پنجاب اسمبلی کا پہلا ورکنگ اجلاس بدترین ہنگامے کی نذر

پنجاب اسمبلی کا پہلا ورکنگ اجلاس بدترین ہنگامے کی نذر

  

لاہور ( جنرل رپورٹر، نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں پہلے ایک روزہ ورکنگ اجلاس کے آغاز میں ہی شدید ہنگامہ آرائی ،ایوان بار بار مچھلی منڈی بنتا رہا شور شرابے کا یہ عالم تھا کہ اس موقع پر کا ن پڑی آواز بھی سنائی نہ دے رہی تھی ، حکومتی اور اپوزیشن خواتین آمنے سامنے آ گئیں، ایوان ’’سپیکر نامنظور‘‘ اور ’’شیم شیم ‘‘ کے نعروں سے گونج اٹھا ، سوا چار گھنٹے جاری رہنے والا یہ اجلاس ہر پل ہنگامہ میں چلتا رہا ، اپوزیشن نے پہلے روز ہی سپیکر چودھری پرویز الہٰی پر جابنداری کے الزامات لگا دئیے ۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا پہلا اجلاس ہی ایک گھنٹہ پانچ منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ اسمبلی کے ایجنڈے پر سپشیلائز ہیلتھ ،پرائمری و سیکنڈری ،صنعت و تجارت اور لوکل گورنمنٹ کے محکموں سے متعلق سوالوں کے جواب دیے گئے،سوالوں کے جواب صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسیمن راشد اور میاں اسلم اقبال دئیے ۔اجلاس کے آغاز میں ن لیگ کے رکن رانا اقبال نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر تعزیتی قرارداد پیش کرنے کی سپیکر سے اجازت طلب کی جس پر سپیکر نے ان کو قرارداد پڑھنے کی اجازت دیدی، ، قر ا ر د ا د کے مطابق یہ ایوان بیگم کلثوم نواز کے انتقال پر انتہائی افسوس کا اظہار کرتا ہے ،ان کی جمہوریت کی مضبوطی اور سر بلندی کیلئے نا قابل بیان خدمات ہیں۔انہوں نے ایک ڈکٹیٹر کیخلاف جمہوریت کی سربلندی کی جنگ لڑ ی جس کے اعزاز میں یہ ایوان ان کو مادر جمہوریت کا خطاب دیتا ہے۔یہ ایوان ان کے بلند درجات کیلئے دعا گو ہے۔قرارداد پیش ہونے کے فوراً بعد ن لیگ کی رکن عظمیٰ بخاری نے نکتہ اعتراض پر سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ پورے ہاؤس کے سپیکر ہیں آپ کو غیر سیاسی ہو کر ہاؤس چلانا چاہیے کسی جماعت کا سپیکر نہ بنیں پرسوں آپ نے ایک ٹی وی پر جو بیان دیا وہ آپ کے عہدے کو سوٹ نہیں کرتا آپ کو اپنی کرسی کا خیال کرنا چاہیے آپ کا جو ماضی میں کردار رہا ہے سب کو معلوم ہے،جس کے جواب میں سپیکر چوہدی پرویز الٰہی نے کہا میں تو آپ کا ڈانس بھی برداشت کرتا رہا ہوں اب آپ لوگ بھی برداشت کریں،اگر آپ کا یہی طریقہ کار رہا تو پھر ہمیں بھی سوچنا پڑھے گا کہ اپوزیشن کے ساتھ کیا کرنا ہے،میں ایسے ہاؤس نہیں چلنے دو ں گا جس کے جواب میں عظمیٰ بخاری نے کہا ہم بھی ایسے ہاؤس نہیں چلنے دینگے۔ٍجس کے بعد ایوان میں ہنگامہ شروع ہو گیا ،اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے کہا ہاؤس کی کارروائی اچھے طریقے سے چلنی چاہیے ،جو معاملات طے ہوئے ہیں اس کے مطابق ہی ہاؤس چلایا جائے۔