ترقی کے نام پر بربادی

ترقی کے نام پر بربادی
ترقی کے نام پر بربادی

  

پانی زندگی کی علامت ہے جہاں پینے کو میٹھا پانی نہ ملا وہاں تہذیبیں دم توڑ گئیں انسانی ذندگی وہیں پنپ سکتی ہے جہاں میٹھا پانی دستیاب ہو گا ، زیرزمین میٹھے پانی کے ذرائع کو اپنے ہاتھوں ختم کرنے کی کوششیں دیکھنا ہوں تو کوئی رحیم یارخان کا رخ کر لے رقبے کے لحاظ سے پنجاب کا دوسرا بڑا ضلع جو 42لاکھ آبادی پر مشتمل ہے اس کا ضلعی دارالحکومت رحیم یارخان 4لاکھ سے زائد آبادی پر مشتمل ہے بین الاقوامی ایئرپورٹ ، اہم ریلوے سٹیشن ، جنوبی پنجاب کا تیسرا بڑا ہسپتال، میڈیکل کالج ، انجینئرنگ یونیورسٹی ، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، پوسٹ گریجوایٹ کالج ، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کیمپس، یونی لیور ، کوکاکولا فیکٹری ، کاٹن فیکٹریاں ، فلورملز، ماڈل غلہ منڈی غرض ترقی کی ہر علامت یہاں موجود ہے شہر میں سے گزرنے والی 3نہریں اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتی ہیں توصاف ستھرا اور ماڈل انداذ میں بنا ہوا شہر سب کے لیے حیران کن ہے ۔ ٹاون پلاننگ کرنے والے انجینئر نورعلی ضامن حسینی نے اس کا نقشہ  اس خوبصورت انداذ میں بنایا کہ سب سرکاری دفاتر بھی ایک دوسرے سے متصل بنے اور اس دور میں بنائے گئے کالج اور سکولوں میں آج کئی سکول اور بن گئے لیکن ابھی بھی گنجائش کم نہ ہوئی  لیکن شہر کی قیادت ہے کہ اپنے ہاتھوں شہر کو برباد کرنے پر تلی دکھائی دیتی ہے ، جب بھی میں اپنے اس آبائی شہر جاتا ہوں تو ایک شہر کے ساتھ ایک نئی زیادتی ہوتے دیکھ کر لاہور لوٹتا ہوں ، کبھی وہاں سڑکیں چوڑی کرنے کے نام پر درختوں کی بے رحمانہ کٹائی ہوتی ہے تو کبھی کھیل کےمیدانوں کو پارکوں میں بدلنے کے اقدامات ، کبھی کھیل کے میدان ہاوسنگ سوسائیٹیز اور میڈیکل کالج کے نام پر ختم ہوتے ہیں تو کہیں گہرے تالاب نما میدان کو مٹی ڈال کر اونچا کرنے کی کوشش اور تازہ ترین خبرسن کر تو یوں لگتا ہے کہ کسی نے دل کو مٹھی میں لے لیا ہو اور وہ ہے رحیم یارخان شہر کے وسط سے گزرنے والی تقریبا100سال پرانی نہر نوشہرہ مائنرہ کو ختم کے بارے میں افواہیں ، رحیم یارخان کے اکثر علاقوں میں زیر زمین پانی کڑوا ہے اورشہر میں سے گزرنے والی نہریں اس کے لیے آب حیات کی حیثت رکھتی ہیں   میٹھے پانی کی آبادیاں زیادہ تر وہاں ہیں جہاں سے یہ 3 نہریں گزرتی ہیں یوں بھی زیر زمین پانی کی سطح برقرار رکھنے کے لیے نہروں اور ڈونگے(گہرے)گراونڈز کا ہونا لازم ہے چند ماہ قبل جب رحیم یارخان جانا ہوا تو پتہ چلا کہ قدیم شہر میں واقع سکول بلاک نمبر ایک کے گراونڈ کو مٹی ڈال کر اونچا کیا جارہا تھا کئی ایکڑ پر محیط سطح زمین سے کئی فٹ گہرا یہ میدان بارشوں کے دنوں میں پانی سے بھر جاتا تھا یوں قریبی علاقے میں پانی بھی نہ کھڑا ہوتا اور اس میدان میں جمع پانی زمین میں جذب ہو کر زیرزمین پانی کی سطح بھی بلند کرتا اب ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ اس طرح کے اور کئی نئے ڈونگے گراونڈ بنائے جاتے لیکن اس میں مٹی ڈال کر اسے اونچا کر دیا گیا یوں لاکھوں روپے ضائع کر کے زیر زمین واٹر ری چارجنگ کا بڑا ذریعہ بھی ختم کر دیا گیا اور اہل علاقہ کے لیے بارشوں کا پانی گلیوں اور گھروں میں داخل ہونے کا تحفہ بھی دے دیا گیا میدان میں اب لگی گھاس اور پہلےلگی گھاس کے رنگ میں تو شاید کچھ فرق ہو لیکن کام یہ کھیلنے کے ہی آئے گی  لیکن اب جو خبر وہاں ایک قومی روزنامے نے شائع کی ہے تو نہلے پر دہلے کے مترادف ہے کہ اب شہر کے وسط سے گزرنے والی نہر نوشہرہ مائنر کو بند کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہےیہ نہر نہ صرف شہر کی خوبصورتی کا باعث ہے بلکہ بارشوں کے پانی کی نکاسی اور زیر زمین پانی کی سطح بلند رکھنے کا ذریعہ بھی ہے جہاں جہاں سے یہ نہر گزرتی ہے زیر زمین پانی کو بھی میٹھا رکھتی ہے لیکن اب اسے فلائی اوور کی تعمیر  اور پارکنگ کے مسئلے کے حل کے نام پر بند کرنے کے اصولی فیصلے کی خبریں ہیں سوچنے کی بڑی بات تو یہ ہے کہ فلائی اوور تو ایک جگہ بننا ہے اور پارکنگ کا مسئلہ بھی اسی محدود سے علاقے میں ہے جہاں پر اس نہر کی لمبائی کل ملا کر بھی 400میٹر سے ذیادہ نہیں اب اس مسئلے کے حل کے لیے شہر کی خوبصورتی کو ختم کرنے کے ساتھ انسانی نسل کی بقاء پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کیا جارہا ہے حالانکہ اس علاقے میں نہر کے دونوں طرف موجود سڑکوں کے دونوں پر بھی سرکاری اراضی پر ہی مختلف تعمیرات موجود ہیں لیکن ان کی طرف دیکھنےکی فرصت کسی کو نہیں ہے اس مخصوص حصے میں نہر کو ڈھانپنے سمیت کئی حل ہو سکتےہیں اور نہر کنارے کے قریب ترین بننے والی رہائشی آبادی کو بھی روکا جاسکتا ہے لیکن اس مسئلے کا ایک ہی حل نظر آیا کہ اسےہی ختم کر دو اس نہر میں کوڑا اور سیوریج کا پانی پھینکے پر تو شہری احتجاج کرتے ہی تھے لیکن اب تو سرےسے فساد کی جڑ کو ہی ختم کرنےکا فیصلہ کیا جارہا ہے اس شعر کے مصداق کہ

مگس کو باغ میں جانے نہ دو

ناحق خون پروانے کا ہو گا

کہ نہ مکھی باغ میں جائے گی نہ موم بنے گا اور نہ موم بتی پر پروانہ آئے گا اور نہ وہ مرے گا

رحیم یارخان شہر میں ایم این اےمیاں امتیازاحمد کے بھائی جو سابق چیئرمین بلدیہ اورسابق تحصیل ناظم بھی ہیں   اور اب ایک مرتبہ پھر متوقع چیئرمین بھی ہیں تمام تر ترقیاتی امور کی نگرانی وہ خود ہی کرتے ہیں وہ اعلی تعلیم یافتہ اور متحرک  شخصیت  کے مالک ہیں جنہیں شہر کا چہرہ سنوارنے کا جنون بھی رہتا ہے لیکن نادانستگی میں شہر کی ترقی کے نام پر کیے جانے والے یہ اقدمات ان کا چہرہ بھی گہنائیں گے اور مورخ بھی انہیں اچھے الفاظ میں یاد نہیں کرے گا سرکاری افسران تو آتے جاتے رہتے ہیں لیکن سیاستدانوں کی نسلوں نے بھی اسی شہر میں رہنا ہے اب جو بھی اس غلط اقدام کی حمایت کرے گا یا اس پر خاموش رہے گا وہ کم از کم رحیم یارخان کا دوست شمار نہیں ہو گا.

مزید :

بلاگ -