نئی دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام کے بیٹے کی ہندو لڑکی سے شادی کی خبر کی تردید کردی گئی

نئی دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام کے بیٹے کی ہندو لڑکی سے شادی کی خبر کی ...
نئی دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام کے بیٹے کی ہندو لڑکی سے شادی کی خبر کی تردید کردی گئی

  

نئی دہلی (ڈی این اے) نئی دہلی کی جامع مسجد کے شاہی امام سید احمد بخاری کے بیٹے شعبان بخاری کی ہندو لڑکی سے شادی کی خبروں کی سختی سے تردید کر دی گئی اور اسے ایک مسلم رہنماءکی سازش قراردیتے ہوئے کہاکہ شعبان کی ایک مسلمان مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنی والی لڑکی سے شادی ہو رہی ہے۔

مزیدپڑھیں:2020ءمیں لوگ کیا شرمناک حرکتیں کریں گے؟ ماہرین نے بتا دیا

غیر ملکی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق شاہی امام سید احمد بخاری نے کہا کہ سید احمد بخاری نے مزید کہا کہ جس لڑکی سے شادی کی جا رہی ہے وہ اسلامک اسٹڈیز کی طالبہ ہے تاہم اس کا تعلق غازی آباد سے ہی ہے ۔ اس سے قبل بھارتی میڈیا نے خبردی تھی جو ’روزنامہ پاکستان‘ آپ کیلئے پیش کرچکاہے کہ شعبان بخاری اور ہندو لڑکی، جس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تھا، گزشتہ کئی سالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔ شاہی امام پہلے اس شادی کے خلاف تھے لیکن لڑکی کی طرف سے اسلام کے مطالعے اور اس کی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارنے پر رضامندی ظاہر کرنے پر وہ اس شادی کے حوالے سے راضی ہوئے۔شاہی امام کے بیٹے اور مستقبل کے شاہی امام کی شادی کی تقریب رواں برس 13 نومبر کو طے پائی ہے جبکہ دعوت ولیمہ 15 نومبر کو ہوگی لیکن دہلی جامع مسجد کے آفس انچارج امان اللہ نے شعبان بخاری کی ہندو لڑکی سے شادی کی خبروں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شاہی امام کو اتر پردیش کی پنچائیت کے انتخابات سے قبل بدنام کرنے کی سازش ہے، تاہم انہوں نے شعبان بخاری کی رواں سال نومبر میں شادی طے پائی جانے کی تصدیق کی۔

واضح رہے کہ سید احمد بخاری نے گزشتہ سال نومبر میں شعبان بخاری کو اپنا جانشین اور نائب امام مقرر کیا تھا۔

مزید : بین الاقوامی