’’وزیراعظم کا تاریخی خطاب‘‘

’’وزیراعظم کا تاریخی خطاب‘‘
’’وزیراعظم کا تاریخی خطاب‘‘

  

وزیراعظم محمد نوازشریف نے 30ستمبر کی شب اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 70ویں اجلاس سے خطاب کے دوران بھارت کو چار نکاتی امن عمل کی پیشکش کردی۔ ان نکات میں ایل او سی پر سیز فائر ، ایک دوسرے کو دھمکیوں سے گریز، کشمیر کو غیر فوجی علاقہ قرار دینا اور سیاچن سے فوجی انخلا شامل ہیں۔ وزیراعظم محمد نوازشریف کا اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے خطاب نہایت اہم ، مدبرانہ اور جامع تھا ،جس میں انہوں نے پاکستان اور جنوبی ایشیاء کو درپیش چیلنجوں کا ذکر کیا۔ سب سے بڑھ کر مسئلہ کشمیر پر ٹھوس اور اہم گفتگو کی ،جس سے بھارتی میڈیا آگ بگولہ ہوگیا اور بھارتی سفارتی حلقے یہ کہنے پر بھی مجبور ہوگئے کہ اقوامِ متحدہ میں پہلی بار کسی پاکستانی لیڈر نے اس دو ٹوک انداز میں کشمیر سمیت دیگر ایشوز پر بات کی ہے۔ پاکستانی میڈیا، جو بالخصوص حکومت پر تنقید کے نشتر چلاتا رہتا ہے اور بعض تجزیہ کار اور اینکر پرسنز جو تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، نے بھی وزیراعظم کے خطاب کو سراہا۔ یقیناًوزیراعظم نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں پاکستان کے مؤقف کو انتہائی جامع طریقے سے پیش کیا تھا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری کو یہ باور کرایا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے، لیکن بھارت اس کا جواب گولہ باری کی صورت میں دیتا ہے۔

حریت رہنماؤں نے وزیراعظم کے خطاب میں مسئلہ کشمیر کو نہایت احسن طریقے سے پیش کرنے پر خوشی کا اظہار کیا۔ میر واعظ عمر فاروق کے مطابق وزیراعظم نے مسئلہ کشمیر پر کوئی روایتی بیان نہیں دیا، بلکہ مسائل کے ساتھ ساتھ ان کے حل بھی تجویز کئے۔ جب یہ سطور لکھی جارہی ہیں، بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہی تھیں۔ اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، وزیراعظم نوازشریف کے چار نکاتی امن فارمولے کو مستردکرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ پہلے دہشت گردی ختم کرو پھر مذاکرات ہوں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ بھارت اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آئے گا اور مودی جیسا انتہاپسند مذاکرات کی میز پر آتا کم دِکھائی دیتا ہے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے چار نکاتی امن ایجنڈا پیش کر کے بھارت کو دفاعی پوزیشن پر لاکھڑا کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ ہم اسلحے کی دوڑ میں شامل نہیں ،لیکن اپنے دِفاع سے غافل بھی نہیں رہ سکتے۔

پاکستان میں بھارتی دہشت گردی سے متعلق وزیراعظم نے کہا کہ جلد ہی اس کے شواہد بھی اقوامِ متحدہ میں پیش کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے اپنے جرأت مندانہ خطاب میں یہ بھی کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شروع کئے جانے والا ضربِ عضب آپریشن تب ہی ختم ہوگا جب ہم اپنے تمام مقاصد حاصل کر لیں گے۔ وزیراعظم نے دنیا میں پھیلتی دہشت گردی اور داعش جیسی تنظیموں کو دُنیا کے امن کے لئے خطرہ قرار دیا، لیکن اس کے ساتھ ہی مختلف خطوں میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم و زیادتی کے خاتمے پر بھی زور دیا۔ وزیراعظم کے اس خطاب کو ایک تاریخی حیثیت حاصل ہوگئی ہے ،جس میں اُنہوں نے کشمیر اور دہشت گردی سمیت کئی اہم بین الاقوامی اور علاقائی امور کے بارے میں پاکستان کا مؤقف پوری دُنیا کے سامنے پیش کیا۔ وزیراعظم نے اپنے خطاب میں بہت عمدہ طریقے سے دہشت گردی کے سدِباب اور پاکستانی معیشت کے فروغ میں بہتری کو اپنے خطاب میں شامل کر کے پاکستان کو سرمایہ کاری کے لئے نہایت موزوں ملک قرار دیا اور اگلے ہی روز اسحاق ڈار کی طرف سے یہ خوش خبری بھی آگئی کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ زرِ مبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے ہیں۔ *

مزید : کالم