اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 50

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط ...
اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 50

  



سکندر اپنی فوجوں کے ساتھ ایران کے دارالحکومت میں داخل ہوگیا۔ ایرانی دوبار کے لئے یہ شکست ناقابل یقین تھی۔ شاہی محلات میں ایک کہرام مچ گیا۔یونانی جرنیلوں نے محل میں داخل ہو کر شہنشاہ دارا کی بیوی اور لڑکیوں کو حراست میں لے لیا مگر دارا فرار ہوچکا تھا۔ اس کا شاہی رتھ بان اسے لے کر خفیہ راستے سے قلعے سے نکل گیا تھا۔ سکندر اپنے دستہ خاص کے ساتھ اس کے تعاقب میں روانہ ہوگیا۔ شہنشاہ دارا نے بیش قیمت ہار پہن رکھے تھے اور اس کے لباس اور تاج میں انمول نادر جواہرات جڑے تھے۔ شاہی رتھ بان کی جنگل میں پہنچ کر نیت خراب ہوگئی۔ ایک جگہ ایران کا شکست خوردہ بادشاہ چشمے سے پانی پینے کے لئے رکا تو غدار رتھ بان نے پیچھے سے تلوار کا وار کر کے دارا کو شدید زخمی کر دیا اور اس کا تاج اور جواہرات نوچ کھسوٹ کر فرار ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد سکندر بھی تعاقب کرتا وہاں پہنچ گیا۔ میرا گھوڑا سکندر کے ساتھ ساتھ دوڑ رہا تھا۔ پیچھے ایک جرنیل اور ایک سو بیس لشکریو ں کا دستہ تھا۔ ایران کا جلال آور شہنشاہ زمین پر شدید زخمی حالت میں پڑا آخری سانس لے رہا تھا۔ سکندر گھوڑے سے اترا اس نے شہنشاہ کا باوقار سر اپنے زانو پر رکھ کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔سکندر کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ دارا نے اپنی آنکھیں کھولیں اور سکندر کو دیکھا اور کہا۔ ’’ اس عالم فانی کے ان گنت دروازے ہیں جن میں سے اس دار فانی کے مکین داخل ہوتے ہیں اور گزر جاتے ہیں۔‘‘

اہرام مصر سے فرار۔۔۔ہزاروں سال سے زندہ انسان کی حیران کن سرگزشت‎۔۔۔ قسط نمبر 49پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

سکندر نے کہا۔’’ اے عظیم شہنشاہ ! میں زیوس دیوتا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے زندگی میں کبھی ایسے منحوس دن کی خواہش نہیں کی تھی کہ تمہارا گرد آلود بے تاج سر میرے زانو پر ہوگا اور خون تمہارے رخساروں پر بہہ رہا ہوگا۔ ‘‘

سکندر کے اس مکالمے کا میں عینی گواہ ہوں۔ پھر بھی اگر لوگ یہ کہیں کہ یہ ایک افسانوی روایت ہے جس میں سچائی کا شائبہ تک نہیں کہ سکندر ایسا عظیم اور باجبروت جرنیل ایک شکست خوردہ شہنشاہ کے ساتھ ایسی مہرو محبت کی بات کر سکتا ہے تو میں ان سے صرف ایک سوال کروں گا کہ اگر ایک لمحے کے لئے مان بھی لیا جائے کہ یہ ایک افسانوی روایت ہے تو پھر ایسی مہرو محبت اور حسن اخلاق کی افسانوی روایتیں چنگیز خان اور تیمور لنگ کے بارے میں کیوں مشہور نہیں اور جن لوگوں کو ان دو سپہ سالاروں نے مفتوح بنایا۔ انہوں نے ان کے بارے میں ایسے افسانوی قصے مشہور کیوں نہیں کئے؟ افسانوی روایتیں اور قصے کہانیاں یونہی مشہور نہیں ہو اکرتیں ان کی تہہ میں تھوڑی بہت سچائی ضرور ہوتی ہے۔

