گیس مہنگی ، نوٹیفکیشن جاری ، گوادر میں آئل ریفائنری کیلئے سعودی شراکت داری کے معاہدے اور مانیٹری اینڈ فسکل پالیسی بورڈ ممتاز معیشت دانوں کے دانوں کے تقرر کی منظوری

گیس مہنگی ، نوٹیفکیشن جاری ، گوادر میں آئل ریفائنری کیلئے سعودی شراکت داری ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں) گیس کی قیمتوں میں اضافہ، گیس صارفین پر 94 ارب روپے کا بوجھ ڈال دیا گیا، گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق 27 ستمبر سے ہوگا۔اوگرا کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن کے مطابق گیس کی قیمتوں میں 10سے 143 فیصد تک کا اضافہ کیا گیا ہے۔ نوٹیفیکیشن کے مطابق ماہانہ 50 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لئے فی یونٹ 10 فیصد، 51 سے 100 مکعب میٹرگیس استعمال کرنے والے صارفین کے لئے فی یونٹ 15 فیصد، 101 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لئے 20 فیصد، 201 سے 300 مکعب میٹر تک فی یونٹ 25 فیصد، 301 سے400 مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والوں کے لئے 30 فیصد ، کمرشل کے لئے 40 فیصد اور 501 سے زائد مکعب میٹر گیس استعمال کرنے والے صارفین کے لئے فی یونٹ 143 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ ماہانہ 50 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 252 سے بڑھ کر 275 روپے، ماہانہ 100 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 480 سے بڑھ کر 551 روپے، ماہانہ 200 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 1851 سے بڑھ کر 2216 روپے کر دیا گیا ہے جبکہ ماہانہ 300 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 2764 سے بڑھ کر 3449 روپے ہو جائے گا۔ماہانہ 400 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 9990 سے بڑھ کر 12980 روپے، ماہانہ 500 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والوں کا بل 12482 سے بڑھ کر 30339 روپے اور ماہانہ 500 کیوبک میٹر سے زائد گیس استعمال کرنے والوں کا بل 14973 سے بڑھ کر 36402 روپے ہو جائے گا۔حکومت کی جانب سے کمرشل صارفین کے لیے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کردیا گیا ہے۔ کمرشل صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 57 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے۔ فرٹیلائزر سیکٹر کے لیے گیس کی قیمتوں میں 40 سے 50 فیصد اضافہ کیا گیا۔ جنرل انڈسٹری اور کیپٹِو کے لیے قیمتوں میں 40 فیصد اور پاور سیکٹر کے لیے گیس کی قیمتوں میں 57 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ سیمنٹ سیکٹر کے لیے 30، سی این جی سیکٹر کے لیے قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ گیس کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق 27 ستمبر سے ہوگا۔۔

