پاک ایران بارڈر سے 20سے25ہزار نوجوان گرفتار

پاک ایران بارڈر سے 20سے25ہزار نوجوان گرفتار
پاک ایران بارڈر سے 20سے25ہزار نوجوان گرفتار

  

بلوچستان کا بارڈر بین الاقوامی طور پر زیادہ اہمیت کا حامل ہے، ایک طرف افغانستان کی سرحد لگتی ہے تو دوسری طرف ایران کی سرحد ہے، ان دونوں سرحدوں سے کروڑوں روپوں کا مال آرہا ہوتا ہے اور جا رہا ہوتا ہے۔ چمن کے سرحدی علاقے سے اسلحہ اور منشیات کا کاروباربھی ہوتا ہے، بین الاقوامی سمگلر اس روٹ کو استعمال کرتے ہیں، جاپان اور کوریا سے سامان آتا ہے اور اس روٹ سے کپڑے، گاڑیاں اورگھریلو مصنوعات آتی ہیں۔ ایران کا روٹ استعمال ہوتا ہے، پہلے جنوبی ایشیا سے ایران میں آتا ہے، اس کے بعد افغانستان پہنچتا ہے، پھر پاکستان میں لایا جاتا ہے۔ افغانستان سے یورپ کی جانب منشیات جاتی ہیں اور اسلحہ کے لئے روس اور وسط ایشیا کا روٹ بھی استعمال ہوتا ہے۔ تاجروں نے اپنے کاروبار کے لئے جاپان، جنوبی کوریا، چین میں دفاتر قائم کئے ہوئے ہیں۔

ان میں زیادہ تر افغانستان اور چمن کے تاجر شامل ہیں، ان کی منڈیوں سے تجارت کرتے ہیں اور اس کے لئے ایران اور پاکستان کے بارڈر استعمال کرتے ہیں۔ ایک طرف یہ کاروبار چل رہا ہے تو دوسری طرف یورپ جانے کے لئے پاکستان اور تفتان بارڈر استعمال ہو رہا ہے، یہ روٹ ایران سے ترکی کے بارڈر تک استعمال ہوتا ہے، کچھ ترکی میں رک جاتے ہیں اور نوجوانوں کی اکثریت ترکی سے یورپ جاتی ہے، اس روٹ سے یورپ جانے والوں میں اکثریت صوبہ پنجاب کی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پنجاب میں بھی غربت زیادہ ہے اور نوجوان ماؤں کے زیورات بیچ کر یورپ جاتے ہیں اور کچھ نوجوان جو ملازم ہوتے ہیں، وہ تنخواہوں کے بدلے ادھار لیتے ہیں اور یورپ کی چکاچوند زندگی کے سنہرے خواب پورے کرنے کے لئے محو سفر ہوتے ہیں۔

انقلاب کے بعد سے ایران کے بارڈر پر سختی زیادہ ہے، سمگلر ان کو بلوچستان کے ساحل سے ایران کے بارڈر تک پہنچاتے ہیں، ان سمگلروں کا کام پاکستان کے بارڈر سے ایران کے بارڈر تک پہنچانا ہوتا ہے، اس کے بعد ان کا دوسرا گروہ ایران سے ترکی کے راستے یورپ تک پہنچاتا ہے، اس طرح انسانی سمگلر یہ گھناونا دھندہ کر رہے ہیں، لیکن بدقسمتی سے بہت کم لوگ یورپ پہنچتے ہیں، جبکہ زیادہ تر نوجوان تفتان بارڈر کراس کرکے پکڑے جاتے ہیں اور ایران کے حکام ان گرفتار شدگان کو بارڈر پر پاکستانی حکام کے حوالے کر دیتے ہیں، ان تمام افراد کے پاس پاسپورٹ ہوتے ہیں اور ایران کا ویزہ لگا ہوتا ہے۔ایران میں خاندانِ رسالت کی بعض اہم شخصیات مدفون ہیں،اس لئے یہ ان بزرگان کی زیارت کے لئے ویزہ لگواتے ہیں،

