’’ایسے دو سیارے جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے‘‘

’’ایسے دو سیارے جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے‘‘
 ’’ایسے دو سیارے جہاں ہیروں کی بارش ہوتی ہے‘‘

  

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) ہیرہ روئے ارضی کی قیمتی ترین دھات ہے اور یہ ہرکس و ناکس کی استطاعت میں نہیں ہیں لیکن قدرت کی کاری گری دیکھیے کہ دو سیاروں مشتری اور زحل پر ہیروں کی بارش ہوتی ہے۔امریکی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ان سیاروں پر بجلی کڑکنے سے میتھین گیس کاربن میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہ کاربن جیسے جیسے نیچے سیارے کی سطح کی طرف گرتا ہے، سخت کنکروں کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے اور جب کاربن کے یہ سخت کنکر سطح پر موجود گریفائٹ میں گرتے ہیں تو ہیروں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔اور بالآخر ایک مائع سمندر میں گھل جاتے ہیں۔یونیورسٹی آف وسکانسن میڈیسن کے ڈاکٹر کیوین بینز کا کہنا ہے کہ ان ہیروں کا قطر تقریباً ایک سینٹی میٹر کے لگ بھگ ہوتا ہے جو ایک انگوٹھی میں جڑے جانے والے نگینے کے برابر ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ان دونوں سیاروں پر سالانہ 1ہزار ٹن ہیرے اسی طرح پیدا ہو رہے ہیں۔ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ آپ اتنے وثوق سے یہ بات کیسے کہہ سکتے ہیں تو میں جواب دیتا ہے کہ ہم میں سے کوئی بھی وہاں جا کر اس عمل کا مشاہدہ نہیں کر سکتا۔ یہ سب کیمیائی تعامل کا نتیجہ ہے اور ہمارا خیال ہے کہ ہم پورے یقین کے ساتھ یہ بات کر رہے ہیں۔

مزید : صفحہ آخر