فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر529

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر529
فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر529

  

کے آصف نے ’’مغل اعظم‘‘ کے لئے شیش محل کا سیٹ تعمیر کرایا جس پر اس زمانے میں دس لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ اس کی دیواروں پر اور چھت پر شیشہ کاری ہوئی تھی۔ سیٹ پر قدم رکھو تو ہر طرف اپنا ہی عکس نظر آتا تھا۔ بمبئی کے فلمی جگادریوں نے اس پر بہت مذاق اڑایا کہ ہر طرف تو آئینے لگے ہیں۔ فوٹو گرافی کیسے ہو گی؟۔ کیمرہ اور یونٹ کے لوگ کہاں جائیں گے اور لائٹس کا عکس آئینوں میں لازماً نظر آئے گا۔ یار لوگوں نے یہ بات سرمایہ کار سیٹھ شاہ پور جی۔ پالن جی (یہ دو ارب پتی بھائی تھے) کو بھی سنا دی اور کے آصف کے خلاف خوب بھڑکایا۔ وہ پہلے ہی تنگ آئے ہوئے تھے۔ سالہا سال سے فلم بن رہی تھی مگر مکمل ہونے میں نہیں آتی تھی۔ آصف سے براہِ راست سوال نہیں کر سکتے۔ اس اثناء میں پانی کی طرح پیسہ بہایا جا رہا تھا۔

لوگوں کے بہکاوے میں آ کر شاہ پور جی، پالن جی نے سوچا کہ آصف کی جگہ کسی اور ہدایت کار کو لے کر فلم مکمل کر لی جائے۔ ہر ہدایت کار نے آصف کے ڈر سے کانوں کو ہاتھ لگائے کیونکہ وہ انتہائی جھگڑالو اور تند خو مشہور تھے۔ فلمی دنیا میں ’’آصف دھانسو‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ بالآخر قرعہ فال ایس ایم یوسف صاحب کے نام نکلا۔ یوسف صاحب نے معذرت کر دی کہ اس قسم کی فلمیں بنانا میری روش نہیں ہے۔ لوگوں نے کہا۔ چلئے ایک بار چل کر شیش محل کا سیٹ تو دیکھ لیجئے اور بتائیے کہ اس پر شوٹنگ کیسے ممکن ہے؟

فلمی و ادبی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔قسط نمبر528پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

ایس ایم یوسف صاحب بڑے ہدایت کار تھے اور بہت نیک نام اور شریف انسان بھی تھے۔ اصرار پر سیٹ دیکھنے چلے گئے۔ آصف کو پتا چلا تو اس نے یوسف صاحب کو پیغام بھیجا کہ اگر کوئی اور ہدایت کار میرے سیٹ پر جاتا تو میں اس کی ٹانگیں توڑ دیتا مگر آپ کا بہت احترام کرتا ہوں۔ آپ شوق سے شوٹنگ کیجئے اور شیش محل کے سیٹ پر ایک سین فلما کر دکھا دیجئے تو آپ کو مان جاؤں گا۔

یوسف صاحب پہلے ہی انکار کر چکے تھے۔ انہوں نے سیٹھوں سے بھی معذرت کر لی۔ حقیقت یہ ہے کہ شیش محل کے سیٹ پر فلم بندی کرنا ایک ناقابلِ یقین اور حیرت انگیز بات تھی مگر کے آصف نے کیمرا مینوں اور ماہرین کے مشورے سے بہت مفصل منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ جب فلم ریلیز ہوئی تو یہ سیٹ اور اس پر فلمائے گئے مناظر قابلِ دید اور ناقابل یقین تھے۔

’’مغل اعظم‘‘ خدا خدا کر کے مکمل ہو گئی تو سیٹھوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اب اس کی پبلسٹی کا مرحلہ آ گیا۔ پبلسٹی کے لئے پچاس لاکھ کا بجٹ بنایا گیا جو کہ اس زمانے میں ایک عام فلم کی لاگت ہوا کرتی تھی۔ ملک کا ہر شہر اور چپا چپا ’’مغل اعظم‘‘ کی خوبصورت پبلسٹی سے سجا دیا گیا۔ کے آصف کو معلوم تھا کہ فلم بینوں کا اشتیاق انہیں فلم دیکھنے پر مجبور کر دے گا۔ اس فلم کی ایڈوانس بکنگ پر پٹرول پمپ اور بڑے بڑے اسٹورز پر کی جا سکتی تھی۔ یہ اپنی نوعیت کی انوکھی اور پہلی مثال تھی۔ تماشائی ایڈوانس بکنگ کے لئے سینما گھروں، پٹرول پمپوں اور اسٹورز پر ٹوٹ پڑے۔ ’’مغل اعظم‘‘ نے ملک میں آمدنی کا ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا۔