گیس قیمتیں

لیڈ دوسرا انٹرو

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر ، مانیٹرنگ ڈیسک ،نیوز ایجنسیاں )وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران گوادر میں آئل ریفائنری کے لیے پاک سعودی شراکت داری کے معاہدے کی منظوری سمیت کئی اہم فیصلوں کی توثیق کی گئی ہے۔ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران سرکاری اداروں میں تعیناتیوں اور معاشی حکمت عملی سے متعلق امور پر غور کیا گیا، وزیراعظم نے ضمنی مالیاتی بل منظور ہونے پر اطمینان کا اظہار کیا اور معیشت میں بہتری کے لیے اقدامات پر وزیر خزانہ اور ان کی ٹیم کو سراہا۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے ترکی کے تعاون سے نیشنل اسکل یونیورسٹی کے معاہدے کی توثیق کی جب کہ مانٹری اینڈ فسکل پالیسی بورڈ میں ممتاز معیشت دانوں کے تقرر کی بھی منظوری دی۔ کابینہ نے ڈائریکٹر جنرل اینٹی نارکوٹکس فورس کے لیے میجر جنرل عارف کی تعیناتی کی منظوری بھی دی۔ذرائع کے مطابق کابینہ نے وزیر خزانہ کو حاصل مختلف اداروں میں از خود تقرریوں کا اختیار واپس لے لیا جس کے بعد وزیر خزانہ صرف وزیراعظم کی اجازت سے ہی تقرریوں کے پابند ہوں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ کے فیصلے سے وزیر خزانہ کے 4 سرکاری بینکوں اور 4 ریگولیٹری اتھارٹیز کے چئیرمینوں کی تقرری کا اختیار واپس ہوگیا، گزشتہ دور حکومت میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے اسحاق ڈار کو تقرریوں کا اختیار دیا تھا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ کو 100 روزہ پلان کے اہداف کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ وزیراعظم کے ہاؤسنگ منصوبے سے متعلق ٹاسک فورس نے ابتدائی اقدامات سے کابینہ کو آگاہ کیا جب کہ وزیراعظم اس ماہ کے وسط میں 50 لاکھ گھروں کے منصوبے کا افتتاح بھی کریں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے دور میں غیر قانونی تقرر کیے گئے افراد کو برطرف کردیا گیا ہے۔فواد چوہدری کے مطابق صدر نیشنل بینک، زرعی ترقیاتی بینک، صدر ایس ایم ای بینک، ڈپٹی گورنر اسٹیٹ بینک شمس الحسن، مسابقتی کمیشن آف پاکستان کی چیرپرسن ایس ایم واڈیا کو عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ کابینہ نے سعودی عرب کے ساتھ گوادر میں آئل ریفائنری کے قیام کے معاہدے کی منظوری دے دی، سعودی عرب تیل و گیس کی تلاش سے متعلق 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کرے گا۔فواد چوہدری نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعظم ہاؤس میں ریسرچ یونی ورسٹی بنانے کی توثیق کردی ہے جب کہ وزیراعظم ہاؤس کے ملازمین کی تعداد 528 تھی جو اب صرف 5 رہ گئی تاہم کسی کو ملازمت سے نہیں نکالا گیا اور انہیں دیگر محکموں میں بھیجا جائے گا۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ملک میں 2 ہزار 67 قومی پراپرٹیز کا پتا لگایا گیا ہے، پرویز خٹک کی سربراہی میں کمیٹی قائم کی ہے جو ان عمارتوں کے متبادل استعمال کی حکمت عملی بنائے گی۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس کی 62 گاڑیاں فروخت کر کے 18 کروڑ روپے حاصل کیے جب کہ بھینسوں کو بیچ کر 23 لاکھ روپے حاصل ہوئے۔دریں اثنا وفاقی وزیر پیٹرولیم غلام سرور خان کا کہنا ہیکہ چین کو سی پیک میں سعودی سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے غلام سرور خان نے کہا کہ سعودی عرب نے گوادر اور سی پیک میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور چین کو سعودی سرمایہ کاری پر کوئی اعتراض نہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے فوری طور پر ریفائنری میں سرمایہ کاری کی خواہش کا اظہار کیا،طے کیاگیا کہ یہ جی ٹو جی معاہدہ ہوگا، سعودی عرب کے وزیر توانائی اس ماہ کے آخر یا اگلے ماہ دورہ کریں گے، کابینہ نے اس حوالے سے ایم او یو کی منظوری دی ہے، صلاحیت کتنی ہوگی اور دیگر متعلقہ امور طے ہوناباقی ہیں جب کہ معاہدہ طے پاتے وقت صوبائی حکومت کو بھی اعتماد میں لیں گے۔غلام 1سرور کا کہنا تھاکہ تیل کی تلاش کے لیے کھلی بولی کے ذریعے سرمایہ کاری لائیں گے، ملک میں چار پانچ آئل ریفائنریز کی ضرورت ہے، ریفائنریز کے لیے چینی، سعودی اور یواے ای سمیت کسی بھی ملک کو خوش آمدید کہیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے سعودی عرب سے تاخیری ادائیگی پر تیل لینے کی بات کرنا تھی لیکن پھر بات نہیں ہوئی، اس معاملے پرسعودی عرب ناراض نہیں۔

وفاقی کابینہ

مزید :

کراچی صفحہ اول -