امریکہ کو باور کرادیا افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے بغیر پیشرفت ممکن نہیں ، شاہ محمود قریشی

امریکہ کو باور کرادیا افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے بغیر پیشرفت ممکن ...

  

 واشنگٹن(اظہر زمان،بیوریوچیف)پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی عہدیداروں کے ساتھ اپنی ملاقاتوں کو انتہائی مثبت قرار دیتے ہوئے نوید دی ہے کہ ان کے نتیجے میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔بدھ کی شام اپنے دورے کے اختتام پر یہاں پاکستان سفارت خانے میں میڈیا بریفنگ میں انہوں نے اپنے اس حتمی تاثر کا اظہار کیا۔وہ بنیادی طور پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سیشن میں پاکستان کی نمائندگی کر نے کے لیئے امریکہ آئے تھے اور 22ستمبر ہفتے کی شام واشنگٹن پہنچے تھے جہاں ایک دن قیام کر وہ نیو یارک چلے گئے تھے۔شاہ محمود قریشی میڈیا بریفنگ ختم ہوتے ہی اپنا دو روزہ دورہ مکمل کر کے اسلام آباد روانہ ہوگئے تھے پاکستان وزیر خارجہ نے بریفنگ میں بتایا کہ یہاں یہ درست تاثر پایا جاتا ہے کہ افغانستان کا مسئلہ پاکستان کی مدد کی بغیر حل نہیں ہوسکتا اس لیئے انہوں نے امریکی حکام کو یقین دلایاکہ وہ اس سلسلے میں ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتا رہے گا۔ خاص طور پر طالبان کے ساتھ مفاہمت پیدا کر کے افغانستان میں قیام امن کی کوششوں میں حصہ بٹاتا رہے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے افغانستان میں پائیدار امن اور استحکا م کے قیام کا خواہش مند رہا ہے کیونکہ پاکستان میں امن کے لئے ایسا بہت ضروری ہے پاکستانی وزیر خارجہ نے بتایا ہے کہ ان کے امریکی ہم منتخب مائیکل یو مپیو نے اسلام آباد دورے میں انہیں امریکہ کے دورے اورمذاکرات کی دعوت دی تھی جس کے بعد انہیں باہمی تعلقات اور افغانستان سمیت خطے کی عمومی صورت حال پر تبادلہ خیا ل کا موقع ملا ان کا کہنا تھا کہ ابھی دونوں طرف سے کچھ تحفظات باقی ہیں تاہم بات چیت اور مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ بھی ہو رہا ہے اور اب دونوں ملک ایک دوسرے کے زیادہ قریب آگئے ہیں پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ان کی حکومت بیرون ملک پاکستانیوں کو بہت اہمیت دی ہے اور انہیں قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے انہوں نے اس امر پر مسرت کا اظہار کیا کہ اب بیرون ملک حالات بہت ساز گار ہیں اور یہاں مقیم پاکستانی تحریک انصاف کی حکومت پر گہرے اعتماد کا اظہار کررہے ہیں ہم ابھی ان کی توقعات پر پورا ترنے کی کوشش کریں گے اور ان سے بھی امید کرتے ہیں کہ وہ بڑھ چڑھ کر پاکستانی کی تعمیر وترقی میں حصہ لیتے رہیں گے پاکستانی وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں تبایا کہ افغانستان میں قیام امن کے سلسلے میں حالات سازگار نظر آرہے ہیں اور طالبان کے لئے موقع ہے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھا کر مذاکرات کی میز پر آئیں افغانستان کے ساتھ تعلقات بھی پاکستان کے لئے اہم ہے اور طالبان ے ساتھ مفاہمت پیدا ہونے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں مزید بہتری آگے گی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وہ امریکہ کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوگیے ہیں کہ افغانستان کے معاملے میں پاکستان کے بغیر پیش رفت ممکن ہی نہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ گذشتہ ایک سال سے پاکستان پر تنقید کی جا رہی تھی تاہم اب امریکی حکام کے مثبت پیغام آ رہے ہیں اور ہم سے پہلے پاکستان کی اعلیٰ امریکی حکام تک رسائی نہیں تھی۔انھوں نے کہا کہ’ میں سمجھتا ہوں کہ پیش رفت ہوئی ہے اور وہ اس طرح کہ گذشتہ برس کے اگر ان کے( امریکہ) کے بیانات کو دیکھیں تو اس میں سوائے انگلیاں اٹھانے اور تنقید کی بوچھاڑ کے علاوہ کچھ نہیں تھا لیکن اس بار یہ کم دکھائی دیا۔