خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی

خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی

  

اس دنیائے فانی میں بے شمار ایسی شخصیات تشریف لائیں،جنہوں نے اپنی زندگی کو دین اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے وقف کئے رکھا۔ مشکل سے مشکل حالات اور کٹھن مراحل بھی ان کی راہ میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ایسی ہی شخصیات میں سے مجلس تاجدار ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادی ؒ بھی ایک تھے،جن کی خطابت کا ڈنکہ نصف صدی تک دنیا بھر میں بجتا رہا۔ آپؒ نے امریکہ، یورپ اور مشرق وسطٰیٰ سمیت درجنوں ممالک کے تبلیغی دوروں کے دوران جہاں کئی غیر مسلموں کو حلقہ بگوش اسلام کیا وہاں ملک میں کوئی دینی، مذہبی تحریک ایسی نہ تھی،جس میں آپؒ پیش پیش نہ رہے ہوں۔ 1974ء کی تحریک ختم نبوت میں آپ ؒ کا کردار مجاہدانہ تھا۔ قادیانیوں اور مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے کے لئے آپؒ نے اکابرین اہلِ سنت کے ہمراہ ملک کے طول و عرض میں تبلیغی اجتماعات سے خطابات کرکے عشاقان رسول اکرامؐ میں عشق و مستی کی ایک نئی روح پھونک ڈالی۔ ردقادیانیت میں آپ کی تقاریر قادیانی ٹولے پر برق بنکر گرتی رہیں۔ جب مرزائیوں اور قادیانیوں کو 1974ء میں اسمبلی کی جانب سے غیرمسلم اقلیت قرار دے دیا گیا تو پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادیؒ نے اس کے بعد بھی قادیانی ٹولے کی سازشوں اور یلغار کو روکنے کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھی، اس سلسلے میں آپؒ کی کاوشوں سے ملک بھر کے علماء و مشائخ اہلِ سنت نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مجلس تاجدار ختم نبوت پاکستان کی بنیاد رکھی۔ جس کا آپؒ کو مرکزی امیر منتخب کیا گیا۔اورآپؒ تادم زیست اس کے مرکز ی امیر رہے۔اس جماعت/تنظیم کے زیر اہتمام ملک کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں جلسے اور کانفرنسیں منعقد کرکے علمائے اہلِ سنت نے مسلمانوں کو قادیانیوں کی سازشوں اور مکاریوں سے آگاہ کیا۔

اس کے بعد 1977ء میں جب تحریک نظام مصطفےٰﷺ کا آغاز ہواتواس تحریک میں بھی خطیب الاسلام حضرت پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادیؒ کی مسحور کن آواز عوام کے دلوں کو گرمانے کے ساتھ ساتھ حکومتی ایوانوں پر بھی کڑکتی بجلی بن کر گرنے لگی۔ آپؒ کا لب و لہجہ اس تحریک کے دوران منعقدہ اجتماعات میں اس قدر پُراثر ہوتا تھا، جو سخت دلوں کوبھی چاک کرتا چلا جاتا تھا۔ ان اجتماعات میں جب آپؒ اپنی مسحور کن اور جادو بھری آواز میں اشعار پڑھتے تو لاکھوں کے اجتماعات میں خاموشی چھا جاتی۔سامعین نہ صرف آپ ؒ کی دلفریب آواز پر مستانہ وار جھومنے لگتے، بلکہ آپؒ کی پرکشش شخصیت کی ایک جھلک دیکھنے کے لئے بھی بے تاب رہتے۔اس تحریک میں سیاسی و عوامی اجتماعات میں جب آپؒ نے حکمرانوں پر تابڑ توڑ حملے کئے تو حکومتی ایوانوں میں آپؒ کی ملک کے کونے کونے میں گونجتی آواز کھٹکنے لگی۔پہلے آپؒ کو حکومتی کارندوں کی جانب سے اپنے ساتھ ملانے کے لئے طرح طرح کے لالچ دےئے گئے،لیکن اس کے جواب میں جب آپؒ یہ فرماتے :

وہ تھوکتے نہیں ہیں تخت سکندری پر

بستر لگا ہوا ہے، جن کا آقاﷺ کی گلی میں

تو آپؒ کے ان نظریات اور ارادوں کو دیکھتے ہوئے حکمرانوں نے پیر سید شبیر حسین شاہ حافظ آبادیؒ کو جیل میں ڈال دیا۔ جہاں آپ کو کئی ماہ تک چکی بند کوٹھڑی میں رکھ کر طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں،لیکن آپؒ کے پاؤں میں ذرہ بھر بھی لغزش نہ آئی۔ اس دوران آپؒ سے جو ملاقاتی ملنے کے لئے جاتے تو آپؒ ان سے یہ فرماتے :

جے کر یار دے ناں دی ملے سولی ، جھوٹا لے لئے پیچھے ہٹئے نہ

جے کر یار دے ناں داملے میناں جھولی پا لئے تھلے سٹےئے ناں

تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفےٰﷺ میں مجاہدانہ اور جرأت مندانہ کردار ادا کرنے کے علاوہ پیر سید شبیر حسین شاہ ؒ نے تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کے سلسلہ میں بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ملک کے طول و عرض میںآپؒ ہر روز ہزاروں کے اجتماعات سے خطاب فرماتے ۔ ان اجتماعات میں آنے والے لوگوں کے عقائد کی نہ صرف آپؒ اصلاح کرتے، بلکہ اپنے منفرد انداز خطابت اور مسحور کن آواز سے ان کے دلوں میں محبت رسول اکرمؐ کے ایسے دیپ روشن کرتے، جن کی تابانیوں سے ماحول مہکنے لگتا ۔ملک کی ایسی کچی جھونپٹریاں جہاں پر پانی اور بجلی جیسی سہولتیں بھی نظر نہ آتیں، وہاں بھی آپؒ کی جادو بھری آواز سنائی دیتی۔ آپؒ نے قرآن پاک کی تفسیر اور شرح بخاری شریف کے علاوہ کئی دینی موضوعات پر تحقیقی کتب تصانیف کیں، جن سے آج بھی ہزاروں عشاقان رسولؒ اپنی علمی پیاس بجھارہے ہیں۔ امریکہ میں کئی بار آپؒ نے عید میلادالنبیﷺ کے جلوس کی قیادت کی ۔ ایک بار امریکہ کی ریاست نیو جرسی میں وہاں کے مےئر Bret Shaeundlerنے آپؒ کی شخصیت اور فن خطابت سے متاثر ہوکر آپؒ کوKey of New Jersy Cityاور تعریفی سرٹیفکیٹ سے نوازا۔ملک میں جب خود کش حملوں کے ذریعے معصوم اور بے گناہ لوگوں کو ہلاکتوں کا نشانہ بنایا جانے لگا۔توآپؒ نے چےئرمین سنی اتحاد کونسل حاجی محمد فضل کریم ؒ کی قیادت میں کنونشن سنٹر اسلام آبا د میں ہونے ولے مشائخ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف خود کش حملوں کو حرام قراردیا،بلکہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤں کا اس جارحانہ اندازمیں مطالبہ کیا کہ آپؒ کو دہشت گردوں کی جانب سے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جانے لگیں،لیکن آپؒ ان دھمکیوں سے کبھی مرعوب نہ ہوئے۔ خطیب الاسلام پیر سید شبیر حسین شاہ ؒ کو مطالعہ کا وسیع ذوق وشوق تھا۔ آپؒ کے دارالمطالعہ میں ہزاروں کی تعداد میں نایاب کتب موجود ہیں۔

دنیائے خطابت کا یہ عظیم درخشندہ ستارہ 6اکتوبر 2010ء کو اپنے لاکھوں عقیدت مندو ں کو داغ مفارقت دے کر راہ ملک عدم گیر ہو گیا۔ آپؒ کا جنازہ اٹھا تو انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہر سو دکھائی دے رہا تھا۔آپؒ کی نماز جنازہ میں لاکھوں افراد کے علاوہ ملک کے مقتدر علماء و مشائخ عظام کی کثیر تعداد نے بھی شرکت کی ۔آپؒ کی تدفین 7اکتوبر کو نماز عصر سے قبل مرکز اہلِ سنت جامع الفاروق سے ملحقہ مزار پر انوار میں کی گئی۔ آپؒ کا مزار پر انوار آج بھی زیارت اور فیوض وبرکات کا باعث بنا ہوا ہے۔ آپ ؒ کا عرس مبارک5اکتوبر کو اختتام پذیر ہو گا۔

مزید :

ایڈیشن 1 -کھیل اور کھلاڑی -