دارا نے سکندر کے پہلو میں دم توڑ دیا۔ دارا کے آخری رسوم اس کے مذہب کے مطابق پورے شاہانہ طریقے سے ادا کی گئیں۔ سکندر نے دارا کے قاتل رتھ بان کو پکڑوا کر عبرت ناک سزا دی۔ اب سکندر یونان کا بادشاہ نہیں تھا بلکہ وہ دارا کا جانشین اور پورے مشرق کا شہنشاہ تھا۔ سکندر کی فوج کا خیال تھا کہ انہیں لوٹ مار کی اجازت دے دی جائے گی لیکن یہ دیکھ کر انہیں سخت مایوسی ہوئی کہ سکندر نے نہ صرف انہیں ایسا کرنے سے سختی سے منہ کر دیا بلکہ وہ دارا کے درباریوں کو ان کے منصب دوبارہ واپس کرنے لگا۔ معزول وزراء کو پھر سے بحال کر دیا گیا۔ اس نے دارا کی بیٹی سے شادی کرلی۔ مشرقی شاہی دربار کے جاہ و جلال نے اس پر جادو کر دیا تھا۔ وہ بے دریغ بادہ و مینا سے کھیلنے لگا۔ اس نے اپنے جرنیلوں اور سپاہیوں میں بھی بے پناہ دولت تقسیم کی جس کے باعث وہ اس کے گن گانے لگے۔ تین ماہ تک جشن فح منانے کے بعد سکندر نے ہندوستان کا رخ کیا۔ کوچ سے ایک رات پہلے وہ شہنشاہ دارا کی جنت نظیر خواب گاہ میں سنجاب و سمور میں دھنسا سونے کا جام ہاتھ میں لئے مجھ سے کہنے لگا۔

’’ بطلیموس ! تم ہندوستان کے بارے میں کیا جانتے ہو؟ کیا تم کبھی اس پر اسرار ملک میں گئے ہو جس کے بارے میں میرے مخبر کہتے ہیں کہ وہاں زمین سونا اور جواہرات اگلتی ہے۔‘‘

میں ہندوتان کے شمال مغربی علاقے موہنجودڑو میں ایک پوری صدی گزار چکا تھا لیکن میں نے اس کے بارے میں سکندر کو کچھ نہ بتایا۔ صرف اتنا کہا۔

’’ ایسی ہی پر اسرار باتیں میں نے بھی ہندوستان کے بارے میں سنی ہیں لیکن کبھی اس ملک میں جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ ‘‘

سکندر نے سونے کا پیالہ سنگ سبز کے منقش ستون کے ساتھ مارتے ہوئے کہا۔

’’ بطلیموس قسم ہے زیوس دیوتا کی۔ میں ہندوستان کی سر زمین کو اپنے پاؤں تلے روند ڈالوں گا۔‘‘

اس مین کوئی شک نہیں تھا کہ سکندر کی فوج اس کی وفادار تھی او وہ بھی ہر فتح کے بعد ان پر بے شمار دولت لٹا دیتا تھا۔ ااگرچہ انہیں لوٹ مار اور عورتیں اغوا کرنے کی اجازت نہیں تھی لیکن وہ مفتوحہ لونڈیوں کو ان میں بانٹ دیتا تھا اور انہیں مال غنیمت میں شریک کرتا تھا۔ اس طرز سلوک نے لشکریوں کو سکندر کا گرویدہ بنا رکھا تھا اور وہ اس کے ایک اشارے پر کٹ مرنے کو تیار ہوجاتے تھے۔

