شکریہ جناب وزیراعظم

شکریہ جناب وزیراعظم

وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کو جب بھی عوام نے اپنی خدمت کا موقعہ دیا تو انہوں نے اپنی پوری قوت صرف کرتے ہوئے پاکستان کو پستیوں سے نکال کر بلندیوں کی طرف لانے کی بھر پور کوشش کی، مگر بدقسمتی سے ایسی مُلک دشمن قوتوں نے ہمیشہ مسلم لیگ (ن) کا راستہ روکنے کی کوشش کی ،جو پاکستان کو پھلتا پھولتا اور ترقی کی منازل طے کرتا ہوا نہیں گوارا کرسکتی مسلم لیگ (ن) کی پاکستان میں ترقی کے لئے جو خدمات ہیں انہیں اگر گننا شروع کردوں تو وہ ختم ہونے میں نہیں آئیں گی، مگر پھر بھی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے مخالفین اصل میں جو ملکی ترقی کے مخالف ہیں کے لئے چند اہم اور بڑے بڑے منصوبہ جات کی تفصیل پیش کررہا ہوں، جن میں اقتصادی راہداری ،موٹرویز،ریلوے بحالی،پی آئی اے بحالی،لوڈشیڈنگ کنٹرول،ایٹمی صلاحیت، معاشی اصلاحات،کرپشن پر قابو، ہزارہ موٹروے،خطے میں پاکستان کااستحکام،بے حیائی کا خاتمہ ،دھماکے ختم،خودکش بمبار خم ،خودکشیاں ختم،ڈرون حملے ختم،امن وسکون کا دور دورہ ،گوادر منصوبہ،اسلام آباد۔ مظفر آباد ریلوے ،ڈالر کی قیمت پر قابو، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 1998ء کی سطح پر واپس،بین الاقوامی اداروں میں پاکستان کا وقار بحال، بین الاقوامی سرمایہ کاری جیسے عظیم الشان منصوبہ جات کی تکمیل شامل ہے۔

مسلم لیگ(ن) کا مُلک کی 70فیصد کسان آبادی کے لئے اس صدی کا جو سب سے بڑا تحفہ ہے وہ عوامی حکومت کی طرف سے کسانوں کے لئے 341 ارب روپے کا پیکیج ،سیالکوٹ سے لاہور موٹروے، بجلی کی قیمتوں میں مسلسل کمی اور عطا آباد قراقرم ہائی وے ٹنل جیسے منصوبہ جات کاتاریخی آغاز ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس وقت قائد اعظم کے حقیقی وارث اسی منزل مقصود کی طرف پاکستان کو لے کر جارہے ہیں، جس کا خواب علامہ اقبال نے دیکھا اور اس کی تعبیر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کی تھی اور اب اسی خواب اور تعبیر کو لے کر فخر پاکستان قائد عوام وزیراعظم محمد نواز شریف اور خادم اعلیٰ میاں محمد شہباز شریف مُلک کو تعمیر کی بلندیوں تک پہنچا کر پاکستان کو ترقی کی بلند تر چوٹیوں کی طرف لے کر جا رہے ہیں میاں محمد نواز شریف کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت پاکستان بہت جلد ایشیئن ٹائیگر بھی بننے جا رہا ہے صرف پاک چین اقتصادی راہدی کا منصوبہ مکمل ہوجائے اس منصوبہ کے تحت ریل اور موٹروے کیذریعے پاکستان کو چین کے ساتھ تجارتی طور پر دو سے تین سال کے اندر منسلک کردیا جائے گا اس تمام راہداری کے اردگرد انڈسٹریل زون بنائے جائیں گے، جس سے لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے، جبکہ موجودہ صدی کی سب سے بڑی خوشخبری جو وزیراعظم نے عوام کودی ہے وہ مُلک بھر کے غریب کسانوں کے لئے زرعی ریلیف پیکیج کا اعلان ہے جس سے نے نہ صرف غریب محنت کش کسانوں میں خوشی کی ایک نئی لہر پیدا ہوگئی ہے بلکہ ان کے بے جان ہوتے ہوئے جسموں میں بھی جان پڑ گئی ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب کا میٹرو منصوبے کے بعد وزیراعظم کی طرف سے یہ کسانوں کے لئے ایک بہت ہی اچھا اقدام ہے، جس کا فائدہ براہ راست مزدوروں، کسانوں اور ہاریوں کو پہنچے گا،جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب کا لاہور میں اورنج لائن میٹرو ٹرین کا منصوبہ بھی ایک شاندار منصوبہ ہو گا میٹرو بس اور میٹرو ٹرین پر پھر کسی دن تفصیل سے لکھوں گا اس وقت وزیراعظم نے کسانوں کے لئے جو ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہو وہ بھی کسی نعمت خداوندی سے کم نہیں ہے ہمارے کسان جو پہلے ہی مہنگائی ،غربت اور پریشانیوں کا شکار ہیں ہمارے کسانوں نے اپنے بچوں کی خوشیوں کے گلے کاٹے اور خود کئی برسوں سے پھٹے پرانے کپڑے اور پیوند لگے جوتے پہن رہے ہیں ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم تھا اور ایسے گرم ماحول میں وزیراعظم کی طرف سے کسانوں کے لئے زرعی ریلیف پیکیج تھنڈی ہوا کا جھونکا ہے وزیراعظم کے اس اعلان کے بعد نہ صرف کسانوں نے سُکھ کا سانس لیا ہے بلکہ خوشی کا بھی اظہار کیا ہے وزیراعلیٰ کے ریلیف پیکج سے پہلے وزیراعلیٰ پنجاب نے کسانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت پنجاب کو اپنے اپنے جفاکش اور محنتی کسانوں پر نازہے۔ نہ صرف حکومت، بلکہ پوری قوم آپ کو سلام پیش کرتی ہے۔ آپ راتوں کو جاگتے ہیں، آپ محنت سے ہل چلاتے ہیں اور دھرتی کی کو کھ سے سونا نکالتے ہیں۔ ملکی ترقی میں آپ کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے آپ لوگوں کے دم قدم سے بہار ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ معاشی مساوات کی بات کی ہے اور ہم نے اس کو عملی جامہ بھی پہنایا ہے بڑے شہروں کی ترقی کے ساتھ ساتھ ہماری حکومت نے پسماندہ اور دور دراز علاقوں خصوصاً دیہات کی تعمیر و ترقی پر بھی خصوصی توجہ دی ہے۔حکومت پنجاب نے اربوں روپے کی لاگت سے دیہی علاقوں میں سڑکوں کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لئے تاریخی پروگرام کا آغاز کیا ہے۔ ’’پکیاں سڑکاں سوکھے پینڈے‘‘کے وژن کے تحت اس رورل روڈ زپروگرام کا مقصد دیہاتی علاقوں میں سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانا ہے تاکہ کسانوں کی پیداوار کھیت سے منڈی تک آسانی سے اور بروقت پہنچ سکے گی اور کسانوں کے بچوں کی شہر کے سکولوں اور کالجوں تک رسائی ممکن ہو سکے گی، جبکہ وزیراعظم کی طرف سے کسانوں کے لئے341 ارب کے پیکیج کے سے زرعی شعبے میں خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغا ز ہو گا اور اس سے چھوٹے کسانوں کو بھر پو رفائدہ ہوگا ۔ 5000 روپے فی ایکٹر کی امداد سے چھوٹے کسان اپنی فصلیں بروقت کاشت کرنے میں کامیاب ہوں گے اس کے علاوہ کھاد کی بوری کی قیمت میں کمی کے فیصلے اور ٹیوب ویل کی بجلی کے نرخوں میں کمی سے چھوٹے اور بڑے سب کاشت کار برابر مستفید ہوں گے ساڑھے بارہ ایکڑ تک رقبے پر کپاس اُگانے والے کسانوں کو یہ رقم دی جائے گی۔اِس پر 20ارب روپے خرچ ہوں گے، جس میں صوبائی حکومتیں اور وفاقی حکومت برابر کا حصہ ڈالیں گی۔

