری کے شعبہ سے وابستہ کسان کروڑوں روپے کا نقصان برداشت کر چکے ہیں زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر حکومت کسان کی بحالی اور بہتری کے دعوے تو کرتی ہے مگر اس حوالے سے عملی اقدامات نہیں کئے جاتے ۔ لائیو سٹاک ملک کی مجموعی زرعی پیداوار میں 55 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے مگر حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل کی وجہ سے یہ شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے ملک میں سفید انقلاب برپا کرنے کے لئے پی ڈی ڈی سی نے مختلف منصوبوں کا آغاز کیا جو کہ اچھے پروگرام تھے مگر 18 ترمیم کے آنے کے بعد وزارت خوراک کی صوبوں کو منتقلی نے ان پروگراموں کو شدید دھچکا پہنچایا اور اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود کوئی فائدہ حاصل نہ کیا جا سکا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس شعبہ میں وسیع مواقع موجود ہیں اگر حکومت چاہے تو ڈیری سیکٹر میں بہتری لا کر اس سے ریونیو کمایا جا سکتا ہے ۔

مزید : کامرس