انہوں نے سپیکر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا آپ نے بھی درست الفاظ استعمال نہیں کیا آپ کو الفاظ کا چناؤ کرتے خیال کرنا چاہیے،وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا سپیکر تمام ممبران کے معزز ہیں ان کا احترام سب کیلئے لازم ہے جو الفاظ سپیکر کیلئے استعمال کیے گئے وہ غیر مناسب تھے۔ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ میں جو بات طے ہوئی تھی اس کے مطابق ہاؤس چلنا چاہیے ،بعدازاں وقفہ سوالات کے دوران وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے ہاؤس کو بتایا گزشتہ کئی سالوں سے پورے صوبے میں پچاس فیصد آسامیاں خالی تھی جس کی وجہ سے میڈیکل سٹاف اور ڈاکٹرز کی کمی سامنے آرہی تھی اب ضمنی الیکشن کے بعد اس پر کام شروع ہو گا ،،بعدازاں وزیر قانون راجہ بشارت نے امن و امان ،پرائس کنٹرول اور مقامی حکومت پر بحث کا آغاز کردیا،انہوں نے کہا میں گزشتہ حکومت کی خامیاں بیان نہیں کرون گا بلکہ چالیس دن جو کام ہم نے کیا ہے پر بات ہو گی ،اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کا پنجاب اسمبلی میں امن و امان کی صورتحال پر خطاب میں اپنے دور حکومت میں امن و امان کے لئے اٹھائے اقدامات کا تذکرہ کیا ،انہوں نے کہا کہ میں اسد عمر سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے حکومت سنبھالتے ہی دو سو ارب ڈالر ملک میں لانے کا اعلان کیا،183 ارب کے نئے ٹیکس عوام پر لگائے گئےِ ہم فرشتے نہیں غلطیاں ہم سے بھی ہوئیِ آج ستر ارب کے ان ڈائرکٹ ٹیکس لگا دئے گئے ، ہمیں بہت کہا گیا کہ ریسکیو ڈبل ون ڈبل ٹو منصوبہ بند کیا جائے مگر ہم نے پرویز الہی آپ کے منصوبے کو آگے بڑھایا اس کا کریڈٹ آپ کو دینا چاہے، ہم نے بجلی کا وعدہ عوام سے کیا اور پورا بھی کیا مگر ہم نے کسی سے چندہ نہیں مانگا ،تحریک انصاف نے ایک کروڑ نوکریوں کا اعلان کیا، مگر حکومت کے اعلانات سے بے روزگاری کا سیلاب آئے گا ،حکومت کے اقدامات سے افراط زر بڑھے گا انڈسٹری کو سب سڈی ختم کر دی گئی، بجلی کی قیمتیں بڑھانے سے انڈسٹری کی قیمت بڑھے گی ماضی میں سب سے غلطیاں ہوئیں مگر کامیاب قومیں غلطیوں سے سیکھتی ہیں ،جب ہم آئے تو بجلی کے اندھیرے تھے چین نے اس پر ہمارے ساتھ تعاون کیا،آپ بلدیاتی اداروں میں بہتری لائیں مگر ان کو ختم نہ کریں ، قبل از وقت ختم کیا گیا تو اپوزیشن مزاحمت کرے گی ،ہم عدلیہ سے بھی رجوع کریں گے پہلے ہی حکومت پر دھاندلی زدہ ہونے کا الزام ہے اب بلدیاتی اداروں پر شب خون نہ مارا جائے۔بعد ازاں سپیکر چوہدری پرویز الٰہی نے ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا۔دریں اثناء پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں مزید چار ارکان نے حلف اٹھا لیا۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے تین اور تحریک انصاف کے ایک رکن نے حلف اٹھا یا۔سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الہی نے اراکین سے حلف لیا۔ حلف اٹھانے والوں میں مسلم لیگ ن کے میاں جلیل شرقپوری ، سیدہ عظمیٰ زعیم قادری ، نفیسہ امین اور تحری کانصاف کے سردار اویس دریشک شامل ہیں۔

پنجاب اسمبلی

مزید :

صفحہ اول -