تجاوزات اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن ،مگر؟

تجاوزات اور قبضہ گروپوں کے خلاف آپریشن ،مگر؟

  

صوبائی وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی صدارت میں پنجاب حکومت نے قبضہ مافیا سے اراضی واپس لینے اور تجاوزات کے خلاف بڑے آپریشن کا فیصلہ کیا،جو ایک ماہ جاری رکھا جائے گا۔یہ آپریشن لاہور سے شروع ہونا تھا تاہم پہلے ہی گوجرانوالہ اور فیصل آباد سے آغاز کر دیا گیا اور صوبائی دارالحکومت کی باری ایک روز بعد آئی۔یہ آپریشن عدالت عظمےٰ کی ہدایات کی روشنی میں شروع کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ کسی کو معاف نہیں کیا جائے گا،چنانچہ لاہور میں منگل کو جو آپریشن شروع کیا گیا اس کے دوران قبضہ گروپوں کے قبضے میں سرکاری اراضی کو واگزار کرایا گیا تو بعض نجی مالکان کی ایسی عمارتیں بھی گرا دی گئیں، جو قواعد کے خلاف ہونے کی وجہ سے تجاوزات قرار دی گئیں،اسی طرح بعض ایسے پلاٹوں پر تعمیر گھر بھی گرائے گئے جو قبضہ گروپوں نے قبضہ کر کے جعلی دستاویزات کے ذریعے شہریوں کو فروخت کئے اور وہ گھر بسا کر رہ رہے تھے۔جہاں تک ایسی تجاوزات اور عمارتوں کا تعلق ہے جو قبضہ گروپوں نے سرکاری یا عام لوگوں کی اراضی ہتھیا کر تعمیر کیں اور ان کے خلاف بڑا آپریشن موثر اور بہتر قرار دیا جا رہا ہے،تاہم اب شہری مضطرب بھی ہیں کہ اس سلسلے میں بھی امتیازی سلوک روا رکھا گیا،نجی مالکان کی عمارتوں کے لئے مصالحت کی گنجائش بھی ختم کر دی گئی جیسا کہ بنی گالا میں ہونے والا ہے۔یوں یہ شہری جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔اس بڑے آپریشن میں جو ادارے حصہ لے رہے ہیں وہ وہی ہیں، جن کی وجہ سے قبضہ گروپوں کو سرکاری اراضی اور پلاٹوں پر قبضہ کرنے کا موقع ملا،حیرت کا مقام ہے کہ یہی ادارے اب اس نیک کام میں حصہ لے رہے ہیں،انہی کی تیار کردہ فہرستوں کے مطابق آپریشن کیا جا رہا ہے اور بعض حقیقی مالک بھی متاثر ہو گئے ہیں۔جہاں تک پختہ اور عارضی تجاوزات کا تعلق ہے تو ان کے خلاف کارروائی کی سبھی حمایت کرتے ہیں تاہم توقع کرتے ہیں کہ یہ انصاف پر مبنی ہو گی، یہ قبضے اور تجاوزات کرانے میں ترقیاتی ادارے ملوث ہیں۔لاہور میں ذمہ دار ایل ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن ہے،کیا ان اہلکاروں کو قابل مواخذہ بنایا جائے گا،جنہوں نے معاونت کی اور رشوت لی؟ اگر ایسا نہ ہوا تو یہ سلسلہ رک اور ختم نہیں ہو سکے گا۔اس کا ایک ثبوت آپریشن میں ملا کہ ان اہلکاروں نے انار کلی میں سڑکوں پر بنی تعمیرات کو نہیں چھیڑا،تھڑے اور سائن بورڈ اتار کر کارروائی ڈال دی۔لاہور میں ایک بڑے قبضہ گروپ کی ایک بڑی مارکیٹ گرائی گئی ہے۔اس سے موصوف ماہانہ لاکھوں روپے کرایہ وصول کرتے تھے،ان سے یہ رقم پوری وصول کرنا چاہئے جو اب تک کرائے کی مد میں وصول کرتے رہے ہیں اور ایل ڈی اے کے ان افسروں اور اہلکاروں کا محاسبہ بھی ضروری ہے اور لازم ہے، جو اس جرم میں معاون رہے ہیں۔

مزید :

رائے -اداریہ -