‘ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس سے پہلے امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکریٹری ایلس ویلز کے علاوہ کوئی ملاقات ہی نہیں کرتا تھا لیکن اب تھوڑے سے عرصے میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو پاکستان ائے اور ان کی وزیراعظم عمران خان سے ملاقات ہوئی جس میں سول اور ملٹرری قیادت دونوں موجود تھیں۔’مائیک پومپیو جو تاثر لے کر آئے، جس میں انھیں بالکل واضح پیغام ملا کہ ہماری سول اور ملٹری قیادت یکسوئی سے ایک صفحے پر ہے اور ملک کے مفادات کا مل کر تحفظ کرنے کا پورا ارادہ ہے اور اس سے بہت مثبت پیغام گیا۔‘پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان ہمیشہ سے افغانستان کی خود مختاری کا احترام اور بھائیوں جیسا سلوک چاہتا ہے۔انھوں نے افغانستان میں امن کے حوالے سے کہا کہ’میں ان چند دنوں میں کسی حد تک انھیں( امریکہ) کو یہ بات باور کرانے میں کامیاب ہوا ہوں کہ پاکستان کے بغیر پیش رفت ممکن ہی نہیں ہے اور پاکستان سے پیش رفت حاصل کرنے کے لیے دوستانہ ماحول چاہیے، پریشر سے اور الزامات تراشیوں سے مسائل اور فضا بگڑتی ہے بنتی نہیں۔‘پاکستانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی ہم منصب مائیک پومپیو کے درمیان ہونے والی ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ افغان طالبان مسئلے کے حل کے لیے بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائیں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارے تعلقات کو صرف افغانستان کی نظر سے دیکھا جائے کیونکہ ہماری ستر سالہ تاریخ ہے جس میں اونچ نیچ آئی ہے لیکن آگے بڑھنا ہے اور اگر غلط فہمیاں ہیں تو انھیں دور کرنا ہے اور دونوں جانب توقعات میں کبھی ہمیں تو کبھی آپ کو مایوسی ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لاتعلق ہو جائیں۔’لاتعلق ہوئے بات بنے گی نہیں، بات پاکستان کو ساتھ لے کر چلنے سے ہو گی۔‘القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری میں مبینہ طور پر امریکہ کی مدد کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے جانے والے ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ شکیل آفریدی کے بارے میں امریکہ کا طویل مطالبہ رہا ہے تاہم امریکہ جب یہ چاہتا ہے کہ ہم ان کے قوانین کا احترام کریں تو انھیں بھی ہمارے قوانین کا احترام بجا لانا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹر شکیل آفریدی کی بات ہوتی ہے تو وہاں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا ذکر ہوتا ہے اور پاکستانی عوام کی توقع ہوتی ہے کہ انھیں باعزت طور پر واپس لایا جائے۔

واشنگٹن(آ ئی این پی)مریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا ہے جنوبی ایشیا میں استحکام کیلئے پاکستان اور امریکہ کا تعاون ناگزیر ہے، اسلام آباد افغان مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں مسائل حل کرنے کیلئے رابطے برقرار ر کھنے پر اتفاق کیا گیا۔ جمعرات کو پاک امریکہ وزرائے خارجہ ملاقات کے بعد جاری امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے اعلامیہ میں ملاقات کو 5 ستمبر کی بات چیت کا تسلسل قرار دیا گیا۔ اعلامیہ کے مطابق مائیک پومپیو نے کہا پاکستان کی نئی حکومت کیساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں، د و نوں ممالک کا مل کر کام کرنا جنوبی ایشیا میں استحکام کیلئے ضروری ہے،اعلامیے میں کہا گیا پاکستان افغان مسئلے کے حل میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے، افغان امن مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے ماحول سازگار ہے، پاکستان اور امریکی وزیرخارجہ نے افغانستان سمیت دیگر مسائل کے حل کیلئے روابط برقرار رکھنے پر اتفاق کیا اور باہمی دلچسپی کے امور پر مثبت ڈائیلاگ جاری رکھنے پر زور دیا۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -