لوڈشیڈنگ نے عوام کو اذیت سے دوچار کر دیا ہے ‘حافظ نعیم الرحمن

لوڈشیڈنگ نے عوام کو اذیت سے دوچار کر دیا ہے ‘حافظ نعیم الرحمن

  

کراچی (اسٹاف رپورٹر)جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے کے الیکٹرک کی جانب سے شہر میں طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور ناقص ترسیلی نظام کے باعث شہر کے بیشتر علاقوں سے بجلی غائب ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کی نا اہلی اور ناقص کارکردگی ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی ہے اور ثابت ہو گیا ہے کہ کے الیکٹرک کا ترسیلی نظام تھوڑی سی موسم کی تبدیلی بھی برداشت نہیں کر پاتا ۔ بار بار توجہ دلانے اور احتجاج کر نے کے باوجود بھی کے الیکٹرک نے اپنا ترسیلی نظام کو درست نہیں کیا ۔30گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ اور ناقص ترسیلی نظام نے عوام کو شدید ذہنی و جسمانی اذیت کا شکار کر دیا ہے،بعض علاقوں میں مرمت کے نام پر صبح سے شام تک بجلی بند کر کے عوام کو مسلسل تنگ کیا جارہا ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کے الیکٹرک جیسے بے لگام گھوڑے کو کوئی لگام دینے والا نہیں ہے اور نیپرا بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے اور درپردہ کے الیکٹرک کو سپورٹ کیا جا رہا ہے ، شہر کے مختلف علاقوں میں 12سے 14گھنٹے جبکہ اعلانیہ سات سے آٹھ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے ، انہوں نے کہاکہ 3دن میں 30گھنٹے سے زیادہ بجلی غائب رہی اور کے الیکٹرک کی نااہلی اور ناقص نظام کے سبب ایک کے بعد ایک بریک ڈاؤن ہواجبکہ دوسری جانب گزشتہ روز پھٹنے والی لائن کی مرمت کی جارہی تھی کہ بجلی کی اچانک بندش سے دوسری لائن بھی پھٹ گئی جس کے باعث شہر کو 23کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک کا NTDC(نیشنل گرڈ)سے بجلی کی کمی کا بہانہ اور بد ترین لوڈ شیڈنگ کو عارضی لوڈ منیجمنٹ کا نام دینا عوام کو دھوکا دینے کی کوشش ہے ، حکومت شہر میں بجلی کی بندش سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال کا نوٹس لے اور عوام کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے نجات دلائے ۔حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ لوڈ شیڈنگ سے شدید متاثرہ علاقوں میں لانڈھی ،کورنگی ، ملیر، شاہ فیصل کالونی ، گلشن اقبال ، نارتھ کراچی، فیڈرل بی ایریا ، لیاقت آباد ، گلبہار، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد ،گلشن معمار ،بلدیہ ٹاؤن، اورنگی ٹاؤن، کیماڑی، لائنز ایریا ، منظور کالونی ، محمود آباد، ڈیفنس ا ور کلفٹن سمیت دیگر علاقے میں شامل ہیں اور خود کے الیکٹرک کے اعلان کردہ مستثنیٰ علاقوں میں بھی لوڈ شیڈنگ کی جاری ہے ۔کے الیکٹرک اپنی نااہلی کو ختم کرے اور کارکردگی کو بہتر بنائے وہ اپنی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے بجائے کبھی نیشنل گرڈ سے فراہمی میں کمی اور کبھی گیس کی کمی کا بہانہ بناکر عوام کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کردیتی ہے ۔ بجلی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کے الیکٹرک خود کوئی ٹھوس اقدامات نہیں کرتی ، فرنس آئل کے پلانٹ کو فعال اور پیداوار کے قابل نہیں بناتی ، جب تک کے الیکٹرک کے خلاف سخت تادیبی کاروائی نہیں کی جائے گی اور اسے اپنی پیداوار بڑھانے اور ناقص ترسیلی نظام کو بہتر کر نے پر مجبور نہیں کیا جائے گا کراچی میں بجلی کا بحران ختم نہیں ہوگا، کے الیکٹرک وفاقی حکومت کے ماتحت ہے اور پی ٹی آئی کی نئی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے ۔ سندھ حکومت بھی اس صورتحال سے خود کو بر الذمہ قرار نہیں دے سکتی ۔ کراچی کے ڈھائی کروڑ سے زائد عوام کے اس مسئلے کو حل کرانے کے لیے سندھ حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیئے ۔#

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -ملتان صفحہ آخر -