جب ایک حیادار کی آہ سے آسمانوں پر لرزہ طاری ہوگیا

جب ایک حیادار کی آہ سے آسمانوں پر لرزہ طاری ہوگیا
جب ایک حیادار کی آہ سے آسمانوں پر لرزہ طاری ہوگیا

  

اللہ مومن کی حیا کا پاس رکھتا ہے ۔حیا ایمان کا سترہواں حصہ ہے اور جس نے حیا کا پس کیا ،اللہ پر ایمان و توکل رکھا ،اللہ نے اسکی حیا کو مراد میں بدل دیا۔ نبی اکرمﷺ کی ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ اللہ کے رسولﷺ دعاکیاکرتے تھے کہ اے اللہ،مجھے فقرامیں سے اٹھانا۔میں نے پوچھاکہ آپﷺ دوجہانوں کے بادشاہ ہیں،کوئی اچھی چیزمانگئے۔اللہ کے رسولﷺ کہتے ہیں،یہ فقیرجوہوتے ہیں،وہ قیامت سے بھی چالیس برس پہلے بلاحساب جنت میں پہنچادیے جائیں گے۔اب ہماری کیاخواہش ہے،کہ ہم نے لینا کیا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے کچھ غریب صحابہؒؓ کو اکٹھا کیااورانہیں پوٹلیاں بناکردیں۔ان میں ستو،کھجوریں وغیرہ رکھیں کہ جہاد پرجارہے ہو،کام آئیں گی۔

ایک صحابیؓ کونبی اکرم ﷺپوٹلی دینابھول گئے اورانہوں نے مانگی بھی نہیں۔یہ حیاہے۔حضورنبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ ایمان کی سترشاخوں میں سے ایک شاخ حیاہے۔لیکن جس میں حیانہیں،اس پرسے اللہ نے اپناہاتھ اٹھالیا۔وہ جوجی چاہے کرے۔اللہ کے رسولﷺ نے فرمایاکہ یہ ایمان مجھے اس وقت اللہ کے قریب لے کرجائے گاجب وہ مجھ سے گفتگوکرے گا۔

جس صحابیؓ کوپوٹلی نہیں ملی تھی،اس نے مانگی بھی نہیں اورسب سے پیچھے چلتاجارہاہے اورکہتاجارہاہے کہ اے اللہ،تیرارسولﷺ تومجھے پوٹلی دینابھول گیا،لیکن توتودیکھ رہاہے کہ مجھ سے مانگانہیں گیاحالانکہ تیرارسولﷺ مجھے پوٹلی دینابھول گیا۔لیکن تواپنے بندوں کونہیں بھولتا۔اس پرجبرائیل ؑ نہایت تیزی سے نبی اکرمﷺ کے پا س آئے اورعرض کیا’’ یارسول اللہﷺ ،اس صحابی کے پا س بھاگ کرآئیے،اس صحابی کی آہ نے ساتوں آسمانوں پر قہر برپا کر دیا ہے‘‘ جبرائیلؑ نے کہا’’ جب آپﷺ پوٹلی اسے دیں توسنیں کہ وہ کیاکہتاہے‘‘جب اس نے پوٹلی پکڑی تواللہ سے کہتاہے’’اے اللہ،مجھے ایک توفیق دے کہ جس طرح تو نے مجھے یادرکھاہے،میں بھی تجھے یادرکھوں‘‘یہ فقرہ جبرائیلؑ نے نبی اکرمﷺ کوبتایاکہ اس صحابیؓ نے کہاہے ’’ اے اللہ ،مجھے توفیق دے کہ جس طرح تونے مجھے یادرکھا،میں بھی تجھے یادرکھوں‘‘جبرائیلؑ نے کہاکہ اللہ نے اس کی بات سننے پرلوگوں کی حاجتیں پوری کردیں۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں،ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید :

بلاگ -