مگر یہ سب باتیں اب قصہ پارینہ ہو چکی ہیں۔ بھارتی میڈیا میں اب ان کا تذکرہ بھی نہیں کیا جاتا۔ اب نہ ’’مغل اعظم‘‘ (پرتھوی راج) ہیں نہ انار کلی (مدھو بالا) کے آصف بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ اس داستان کا اہم کردار دلیپ کمار ہی اب بقیدِ حیات ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ’’مغل اعظم‘‘ کا آغاز اس کی تکمیل، اس کا اعلیٰ معیار اور اس کی بے پناہ کامیابی کے آصف کا ناقابل فراموش کارنامہ تھا۔ ایک ان پڑھ، اجڈ اور اکھڑشخص نے ہندوستان کی فلمی تاریخ بدل کر رکھ دی تھی۔ آج کی ’’دیوداس‘‘ تو اس کے مقابلے میں سوائے گلیمر کی بھرمار کے اور کچھ نہیں ہے۔

*۔۔۔*۔۔۔*

پچھلے دنوں سعادت حسن منٹو صاحب کے بارے میں ایک مضمون پڑھا جس میں ان کی انفرادی تحریروں اور باغیانہ سوچ کا تذکرہ کیا گیا تھا۔ منٹو صاحب کے افسانوں اور کہانیوں پر اس زمانے میں جتنے مقدمات ان کے خلاف دائر کئے گئے شاید ہی کسی دوسرے افسانہ نگار کو یہ اعزاز حاصل ہوا ہو۔ منٹو صاحب جب بمبئی میں تھے تو مقدموں کی پیروی کرنے کے لئے لاہور آیا کرتے تھے۔ طویل سفر اور دوسری صعوبتیں برداشت کرتے تھے اور اخراجات الگ۔ کسی ناشر کو تو یہ توفیق تک نہ ہوتی کہ ان کے مقدمات کا خرچہ ہی اٹھا لیتا مگر منٹو کی ہٹ دھرمی یا اصول پرستی ملاحظہ ہو کہ وہ خدا کا بندہ بھی اپنی مرضی کی کہانیاں لکھنے سے باز نہیں آیا۔ دیکھا جائے تو فیض صاحب کا یہ شعر ان ہی پر صادق آتا ہے کہ ۔۔۔

لکھتے رہے جنوں کی حکایاتِ خونچکاں

ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

منٹو کو بھی ایک جنونی یہ سمجھ لیجئے۔ ان پر جس چیز کا جنون سوار ہو جاتا تھا پھر دوا دارو، تعویذ گنڈے سب بیکار ہو کر رہ جاتے تھے۔ انہوں نے اپنی ساری عمر اپنی مرضی اور پسند کے مطابق گزار دی۔ مختصر سہی لیکن پھر بھی یہ احساس کیا کم ہے کہ جو جی میں آیا وہی کیا اور اس مختصر سی عمر میں بھی منٹو نے کہانیاں لکھنے کا ایک ناقابل شکست ریکارڈ قائم کر دیا۔ ان ہی میں بہت سی کہانیاں شاہکار بھی تسلیم کی جاتی ہیں۔ کہانی لکھنے اور کردار سازی کی خدا داد صلاحیت اللہ کی دین تھی۔ منٹو صاحب نے اس نعمت کو دونوں ہاتھوں سے بے دریغ لٹایا۔ لوٹنے والوں میں خود غرض اور مفاد پرست ناشر شامل تھے۔ کوئی ایک بھی تو ایسا نہیں تھا جس نے منٹو کی بے بسی اور مجبوریوں اور اس کی عظمت کا نہ سہی کم از کم خدا کا خوف ہی کیا ہوتا۔ مگر ایک لحاظ سے انہیں یہ کریڈٹ دیا جا سکتا ہے کہ نہ وہ منٹو کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے بیدردی سے ان کی صلاحیتوں کو نچوڑتے اور نہ اردو ادب اتنے بہت سے شہ پاروں سے مالا مال ہوتا۔ ممکن ہے یہی ثواب ان کے کھاتے میں لکھ دیا جائے اور بخشش کا کوئی سامان ہو جائے۔ انہوں نے پیسے بٹورے اور اردو ادب کو شاہکار نصیب ہو گئے۔