کسانوں کے لئے یہ پیکیج اتنی بڑی نعمت ہے، جس کا اندازہ صرف ایک کسان ہی بہتر طور پر کرسکتا ہے۔ اخبارات لاکھوں کی دیہاڑیاں لگانے والے اس پیکیج پر اپنی زبان سے الٹی قینچیاں چلائیں گے، مگر پاکستان کی 70فیصد آبادی جو شعبہ زراعت سے منسلک ہے وہ ہی بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ فصل کی کاشت کے دوران زمیندار کے پاس اکثر اوقات پیسے نہیں ہوتے اور وہ سود ،بیاج پر آڑھتیوں سے پیسے ادھار لے کر اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں اور پھر ان کی ساری عمر پھر انہی قرضوں کو اتارنے میں ہی گزرجاتی ہے حکومت کی طرف سے کسانوں کے لئے ایسی چھوٹی چھوٹی خوشیاں آتی ر ہنی چاہئے، کیونکہ زراعت ہمارے ملک کی ریڈھ کی ہڈی ہے اور اس سے منسلک افراد ہمارا سرمایہ افتخار ہیں اور ایسے افراد جو بچپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے تک غربت کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوئے ہوں ایسے افراد کو زندگی کی بنیادی سہولیات فراہم کرنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داریاں ہے، بلکہ انہیں دُنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے برابر معیار زندگی مہیا کرنا فرض ہے اگر ہمارے مُلک کا کسان خوشحال ہو گا، تو مُلک ترقی کرے گا، مُلک ترقی کرے گا، تو پھر ہمیں کسی دوسرے کے سامنے قرض لینے کے لئے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑے گا، بلکہ دُنیا ہماری طرف دیکھے گی اس لئے اب ہم سب محب وطن پاکستانیوں پر فرض ہے کے وزیراعظم محمد نواز شریف کی طرف سے ملکی ترقی کے لئے جو عظیم منصوبے شروع ہوچکے ہیں اور اس کی کامیابیوں کے پیچھے دشمنوں کی جو چالیں ہیں انہیں ناکام بنا کر مسلم لیگ(ن) کی حکومت کے پیچھے ایک دیوار بن کر کھڑے ہو جائیں تاکہ ترقی کا جو سفر اب شروع ہو چکا ہے وہ اپنی منزل مقصود تک پہنچ پائے پاکستانیوں کی خدمت کا جھنڈا اٹھانے پر شکریہ جناب وزیراعظم ۔ *

مزید : کالم