ان کے پاسپورٹ پر عراق کے ویزے بھی لگے ہوتے ہیں، اہل تشیع حضرات اکثر زیارتوں کے لئے جاتے ہیں، اس لئے ایران کے سفارت خانے ویزہ جاری کرتے ہیں، اس پر کوئی سختی نہیں ہے، اس لئے اس نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لوگ اس بہانے یورپ کی طرف جاتے ہیں۔ بلوچستان سے ہزارہ قبیلے کے ہزاروں افراد یورپ اور آسٹریلیا چلے گئے ہیں اور یورپ کے بعض ممالک میں بھی چلے گئے ہیں، خاندان کے خاندان نقل مکانی کرچکے ہیں،چونکہ بلوچستان میں اہل تشیع کی ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے، اس لئے یورپ اور دیگر ممالک میں ان کے لئے سہولت موجود ہے، اس طرح پنجاب سے لوگ ان ممالک میں جانے کی کوشش کرتے ہیں۔

جب یہ گرفتار شدگان کوئٹہ لائے جاتے ہیں، تو ان سے ضلع کچہری میں ملاقات ہو جاتی ہے، ریلوے سٹیشن پر بھی ملاقات ہوتی ہے، ان کی اکثریت ایک پتلون میں نظر آتی ہے اور اس طرح یہ پنجاب سے جس لباس میں آتے ہیں، اسی لباس میں لوٹتے ہیں، ان کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ اس لباس کو پہنے ہوئے کئی ہفتے گزر گئے ہوں گے، پریشان حال نظر آتے ہیں، ان کی جو جمع پونجی ہوتی ہے، وہ لٹ چکی ہوتی ہے، ان میں اکثریت غریب طبقے کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ ان سے پوچھتا ہوں تو اپنی درد بھری کہانی سناتے ہیں، بلوچستان میں ان سمگلروں کا نیٹ ورک موجود ہے، بارڈر پر ان کے لوگ موجود ہوتے ہیں، جب یہ کوئٹہ آتے ہیں تومخصوص ہوٹلوں میں ان کی رہائش کا بندوبست ہوتا ہے۔ جب تفتان بارڈر سے لوٹتے ہیں تو ان کو بارڈر سے کوئٹہ تک لانے کا پوراچین موجود ہے۔

ان کی ضمانتوں کے لئے ٹاوٹ موجود ہوتے ہیں،وکلاء موجود ہوتے ہیں، اس طرح ان کو واپس پنجاب پہنچا دیتے ہیں، یہ بار بار آتے ہیں اور بار بار گرفتار ہو کر لوٹا دیئے جاتے ہیں، ان میں اکثریت ان لوگوں کی ہوتی ہے، جو ایران کے اندر داخل ہونے کے بعد گرفتار ہو جاتے ہیں اور کچھ نکل جاتے ہیں تو ان میں سے ایک حصہ ترکی کے بارڈر پر گرفتار ہو جاتا ہے، کچھ مارے جاتے ہیں، ترکی میں زیادہ سختی ہے، لیکن ایران کے بارڈر پر پولیس سختی نہیں کرتی،بلکہ ان کو گرفتار کرکے پاکستانی حکام کے حوالے کردیتی ہے۔ایران کے بارڈر سے واپس ہونے والوں کی تعداد 20سے 25ہزار ہوتی ہے اور یہ سلسلہ سالوں سے جاری ہے،

11ستمبر سے 16ستمبر تک تفتان بارڈر سے گرفتار لوگ جو پاکستان کے حوالے کئے گئے ہیں، ان کی تعداد 5دنوں میں 719تھی، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ایران بارڈر کراس کرنے والے لوگوں کی تعداد کا کیا اوسط بنتا ہے، ان کی اوسطاً تعداد 20سے 25ہزار بنتی ہے۔ ایران کے بارڈر کے اندر اتنی سختی نہیں ہے، ورنہ بے شمار لوگ روزانہ مارے جاتے، حکومت پاکستان کو اس مسئلے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور انسانی سمگلنگ کو روکنے کی تدبیر کرنی چاہئے۔

مزید :

رائے -کالم -