صحت کا شعبہ کبھی بھی پیپلزپارٹی کی ترجیح نہیں رہا ہے،ڈاکٹرعمران شاہ

صحت کا شعبہ کبھی بھی پیپلزپارٹی کی ترجیح نہیں رہا ہے،ڈاکٹرعمران شاہ

  

کراچی(اسٹاف رپورٹر)پاکستان تحریک انصاف کے رکن سندھ اسمبلی ڈاکٹرعمران علی شاہ نے کہا ہے کہ صحت کا شعبہ کبھی بھی سندھ حکومت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہا ہے ۔صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان ہے ۔عملے کی کمی اور دیگر مسائل کی وجہ سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ہم صوبہ سندھ میں صحت کے حوالے سے درپیش مسائل ایوان میں اٹھائیں گے ۔ان خیالا ت کا اظہار انہوں نے میڈیا سے خصوصی با ت چیت کرتے ہوئے کیا ۔ڈاکٹرعمران علی شاہ نے کہا کہ غریب عوام کا بھی علاج کا اتنا ہی حق ہے جتنا کے امیر آدمی کا، سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں صفائی کا انتظام نہیں ہے ۔وزیر صحت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سندھ میں صحت کا نظام بہتر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں شعبہ صحت حکومت سندھ کی ترجیح میں نہیں رہا ہے اب ہم صوبہ سندھ میں صحت کے حوالے سے درپیش مسائل پر سندھ اسمبلی میں آواز بلند کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے سرکاری اسپتالوں میں سہولتوں کا فقدان ہے اسپتالوں میں ناقص کارکردگی کی وجہ عملے کی کمی ہے ڈاکٹرز،نرسوں پیرامیڈیکل اسٹاف خاکروب کی کمی کی وجہ سے اسپتالوں میں مریضوں کو علاج و معالجے میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ڈاکٹرعمران علی شاہ نے کہا کہ اسپتالوں میں پڑا سامان زنگ آلود ہوگیا ہے اور یہی صورت حال ایمبولینسوں کی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب تک کسی سرکاری اسپتال کا دورہ نہیں کیا لیکن دورہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں جلد ہی سرکاری اسپتالوں کا غیر اعلانیہ دورہ کرونگا دورہ کرنے کا مقصد کسی کی توہین کرنا نہیں ہوگا بلکہ اسپتال چلانے کے لیے بہتر پالیسی اور مریضوں کو سہولیات دینے کی طرف سندھ حکومت کو توجہ دلانا ہوگی۔ انہوں نے کہا ہم پی ٹی آئی کے پہلے سند ھ اسمبلی میں تین ارکان تھے جو اب 30ہوچکے ہیں ۔جہاں بھی کوئی مسئلہ ہوا ہم حکومت سندھ کو اس کی نشاندہی کریں گے۔ اپوزیشن کا کام ہی مسائل پر حکومت کی توجہ دلانا ہے۔ انہوں نے کہا میں عمر کوٹ گیا وہاں کے سرکاری اسپتالوں میں سرجن ہے تو بیہوشی کا ڈاکٹر نہیں ہے آپریشن تھیٹر ہے تو بیہوشی کی مشینیں نہیں ہے ۔میں نے ان مسائل پر بات کی تو وزیر صحت سندھ نے کہا کہ ہم ان مسائل کو جلد حل کریں گے اور انہوں نے میرا شکریہ بھی ادا کیا کہ میں نے ان کی توجہ مسائل پر دلائی۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -ملتان صفحہ آخر -