نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے آفس سپرنٹنڈنٹ کو قواعد کے برعکس ترقی دیئے جانیکا انکشاف

نشتر میڈیکل یونیورسٹی کے آفس سپرنٹنڈنٹ کو قواعد کے برعکس ترقی دیئے جانیکا ...

  

ملتان ( وقائع نگار )نشتر میڈیکل یونیورسٹی دفتر میں افس سپرنٹنڈٹ کو سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر سال 2012 سروس رولز کے برعکس محکمانہ ترقی دیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ جو اس وقت قواعد کے خلاف سپرنٹنڈنٹ کے طور پر اپنے فرائض سرانجام دیرہا ہے۔۔ذرائع سے معلوم (بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

ہوا ہے کہ سابق وائس چانسلر نشتر میڈیکل یونیورسٹی نے اپنی ذاتی رنجش نکالتے ہوئے جان بوجھ کر اپنا بدلہ لینے کے نظریہ کو مدنظر رکھتے ہوئے میڈیکل یونیورسٹی کے سپرنٹنڈنٹ مظہر بھٹہ جو دس سال سے زائد عرصہ سے بطور سپرنٹنڈنٹ کام۔کر رہا تھا۔اسکی محکمانہ ترقی کو خلاف قوانین بنا کر ایک انکوائری کمیٹی بنائی۔جس کی رپورٹ بھی اپنی مرضی سے بنوائی گئی۔اور پھر اس رپورٹ کی روشنی میں خلاف قانون محکمانہ ترقی کا ذکر کرکے سپرنٹنڈنٹ مظہر بھٹہ کے خلاف ایکشن لیا گیا۔اور پھر اسکی سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے تنزلی کردی گئی۔ واپس گریڈ 16 میں سینئر سٹینوگرافر بنا دیا۔ اس کے بعد افس اسٹنٹ قمر محمود کو بھی ٹیکنیکل طریقہ استعمال کرتے ہوئے سپر نٹنڈنٹ کے عہدہ پر ترقی دی۔حالانکہ افس سپرنٹنڈنٹ سے سپرینٹنڈنٹ کے عہدیپر ترقی حاصل کرنے کیلئے محکمانہ طور سروس رولز 2012 کے تحت چھ ہفتے کا تربیتی کورس کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق مگر اس کے باوجود سابق وائس چانسلر نے سروس رولز کو پس پردہ رکھ کر قمر محمود کو افس اسٹنٹ سے گریڈ سترہ میں بطور سپرنٹنڈنٹ ترقی دی۔اور نشتر ہسپتال میں بطور سپرنٹنڈنٹ تعینات کر دیا تھا۔واضح رہے مظہر بھٹہ نے سابق وائس چانسلر کی جانب سے بنائی گئی انکوائری کمیٹی کے فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کیا تو عدالت نے دوبارہ مظہر بھٹہ کی محکمانہ ترقی کے کیس کا جائزہ لینے کیلئے سینڈیکیٹ سے کہا۔جس کا فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔جبکہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ترقی رولز کے خلاف نہیں ہوسکتی۔مگر پھر بھی اس کیس کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔

قواعد کے برعکس

مزید :

ملتان صفحہ آخر -