الیکشن کمیشن ہر سال انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل شروع کرے ،جماعت اسلامی

الیکشن کمیشن ہر سال انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل شروع کرے ،جماعت ...

لاہور ( آئی این پی ) جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ نے ملک میں بڑھتی ہوئی بے یقینی و مایوسی اور بدترین سیاسی و معاشی عدم استحکام پر گہری تشویش کااظہار کیاہے۔ باری باری برسراقتدار رہنے والے حکمران طبقہ کی نا اہلی ،بدترین کرپشن ،کراچی بلوچستان ،فاٹا سمیت ملک میں ہونے والے بے گناہوں کے قتل عام پر مجرمانہ خاموشی اور عام آدمی کے مسائل سے مسلسل پہلو تہی کی وجہ سے عوام میں حکومتوں ہی نہیں سسٹم سے مایوسی پیداہورہی ہے۔ مایوسی کے ان احساسات کو ایک طبقہ کی طرف سے سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت مزید گہرا کیاجارہاہے۔ یہ صورت حال ملک و قوم کے لیے کسی صورت خوش آئند نہیں ۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی صدارت میں ہونے والے مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں ملک کی سیاسی صورتحال پر سیر حاصل بحث کے بعد ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں کہاگیاہے کہ پنجاب اور سندھ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکومتی مداخلت کی وجہ سے ان انتخابات کی شفافیت ابھی سے محل نظر ہے۔ دونوں صوبوں بالخصوص پنجاب کے انتخابی قوانین آئین اور بنیادی حقوق کے ساتھ سنگین مذاق کے مترادف ہیں۔ اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کی بجائے تمام اختیارات وزیراعلیٰ کی ذات میں مرتکز کردیئے گئے ہیں۔ جماعت اسلامی پاکستان کی مرکزی مجلس شوریٰ ایک مرتبہ پھر اعادہ کرتی ہے کہ انتخابی اصلاحات وقت کا اہم ترین تقاضاہے ۔ موجودہ نظام انتخابات موروثی اور جاگیردارانہ طرز سیاست کو ہی مضبوط بناتاہے اور اس کے ذریعے ہر طرح کے کرپٹ مافیا زکا پارلیمنٹ تک پہنچنا آسان ہو جاتاہے۔ اجلاس الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ آئین پاکستان کے مطابق ہر سال ازخود انتخابی فہرستوں کو اپ ڈیٹ کرنے کا عمل شروع کرے۔ اور سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کراچی میں فوج یا رینجرز کی نگرانی میں انتخابی فہرستوں سے جعلی ووٹوں کے اخراج کے عمل کوبھی جلد از جلد مکمل کیاجائے۔اسی طرح مردم شماری کی تکمیل کو بھی اولیت دی جائے۔ اجلاس دیر پائیں سے جماعت اسلامی کے منتخب ایم پی اے اعزازالملک افکاری صاحب کے رزلٹ کے اعلان میں ناروا اور غیر قانونی تاخیر پر تشویش کااظہار کرتاہے اور مطالبہ کرتاہے کہ ان کی کامیابی کا فوری اعلان کیاجائے ۔مرکزی مجلس شوریٰ مطالبہ کرتی ہے کہ بلوچستان میں امن عامہ کے قیام میں بہتری کے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیرون ملک بلوچ قائدین سے مقررہ ٹائم فریم میں بامقصد مذاکرات کیے جائیں تاکہ صوبے کی بلوچ آبادی بالخصوص نوجوانوں میں غصہ ،مایوسی و نفرت کاازالہ ہو اور آزادی کے تصور و نعروں کی بجائے وفاق سے دوستی و ترقی کے رشتہ کو از سر نو استوار کیاجاسکے۔ اسی طرح پاک چین اقتصادی راہداری میں 28مئی 2015ء کی اے پی سی اور وزیراعظم پاکستان کے اعلان کے مطابق گوادر سے کوئٹہ، ژوب ،ڈیرہ اسماعیل خان کے مغربی روٹ کے ترجیحی روٹ کو پہلے اور جلداز جلد مکمل کیاجائے۔ مرکزی مجلس شوریٰ کا یہ اجلاس ملک میں امن و امان کی انتہائی ناگفتہ بہ صورت حال پر گہری تشویش کااظہار کرتاہے ۔ یہ امر واقعہ ہے کہ حکمران عوام کے جان و مال کے تحفظ میں مکمل طور پر ناکام ہوگئے ہیں اور انہوں نے عوام کو چوروں ، ڈاکوؤں ،رسہ گیروں ، اٹھائی گیروں،بھتہ خوروں اور راہزنوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیاگیاہے۔اسی لیے چوریوں ،ڈاکہ زنی ، اغوا برائے تاوان ، معصوم بچیوں سے درندگی جیسے جرائم میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔ کراچی میں اگرچہ مجرموں ، دہشت گردوں ،قاتلوں ، ٹارگٹ کلرز ،بھتہ خوروں اور قبضہ مافیا کے خلاف آپریشن جاری ہے اورجس کے بہتر نتائج کی وجہ سے کراچی کے شہریوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔ لیکن ایک لسانی جماعت کے ہیڈکوارٹرسے بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ کی برآمدگی ، سزا یافتہ مجرموں اور ٹارگٹ کلرز کی گرفتاری، بھتہ خوری کے لیے مزدوروں کو زندہ جلانے والے سانحہ بلدیہ ٹاؤن پر جے آئی ٹی کی دل دہلادینے والی رپورٹ ، صولت مرزا کے اعترافی بیانات اور ایس ایس پی ملیر کی پریس کانفرنس کے ذریعے بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کی دہشت گردوں کی سرپرستی کے انکشافات ایم کیوایم رہنماؤں کی طرف سے انفرادی فعل قرار دے کر اپنے کارکنوں کے بھارت جانے کااعتراف ،بھارت اور راء کو پاکستان میں مداخلت کی دعوت نے ٹارگٹ کلرز کو مکمل طور پر بے نقاب کردیا ہے لیکن ان سارے معاملات کو قانون و انصاف کے مطابق آگے چلانے اور مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں عملاً اور عمداً پہلو تہی کی وجہ سے عوام کے اضطراب میں اضافہ ہواہے۔ یہ مجرمان رینجرز کی تحویل میں رہنے کے بعد چند مہینوں میں رہا ہوجاتے ہیں جو ایک بہت بڑا المیہ ہے۔ اسی طرح سانحہ ماڈل ٹاؤن ،سانحہ یوحنا آباداور سانحہ قصور کے معاملات بھی سرد خانے میں ڈال دیے گئے ہیں۔دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے بنائے جانے والے قومی ایکشن پلان پر عمل درآمد اور تسلی بخش نتائج بھی پیدا نہیں ہوسکے۔ قومی ایکشن پلان کے اکثر نکات پر حکومت پیش رفت کرنے میں ناکام رہی ہے۔جماعت اسلامی پاکستان ایک مرتبہ پھر واضح کرتی ہے کہ مہنگائی ، بے روزگاری ، بدامنی ، دہشتگردی ، بدترین لوڈشیڈنگ جیسے مسائل میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گی ۔ اپنے بہترین عوامی ایجنڈے کے مطابق بھر پور عوامی تحریک کے ذریعے پسے ہوئے اور محروم طبقات اور غریبوں کو منظم کریں گے اور ہم ان شاء اللہ اسلامی نظام کے ذریعے پاکستان کو ایک مکمل اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے ۔ جماعت اسلامی پاکستان کا ہدف ’’اسلامی پاکستان ، خوشحال پاکستان ‘‘ پاکستانی عوام کے دل کی آواز ہے ۔ ان شاء اللہ اسلامی پاکستان خوشحال پاکستان کی منزل جلد قریب آئے گی ۔

مزید : صفحہ آخر