سکندر کا عظیم الشان لشکر پہاڑوں ، وادیوں ، دریاؤں اور سنگلاخ میدانوں پر قبضہ کر کے وہاں اپنے گورنر تعینات کرتا چلا گیا۔ اب وہ پنجاب کے سر سبز و شاداب میدانی علاقے میں داخل ہوگیا تھا اور پھر دریائے جہلم کے کنارے راجہ پورس کے ساتھ یونانی فوجوں کا وہ تاریخی معرکہ کار زار گرم ہوا کہ جس میں اگرچہ سکندر کو فتح حاصل ہوئی مگر اس کے لشکریوں کی ہمت جواب دے گئی۔ وادی جہلم کے لوگ اس جاں بازی اور سرفروشی سے لڑے کہ اس سے پہلے یونانی فوج کا کسی نے اتنی شدت سے مقابلہ نہیں کی تھا۔ یونانی لشکری سوچنے لگے کہ اگر ہندوستان کے دروازے کے محافظ اتنی بے جگری سے لڑے ہیں تو آگے ان کے ساتھ کیا نہیں ہوگا۔ وہ اس حقیقت سے بے خبر تھے کہ آگے کچھ بھی نہیں ہے۔ مقابلہ کرنے والے پنجاب کے میدانوں میں ہی تھے آگے سارا میدان خالی پڑا تھا اور بعد میں تاریخ نے میرے اس نظریئے کو درست ثابت کر دیا۔ جو کوئی بھی بیرونی حملہ آور ہندوستان میں آیا اسے پنجاب میں بڑی سخت جنگ لڑنی پڑی۔ اس کے بعد دلی تک اسے میدان خالی ملا۔

ٍسکندر نے یہاں بھی اپنے روایتی حسن اخلاق کامظاہرہ کرتے ہوئے بہادر راجہ پورس کو اس کے دلیرانہ جواب پر اس کی سلطنت واپس کردی اور اپنی فوج کو آگے بڑھنے پر اکسایا مگر یونانی دل لرز چکے تھے۔ ویسے بھی انہیں اپنے وطن کو چھوڑے ایک مدت ہوچکی تھی۔ سکندر اپنی فوج کے آگے بے بس ہوگیا اس نے فوج کو دو حصوں میں تقسیم کیا اور واپس یونان کی طرف روانہ ہوگیا۔ میں سکندر کے ساتھ یونان واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ اس کی وجہ راجہ پورس کے شاہی محل کی ایک راجپوت کنیز روپا تھی جس کی سیاہ آنکھیں اور کنول کے پھول جیسے چہرے نے مجھ پر جادو کر دیا تھا۔ وہ راجہ پورس کی چہیتی کنیز تھی جب پورس کو اس کی سلطنت واپس ملی تو کنیز روپا بھی واپس اس کے پاس آگئی۔

روپا شاہی محل کی مرمریں جالیوں سے چھپ چھپ کر مجھے دیکھا کرتی تھی۔ راجہ پورس بھی مجھے پسند کرتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ میں اس کا شاہی طبیب بن کر اس کے پاس رہ جاؤں مگر سکندر مجھے اپنے سے ایک منٹ بھی الگ نہیں کرنا چاہتا تھا مصیبت یہ تھی کہ میں اس کے گہرے دوست بطلیموس کی حیثیت سے اس کے محل میں ظاہر ہوا تھا۔ لیکن جاتے ہوئے میں اپنی راجپوت محبوبہ روپا سے محل کی چھپ پرملا اور اس سے وعدہ کیا کہ میں بہت جلد یونان سے واپس آجاؤں گا۔

سکندر اعظم پورے ہندوستان کو فتح نہ کر سکنے کے خیال سے دل شکستہ تھا۔ اس نے بہت زیادہ پینی شروع کردی تھی۔ جس کی وجہ سے اس کی صحت گرنے لگی۔ مقدونیہ پہنچ کر وہ بیمار پڑ گیا۔ میں نے اپنے خاندانی پیشے کو بروئے کارلاتے ہوئے کئی جڑی بوٹیوں سے اس کا علاج شروع کر دیا۔ دربار کے شاہی طبیب میں اس کا علاج کر رہے تھے۔ مگر سکندر کی زندگی کے دن پورے ہوچکے تھے۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /اہرام مصرسے فرار