چھینک مارنے کے بعد ہم ’الحمدللہ‘کیوں کہتے ہیں؟سائنس نے بھی حقیقت کو تسلیم کرلیا

چھینک مارنے کے بعد ہم ’الحمدللہ‘کیوں کہتے ہیں؟سائنس نے بھی حقیقت کو تسلیم ...
چھینک مارنے کے بعد ہم ’الحمدللہ‘کیوں کہتے ہیں؟سائنس نے بھی حقیقت کو تسلیم کرلیا

  

لندن(نیوزڈیسک)چھینک انسانی جسم کے لئے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔سائنسی تحقیق کے مطابق جب ہمیں چھینک آتی ہے تو نانک کے اندر موجود بیکٹیریا اور وائرس باہر نکلتے ہیں اور ہمارا جسم جراثیم سے پاک ہو جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہی ہم اپنی آنکھیں بھینچ لیتے ہیںاور ساتھ ہی ہمارے سینے سے بھی ہوا منہ اور ناک کے راستے پورے زور کے ساتھ جسم سے باہر خارج ہوتی ہے۔اس دوران ہمارا سانس چند لمحوں کے لئے رُک بھی جاتا ہے۔

مسلمان چھینک مارنے کے بعد ’الحمدللہ‘ کہتے ہیںجس کامعنیٰ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہماری سانس کو دوبارہ چالو کیاہے۔نہ صرف مسلمان بلکہ دنیاکے دیگر ممالک کے افراد بھی اپنے پیدا کرنے والے کا شکر دعائیہ کلمات سے کرتے ہیں۔چھینک کے بارے میں چند انتہائی دلچسپ باتیں یہ ہیں کہ ہم سونے کے دوران چھینک نہیں مارتے،سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر چھینک آئے تو اسے روکیں مت کیونکہ اس طرح خون اور دماغ کی شریانوں پر دباﺅ آئے گا اور یہ صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس