اترپردیش میں برقعہ پوش ہندو نوجوان مندر پر گوشت پھینکتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

اترپردیش میں برقعہ پوش ہندو نوجوان مندر پر گوشت پھینکتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا
اترپردیش میں برقعہ پوش ہندو نوجوان مندر پر گوشت پھینکتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا

  

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک )بھارتی ریاست اترپردیش میں ہندو مسلم فسادات کرانے کی سازش ناکام ہوگئی۔ برقعہ پوش انتہا پسند ہندو تنظیم کا کارکن لڑکیوں کے کپڑے پہن کر مندر پر گوشت پھینکتے ہوئے پکڑا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق انتہا پسند ہندو تنظیم راشٹریہ سویک سیوک (آر ایس ایس) کا ایک کارکن مسلمان لڑ کی کا روپ دھارے مندر پر گوشت پھینک رہا تھا کہ اسے رنگے ہاتھوں شہریوں نے پکڑ لیا۔کارکن نے برقعے کے ساتھ سرخ رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا اور نظر والا چشمہ بھی لگایا ہوا تھا۔شہریوں نے پکڑنے کے بعد اسے پولیس کے حوالے کردیا۔

یاد رہے اسی ریاست میں گزشتہ دنوں ایک مسلم شخص اخلاق محمد کو ہندوﺅں نے گھر میں گوشت رکھنے کے الزام میں اینٹیں مار مار کر جاں بحق کردیا تھا۔ ہوا کچھ اس طرح بی جے پی کے ایک رہنما کے بیٹے نے مندرمیں اعلان کیا کہ اخلاق محمد نے گوشت کھایا ہے اور گھر میں ذخیرہ بھی کیا ہوا ہے جس پر انتہا پسند ہندو مشتعل ہوگئے اور اخلاق کے گھر پر حملہ کردیا۔اخلاق تو موقع پر جاں بحق اور اس کا بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔یاد رہے مودی حکومت نے متعدد ریاستوں میں گائے کے گوشت پر پابندی لگادی ہے۔

مزید : بین الاقوامی