منٹو صاحب کے ساتھ ہی عصمت چغتائی کا ذکر بھی آ گیا۔ اگر مردوں میں منٹو صاحب فحاشی پھیلا رہے تھے تو خواتین میں یہ کارنامہ عصمت چغتائی بڑی مستقل مزاجی سے سرانجام دے رہی تھیں۔ اگر منٹو نے ’’بو‘‘۔ ’’ٹھنڈا گوشت‘‘ اور ’’کھول دو‘‘ جیسی کہانیاں لکھیں تو عصمت چغتائی نے ’’لحاف‘‘ جیسا افسانہ لکھا جس پر سارے ملک میں بہت لے دے ہوئی مگر اس افسانے سے عصمت چغتائی کو بے پناہ شہرت بھی حاصل ہوئی۔ ان کا قلم بھی منٹو کے قلم کی طرح بے باک تھا۔ وہ بھی اپنے ماحول کے ڈھکے چھپے کرداروں کی تصور کشی کرتی تھیں، خصوصاً اس زمانے کے متوسط طبقے کی لڑکیوں کے پس پردہ جذبات و احساسات کی تصویر کشی کرنے میں انہیں جو ملکہ حاصل تھا وہ کسی دوسری مصنفہ کے حصے میں نہیں آیا۔ اس پر ان کا تیکھا اندازِ بیان، بے باک اور شوخ و شنگ فقرے اور زبان اور محاوروں کی چاشنی نے ان کے افسانوں کو ایک بالکل ہی جداگانہ حیثیت دے دی تھی۔

منٹو صاحب سے ہمیں ذاتی طور پر ملاقاتوں کا اعزاز حاصل رہا ہے اور ہم نے مختلف اوقات میں ان کے بارے میں بہت کچھ لکھا ہے لیکن۔۔۔

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

موقع ملا اور زندگی رہی تو ان کا یہ حق بھی ضرور ادا کریں گے۔ عصمت چغتائی سے ہماری شناسائی محض مطالعے کی حد تک ہی رہی لیکن ان کی تحریروں اور ان کے بارے میں لکھے گئے مضامین کی وجہ سے یوں لگتا تھا جیسے ہم انہیں ذاتی طور پر بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ وہ بہت اپنی اپنی سی لگتی تھیں۔ ان کی تصویریں بھی دیکھتے رہے تھے اور ان کے بارے میں ایک خیالی تصویر بھی بنا رکھی تھی۔ جب وہ لاہور تشریف لائیں تو شباب کیرانوی صاحب نے اپنے اسٹوڈیو میں ان کے اعزاز میں لنچ کا اہتمام کیا تھا۔ اس موقع پر ہمیں بھی ان سے میں ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ پہلی بار وہ 1976ء میں پاکستان آئی تھیں اور دوسری بار 1985ء میں لاہور کا دورہ کیا۔ ہماری ملاقات ان کے دوسرے دورے میں ہوئی تھی جو کہ ان کا آخری دورہ پاکستان تھا۔ انہیں ہم بچپن سے پڑھتے آ رہے تھے مگر اس زمانے میں ان کے بھائی عظیم بیگ چغتائی ہمارے پسندیدہ مصنف تھے۔ ان کی مزاحیہ کہانیاں اور ناول آج بھی ہمیں یاد ہیں۔ عظیم بیگ چغتائی نے اس زمانے میں اپنے مخصوص طرزِ نگارش اور اسلوب کی وجہ سے مزاح نگاری میں نام پیدا کیا تھا جب اور بھی کئی نامور مزاح نگار اردو ادب کو اپنی تحریروں سے دوام بخشنے میں مصروف تھے مگر ہر ایک کا انداز جدا اور موضوعات بالکل مختلف تھے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید :

کتابیں -فلمی الف لیلیٰ -